قدیم ترک روایات کا آج کے لیے پیغام

تحریر: ملک عاطف عطاء

ترکوں نے اپنی فتوحات کو منظر عام پر لانے کے لیے آج سے کچھ سال قبل بہادر جنگجوارطغرل غازی بن سلیمان شاہ کی بہادری اور مسلمان سپہ سالاروں کے عزم و حوصلے کو دکھانے کے لیے ڈرامہ ارطغرل غازی بنانے کا فیصلہ کیا، ترکی ایک عظیم الشان اسلامی ملک ہے جس کی تاریخ شاندار اسلامی روایات کی وجہ سے ہزاروں سال دنیا کی توجہ کا مرکز رہی، ارطغرل غازی بن سلیمان شاہ کا تعلق ترکی قبائل کی شاخ قبیلہ کائی سے تھا، کائی قبیلے کے لوگ بکریاں پالتے تھے اور گزر بسر بکریوں پر ہی ہوتا تھا، اس قبیلے کا سردار سلیمان شاہ اپنے عدل و انصاف میں مشہور تھا اور اس کی اس ہی اچھی عادت نے قبیلے کو جوڑا ہواتھا، کائی قبیلے میں کچھ لوگ غدار تھے جو صلیبیوں سے ملے ہوئے تھے اور ان کے ساتھ ملکر مسلمانوں کو نقصان پہنچانا چاہتے تھے لیکن ہر دفعہ رب کریم نے ان کی مدد فرمائی اور وہ دشمن کی چالوں کو بے نقاب کرتے ہوئے جہاد کر تے آگے بڑتے رہے۔

سلیمان شاہ کے انتقال کے بعد ارطغرل غازی کو قبیلے کا سردار بنا دیا گیا ، جس نے دین اسلام کے لیے بہت محنت کی اور ہمیشہ حق و سچ کا ساتھ دیا، غازی ارطغرل کے بعد اس کے چھوٹے بیٹے عثمان غازی نے سلطنت عثمانیہ کی بنیاد رکھی اور عثمان غازی اور دیگر مسلمان حکمرانوں نے تقریبا سوا 6 سو سال تک حکومت کی، ان کی حکومت 3 براعظموں تک پھیلی ہوئی تھی، خانہ کعبہ اور مدینہ منورہ کا انتظامی امور بھی ان ہی لوگوں کے پاس تھا۔

مزید پڑھیے: ارطغرل غازی۔۔۔ حمایت و مخالفت

تاریخ کے اوراق کو اگر پلٹا جائے تو ہم اس نتیجے پر پہنچے ہیں کہ جب تک ہم نے عدل و انصاف کے تقاضے پورے کیے، اپنے ایمان کو مضبوط رکھا اور اپنے مقصد کو تھامے رکھے ہم کامیاب رہے اور ایک طویل عرصے سے قائم حکومتی سلسلہ سو سال قبل صرف غداروں، سازشیوں اور عیاشیوں کی وجہ سے ختم ہوگیا، جب تک مسلمان کا ایمان مضبوط ہے وہ اللہ کے سوا کسی سے نہیں ڈرے گا، سلطنت عثمانیہ اور اس سے قبل بھی جتنے مسلمان حکمرانوں نے مختلف ادوار میں حکومتیں کیں ان کی کامیابی کے پیچھے ایمان اور انصاف تھا اور ان کا ظلم کیخلاف جہاد کا جذبہ تھا، وہ بنا رنگ و نسل اور مذہب جانے صرف انسانیت کے ناتے مظلوموں کی مدد کرتے تھے اور اپنی روایات کی پاسداری کرتے تھے، آج دنیا میں ہر جگہ مسلمانوں پر ہی ظلم ہورہا ہے لیکن امت مسلمہ خاموش ہے، دوسروں کو ظالموں سے نجات دلانے والے آج خود ظلم کا شکار ہیں۔

ترکی ڈرامے ارطغرل غازی نے پوری دنیا کے مسلمانوں میں ایک نیا جوش پیدا کردیا ہے، ڈرامے کی بڑھتی ہوئی مقبولیت نے پوری دنیا کی شوبز انڈسٹری کا بھٹہ بٹھا دیا ہے، ارطغرل غازی ڈرامہ کم اور ایک تحریک زیادہ بنتا جارہا ہے جس نے نہ صرف مقبولیت کے نئے ریکارڈ بنا دیے ہیں بلکہ یورپی ممالک اور اسلام دشمن قوتوں کی نیندیں بھی حرام کردی ہیں ، اس عظیم تاریخی فکشن کو رکوانے کے لیے یورپی دنیا اور غیر مسلم ممالک مختلف انداز سے کام کر رہے ہیں۔

پاکستان میں بھی وزیراعظم عمران خان کی ہدایت پر یہ ڈرامہ ہماری قومی زبان میں ڈبنگ کے ساتھ قومی چینل پر دکھایا جارہا ہے، جو کہ وزیراعظم عمران خان کا احسن قدم ہے ، تاریخی و حقیقت پر مبنی اس ڈرامے نے دیگر مسلم ممالک کی طرح پاکستان میں بھی نوجوانوں کی سوچ کو بدل کر رکھ دیا ہے، مسلمانوں کی تاریخ پر بنایا جانے والے اس ڈرامے نے امت مسلمہ میں ایک نئی تحریک کو بھی جنم دیا ہے، اس ڈرامہ کو دیکھنے کے بعد قوم بالخصوص نوجوان نسل کو اسلامی تاریخ کو پڑھنے اور مسلمان بادشاہوں کے بارے میں جاننے کی جستجو پیدا ہوگی اوروہ دنیا کی ظاہری چمک دمک کو چھوڑ کر اپنے مقصد کو جانیں گے، وہ قو میں تباہ ہوجاتی ہیں جو اپنی تاریخ اور ماضی کو بھول جاتی ہیں ، امید ہے کہ غازی ارطغرل ڈرامے کی حقیقی کہانی عالم اسلام میں انقلاب برپا کردے گی اور آنے والے دنوں میں ڈرامہ بہت سارے اسلام دشمن سازشوں سے بھی پردہ اٹھائے گا۔

مزید پڑھیے: قوم کا غیر سنجیدہ رویہ!

ترکی حکومت کا غازی ارطغرل کی عظیم کامیابیوں اور ظلم کیخلاف جنگ کے پیغام کو ڈرامے کی شکل میں نشر کرنے کا مقصد پوری امت مسلمہ کو اسلام دشمنوں کے خلاف متحد ہونے اور ظالموں کے خلاف جنگ کرنے کا پیغام ہے، غیر مسلم ممالک کی جانب سے اس ڈرامے کو رکوانے کے لئے سازشیں جاری ہیں اور شاید بھارت،جرمنی، فرانس، امریکہ سمیت مختلف ممالک میں غازی ارطغرل دکھانے پر پابندی عائد کردی گئی ہے کیونکہ غیر مسلم ممالک غازی ارطغرل کی بڑہتی ہوئی مقبولیت سے خوفزدہ ہیں اور ان کو اس بات کا خطرہ لاحق ہوگیا ہے کہ ایک سپہ سالار کی بہادری اور عدل و انصاف پر بنائے جانے والے ڈرامے نے طوفان برپا کردیا ہے تو اگر سارے مسلمان حکمرانوں کے قصے اور حکمرانیاں عام ہونے لگ گئیں تو پوری دنیا پر ایک دفعہ پھر سے مسلمانوں کی حکومت آجائےگی اور اس خوف کی دوسری بڑی وجہ ترکی کے سو سالہ معاہدے کے خاتمے کا بھی ہے جو تین سال بعد ختم ہونے جارہا ہے اور پھر ترکی ساری پابندیوں سے آزاد ہوجائے گا۔

ترکی کی آزادی سے سب سے زیادہ نقصان غیر مسلم قوتوں، یورپین اور مغربی ممالک کو ہوگا اس وقت بہت سارے ممالک میں غازی ارطغرل کو نشر نہ کرنے کے حکومتی احکامات جاری کردیے گئے ہیں اور یورپی ممالک دیگر مسلم ممالک میں بھی اس ڈرامے کو رکوانے کے لئے کوششیں کر رہے ہیں لیکن ہ میں امید ہے کہ وزیراعظم عمران خان بنا کسی قسم کے دباءو میں آئے اس ڈرامے کی مکمل اقساط کو قومی زبان میں ڈبنگ کےساتھ پاکستان میں نشر کرنے دیں گے تا کہ ہماری قوم اپنے عظیم اور بہادر مسلمان حکمرانوں کی طرز حکمرانی اور رعایا کے ساتھ کیے جانے والے حسن سلوک کو جان سکیں ، ارطغرل غازی کو نشر کرنے کامقصد آج کے مسلمان کو ماضی کے مسلمان حکمرانوں اور ان کی طرزحکمرانی کے ساتھ اس بات کی بھی یاد دلاناہے کہ مسلمان ہر وقت تیار رہتا ہے ، جہاد صرف اللہ کی راہ میں لڑنے کو ہی نہیں کہتے بلکہ ہر طرح کے ظلم کے سامنے آواز اٹھانے اور ظلم کے خلاف لڑنے کو جہاد کہتے ہیں اس لیے اپنے گھوڑوں کو ہمیشہ تیار رکھو۔

Comments: 0

Your email address will not be published. Required fields are marked with *