حکومت سندھ 16 برس میں اسپتال کی تعمیر مکمل نہ کر سکی

کراچی : سندھ حکومت نے کراچی کے شہریوں کو صحت کی سہولیات دینے کے لئے مضافاتی علاقوں میں اسپتال قائم نہیں کئے ہیں ۔ صحت کی سہولیات فراہم کرنے کے نام پر سالانہ اربوں روپے خرچ کرنے کے باوجود اسکیم 33 میٹروول تھری میں 100 بستروں کے اسپتال کو 16 سال بعد بھی مکمل نہیں کیا جا سکا ۔

حالانکہ اس عرصے میں 3 بار قائم علی شاہ اور 2 مرتبہ مراد علی شاہ سمیت 6 شخصیات وزرائے اعلیٰ رہ چکی ہیں ۔ سابق گلشن اقبال ٹاون کی حدود میں واقع میٹروول تھری بلاک ٹو کے سیکٹر 14 اے میں حکومت سندھ نے سال 2004ء میں تقریباً 3 ایکڑ رقبے کے پلاٹ پر 100 بستروں کے اسپتال کی تعمیر کا آغاز کیا تھا ۔ جس کا سنگ بنیاد اس وقت کے صوبائی وزیر منصوبہ بندی و ترقیات شعیب بخاری نے 4 اکتوبر 2004 کو رکھا تھا ۔

مذید پڑھیں : وفاقی حکومت کی مخالفت میں سندھ حکومت تا حال نویں تا بارہویں کے امتحانات کا فیصلہ نہ کر سکی

ان کے سنگ بنیاد کی تختی خراب ہونے کے باوجود لگی ہوئی ہے ۔ سنگ بنیاد رکھنے کی تقریب کے بعد 2 سال تک منصوبے پر کام جاری رہا لیکن عمارت تعمیر ہونے کے آخری مرحلے میں اچانک ہی اس منصوبے پر کام روک دیا گیا ۔ جو پھر دوبارہ شروع نہ ہو سکا ۔ حالانکہ ان 16 سالوں میں وزیراعلیٰ ارباب غلام رحیم ، جسٹس ریٹائرڈ عبدالقادر ہالیپوتہ ، 2 مرتبہ قائم علی شاہ ، جسٹس ریٹائرڈ زاہد قربان علوی ، 2 بار مراد علی شاہ اور فضل الرحمن ، وزیراعلیٰ رہے ہیں ۔

مگر ان میں سے کسی نے بھی اس اسپتال کی تعمیر مکمل کرانے پر کوئی توجہ نہیں دی ۔ اسپتال کی تعمیر پر اس وقت کل لاگت کا تخمینہ 50 کروڑ روپے لگایا گیا تھا ، جو اب بڑھ کر کم وبیش 5 ارب روپے ہو چکا ہے ۔ اسپتال کے جائزے کے مطابق تعمیر کی گئی دیواریں اور دروازے ٹوٹ پھوٹ کا شکار ہو گئے ہیں ۔ اس زیر تعمیر عمارت کا کوئی چوکیدار نہ ہونے کی وجہ سے اسے نشہ کرنے والوں نے اپنی آماجگاہ بنایا ہوا ہے ۔

مذید پڑھیں : حکومت سندھ نے مذہبی جلسے جلوسوں پر دوبارہ پابندی لگا دی

خیال رہے کہ اگر یہ اسپتال تعمیر ہو جاتا تو اس سے میٹروول تھری کے ساتھ گلشن اقبال ، سہراب گوٹھ ، یونیورسٹی روڈ اور اسکیم 33 کے علاقوں کے لاکھوں افراد کو فائدہ پہنچ رہا ہوتا ۔ ذرائع کا کہنا ہے کہ حکومت کی عدم توجہ کی وجہ سے اس اسپتال کو محکمہ منصوبہ بندی و ترقیات نے آج تک محکمہ صحت کے حوالے بھی نہیں کیا ۔ حالانکہ گزشتہ 12 سال سے پیپلز پارٹی کی صوبائی حکومت کراچی سمیت سندھ بھر میں صحت کی سہولیات بہم پہنچانے کے لیے سالانہ اربوں روپے خرچ کرنے اور اس مقصد کے لیے توجہ دینے کے بھی دعوے کرتی ہے ۔

لیکن ان دعوؤں کے باوجود صوبائی حکومت سندھ کے دارالحکومت کے اس اسپتال کی تعمیرات 16 سال گزرنے کے باوجود مکمل نہیں کر سکی ۔ خیال رہے کہ صوبائی حکومت گلشن اقبال میں نیپا چورنگی کے قریب بھی ایک بڑے اسپتال کی تعمیر 5 سال گزرجانے کے باوجود مکمل نہیں کرا سکی ہے ۔

Comments: 0

Your email address will not be published. Required fields are marked with *