جران ناصر کا دہرا معیار

بلاگ : کاشف نصیر

جبران ناصر اور ان کے کچھ دوستوں کے دہرے معیارات کوئی نئی بات نہیں ہیں ، یہ وہ لوگ ہیں جو ایک ہی سانس میں ایک طرف آزادی اظہار رائے اور سرحد کی قید سے ماوراء آرٹ کی بات کرتے نہیں تھکتے تو دوسری طرف یہ میرے پاس تم ہو ایسے ڈرامے بند کرانے عدالت پہنچ جاتے ہیں اور ترک سیریلز کو ثقافتی یلغار قرار دیتے ہیں ۔ البتہ انہیں گیمز اوف تهرونز اور ہالی وڈ کی فلمیں ثقافتی یلغار محسوس نہیں ہوتیں اور سات سمندر پار کے فیشن میں انہیں مقامی تہذیب کے لئے کوئی خطرہ نظر نہیں آتا ۔

ترک، ایرانی اور عربی ثقافت کے اثرات اس خطے میں سیکڑوں سال سے موجود ہیں ۔ ایران افغانستان اور عرب ہندو پاک کے نا صرف پڑوس ہیں ۔ بلکہ ان کا آپس میں صدیوں پر محیط رابطہ اور رشتہ رہا ہے ۔ یہ تعلق اور رشتہ کسی ڈرامے یا فلم کا مرہون منت نہیں ہے ۔ آزادی سے قبل بھی ترک ثقافت کے رنگ ہمارے یہاں اتنی زیادہ پهیلے ہوئے تهے کہ سر سید ایسے مغرب پرست مسلم رہنما بھی ترک ٹوپی پہنتے تهے ۔

مزید پڑھیں : حضرت عائشہ صدیقہ کی پاک دامنی اور براءت میں 10 آیات نازل ہوئیں

یہ لوگ ایک طرف تو مسلمانان ہند کو ڈی این اے کروا کر ہندو ثقافت اختیار کرنے کا مشورہ دیتے ہیں تو دوسری طرف خود انگریزی کلچر اپنائے بیٹھیں ہیں، بندہ کم از کم پہلے اپنا قبلہ تو درست کرے ۔ مسلمانان ہند کا ڈین اے اے جو بھی ہو، ان کے قبول اسلام میں ترکوں، ایرانیوں اور عربوں کا بہت گہرا ہاتھ ہے ۔ ہمارے کم و بیش تمام صوفیاء ترکستان اور ایران سے آئے تهے اور اس خطے پر ہزار سال تک حکومت کرنے والے تمام مسلمان وسطی ایشیاء سے تهے اور ان کی ہر چیز میں ترک، فارس اور عرب کلچر نمایاں رہے ہیں ۔ آپ تاج محل سمیت تمام تعمیرات کا جائزہ لے لیں ، ان میں سے کوئی عمارت ہند کی طرز تعمیر کی عکاسی نہیں کرتی ۔

غرض نسلی اور عصبی شناخت جو بھی ہو، جو شخص ایک بار حلقہ بگوش اسلام ہوا، اس کا نام، کھانا پینا، رہن سہن، لباس، طرز تعمیر، زبان، ہیروز، شادی بیاہ، بچوں کی پیدائش اور جنازے ہر معاملے میں ترک، فارسی اور عربی اقدار کے اثرات ہی اور رہیں گے ۔ یہ اثرات اتنے زیادہ قوی ہیں کہ جبران ناصر بھی لاشعوری طور پر اپنے بچوں کے نام عربی یا فارسی میں رکھیں گے ۔ ہندی نام کی ان کو بھی میں سوجے گی، حالانکہ اسلام میں ہندی نام رکھنے کی ممانعت نہیں ہے ۔

Comments: 0

Your email address will not be published. Required fields are marked with *