مسلمان خاتون کو عیسائی ثابت کرنے کی گمراہ کُن رپورٹ پر SHO کی عدالت طلبی

سندھ ہائی کورٹ

رپورٹ : شگفتہ خان

کراچی : سندہ ہائی کورٹ نے تھانہ پاکستان بازار کے ایس ایچ او اقبال تنیو کے قابل ضمانت وارنٹ گرفتاری جاری کر دئیے ، ایک لاکھ روپیہ کا مچلکہ جمع کرانے کی ہدایت جاری کردی ہیں ۔ ایس ایچ او پاکستان بازار کی جانب سے غیر قانونی اقدامات کی وجہ سے سندھ ہائی کورٹ کا دیا گیا نوٹس لینے بھی انکار کر دیا ۔

سندھ ہائی کورٹ نے مسلمان لڑکی کو جبراً کرسچن کرنے والے ملزمان کی سرپرستی کے الزام میں ایس ایچ او پاکستان بازار کو ذاتی طور پر طلب کیا تھا ۔ سندھ ہائی کورٹ کی ڈبل بینچ کے جسٹس محمد علی مظہر اور جسٹس یوسف علی سعید نے مسلمان لڑکی کو جبراً کرسچن کرنے والے ملزمان کی سر پرستی اور عدالتوں میں گمراہ کن رپورٹیں جمع کرانے اور شواہد کو مسخ کرنے جیسے الزامات میں ایس ایچ او پاکستان بازار کو ذاتی طور پر آج طلب کیا تھا اور حکومت سندھ سے رپورٹ طلب کی تھی ۔

مذید پڑھیں : خیبر پختون خوا کے IG ثناءاللہ عباسی خود کرپٹ نکلے

درخواست گذار نے 29 اپريل کو معزز عدالت میں درخواست دائر کی تھی ، جس میں موقف اختیار کہ پولیس نے شواہد کو مسخ کیا ، معزز عدالتوں میں جھوٹی رپورٹیں لگا کر عدالتوں کو گمرہ کیا ، پولیس افسران نے نامزد ملزمان کو بچانے کیلئے اپنے اختیارات کا ناجائز استمال کیا ۔ یہ ملزمان کی سرپرستی کے زمرے میں آتا ہے ۔ پولیس افسران کے اس اقدام سے مسمات کے مذہبی جذبات مجروح ہوئے ہیں ۔

جسٹس محد علی مظہر نے درخواست کو سماعت کیلئے منظور کرتے ہوئے ایس ایچ او پاکستان بازار اقبال تنیو کو ذاتی حیثیت میں 13 مئی کو طلب کرنے کا نوٹس جاری کیا تھا ۔ ایس ایچ او نے طاقت کے نشہ یا افسران بالا کی سرپرستی کے سبب سندھ ہائی کورٹ کا نوٹس لینے سے انکار کر دیا ۔ جس کی رپورٹ بیلف نے جمع کرا دی ہے ۔

مذید پڑھیں : تحفظ عزاداری کونسل کا یوم شہادت علیؓ سرکاری طور پر منانے کا مطالبہ

جس کے بعد معزز عدالت نے برہمی کا اظہار کیا اور تھانہ پاکستان بازار کے ایس ایچ او اقبال تنیو کے قابل ضمانت وارنٹ گرفتاری جاری کر دئیے ہیں اور ایک لاکھ روپیہ کا مچلکہ جمع کرانے کی ہدایت کر دی ہے اور حکومت سندھ سے جواب طلب کرتے ہوئے ہدایت کی کہ ایس ایچ او پاکستان بازار کو 28 مئی کو عدالت میں حاضر کیا جائے ۔ جب کہ نادرا نے درخواست گزار کے مسلمان ہونے کی تصديقی رپورٹ معزز عدالت میں جمع کرا دی ہے ۔ جس کے بعد مدعیہ کا دعوی درست ثابت ہو گیا ہے ۔

نادارا کی رپورٹ میں نامزد ملزم کے سنسنی خیز انکشافات ہوئے ہیں ۔ مبینہ طور پر ہندوستانی خفیہ ایجنسی” را ” کا بڑا نیٹ ورک پکڑا جانے کے امکانات پیدا ہو گئے ہیں ۔ درخواست گذار نے آئی جی سندھ اور ڈی آئی جی غربی کو بھی فریق بنایا ہے ۔

Comments: 0

Your email address will not be published. Required fields are marked with *