راستے کے جھگڑے پر سگے بھائی نے 2 بھائی 1 بھتیجا اور بھابی مار ڈالے

وزیر آباد : راستے کے تنازعہ پر ایک ہی گھر میں نااتفاقی نے 4 افراد کو موت کے منہ میں پہنچا دیا ۔ بھائی نے بھائی اور اس کے بیٹے اور اہلیہ کو بھی مار دیا ۔

وزیر آباد کے علاقے میں نااتفاقی نے دو گھروں کو اجاڑ کر رکھ دیا ہے ۔ راستے کے معمولی جھگڑے نے ایک ہی خاندان کو اجاڑ کو سکون برباد کر دیا ہے ۔ گزشتہ روز 12 مئی کی دوپہر 2 بھائیوں نیاز محمد اور گل زمان کے درمیان راستے کے تنازعے پر جھگڑا ہو گیا ۔

مزید پڑھیں : 15 جولائی تک اسکول بند رہنے سے 3 لاکھ اساتذہ نوکری سے فارغ ہو جائیں گے

وزیر آباد میں دو بھائیوں کے نیاز محمد اور گل زمان کے مابین جھگڑے کے بعد فائرنگ کا تبادلہ ہوا ۔ جس میں نیاز محمد اور اس کا بیٹا صدام بھی مر گئے اور دوسرے بھائی گل زمان اور ان کی اہلیہ بھی موقع پر اپنے ہی سکے رشتہ داروں کی فائرنگ سے جانبحق ہو گئے ۔ جب کہ واقعے میں اسی خاندان کے 6 اور لوگ جس میں بچے شامل ہے زخمی ہو گئے ہیں جنہیں طبی امداد کے لئے قریبی اسپتال منتقل کر دیا گیا ہے ۔

مرحومین کا نماز جنازہ 12 مئی کی رات 10 بجے وزیرآباد میں ادا کر کے قریبی قبرستان میں تدفین کر دی گئی ۔ اللہ تعالی ان کی بخشش نصیب فرمائیں اور خاندان کو صبر جمیل عطا فرمائیں ۔

مذید پڑھیں : سحری کا آخری وقت کب ہوتا ہے ؟

چچا کے ہاتھوں قتل ہونے والا صدام ہری پور یونیورسٹی کے شعبہ فارسٹری وائلڈ لائف کا طالب علم تھا ۔ صدام خان مالاکنڈ میں گھریلو تنازعے پر والد سمیت قتل کر دیا گیا ہے ۔اس لرزہ خیز واردات میں ایک بچہ اور خاتون بھی جان سے گئے ہیں ۔ صدام خان قریبا پانچ سال قبل ہری پور کالج کے قریب حادثے میں شدید زخمی ہو کر کافی عرصہ کومے میں بھی رہا مگر بعد ازاں صحت یاب ہوا تھا ۔ صدام کے بارے میں بتایا گیا ہے کہ انہوں نے سبجیکٹ تبدیل کر کے مینجمنٹ سائنسز سے فارسٹری وائلڈ لائف میں داخلہ لے لیا تھا ۔ صدام خان کی ناگہانی وفات پر ہری پور یونیورسٹی کے اساتذہ، سٹاف اور اسٹوڈنٹس سمیت پورے ھری پور سوگ میں ڈوب گیا ہے ۔

مالاکنڈ وزیر آباد میں ایک ہی گھر میں سگے بھائیوں کی نعشیں پڑی ہیں

ادھر معروف سماجی کارکن ثاقب جان یوسف زئی اور ھری پور یونیورسٹی کے شعبہ مینجمنٹ سائنسز کے پروفیسر محفوظ علی نے ہونہار طالب علم صدام خان کی ناگہانی وفات پر گہرے رنج و غم اور دلی دکھ و افسوس کا اظہار کرتے ہوئے صدام خان سمیت اس سانحے کے جاں بحق جملہ مرحومین کی مغفرت اور پسماندگان کے لئیے صبر جمیل کی دعا کی ہے ۔ صدام 2011 سے منجمنٹ ڈیپارٹمنٹ میں تھا ، 2013 میں صدام کا ڈگری کالج کے پاس ڈی ایس پی کی گاڑی سے حادثے ہوا ، کئی دن تک کومے میں رہا ، 2015میں ٹھیک ہوا ، لیکن دماغی طور پر کمزور تھا ، جس کی وجہ سے منجمنٹ چھوڑ کر فارسٹری اینڈ وائلڈ لائف میں زیر تعلیم تھا ۔

Comments: 0

Your email address will not be published. Required fields are marked with *