کراچی DSP کے گھر سے چھالیہ ، گھٹکا بنانے کا دھندہ پکڑا گیا

برطرف ڈی ایس پی طارق اسلام نے مچھلی مارکیٹ سولجر بازار کے گھر میں لاکھوں روپے مالیت کی چھالیہ ،گھٹکا اور گھٹکا بنانے کی مشینیں جمع کر رکھی تھیں

رپورٹ : آغا خالد

کراچی میں ماورائے عدالت قتل اور طالبان کے خلاف مثالی کردار ادا کر کے شہرت حاصل کرنے والے مشہور پولیس افسر چوہدری اسلم کی زندگی پر بننے والی فلم میں ہیرو کا کردار ادا کرنے والا برطرف ڈی ایس پی حقیقی زندگی میں ولن نکلا ۔

اس سلسلے میں ملنے والی تفصیلات کے مطابق ڈی ایس پی طارق اسلام کے آبائی گھر مچھلی مارکیٹ پر سولجر بازار پولیس نے 29 اپریل کو چھاپہ مار کر لاکھوں روپیہ مالیت کی چھالیہ، گٹکا اور گٹکا بنانے والی مشینیں برآمد کر کے اس کے بھائی کامران اور دیگر دو ملازمیں کو حراست میں لے لیا ۔ پولیس چھاپے کی اطلاع پر ڈی ایس پی طارق اسلام اور اس کا دوست ڈی ایس پی اقبال شیخ سولجر بازار تھانے پہنچے اور تھانے میں شور شرابہ کرتے ہوئے ڈی ایس پی سولجر بازارتصدق وارث شیخ اور ایس ایچ او قاسم رشید کو دھمکیا ں دیں اور ان پر حملے کی کوشش کی ۔

مذید پڑھیں : خیبر پختون خوا کے IG ثناءاللہ عباسی خود کرپٹ نکلے

ڈی ایس پی طارق اسلام کا کہنا تھا کہ ان کو جرت کیسے ہوئی ایک سینئر پولیس افسر کے گھر پرچھاپہ مارنے اور اس کے بھائی کو گرفتار کرنے کی ۔ واضح رہے کہ ڈی ایس پی طارق اسلام خود بھی 2016 میں پور ٹ قاسم کے علاقے میں چربی سے گھی بنا کر فروخت کرنے کے کارخانے پر چھاپے کے کیس میں ملازمت سے برطرف ہو چکا ہے ۔ اور وہ ہنوز دوبارہ بحال نہیں ہوا ۔ اس کے باوجود اس نے تھانے پر دباﺅ اور اعلی افسران کے کہنے پر سولجر بازار پولیس نے اس کے خلاف درج کئے گئے مقدمہ نمبر 188/2020 میں اس کے بھائی طاہر اسلام کو مفرور قرار دیدیا اور اس کے دوسرے بھائی کامران کو جو کہ ایک بینک میں افسر اور اچھے کردار کا حامل بتایا جاتا ہے کو چھوڑ دیا تاہم پولیس کے دباﺅ پر طارق اپنے سابقہ فرنٹ مین جو کہ کئی سالوں سے گٹکا اور چھالیہ کی اسمگلنگ اور دیگر جرائم میں مفرور تھا کو پولیس کے سامنے پیش کر دیا جسے اس مقدمہ میں بھی نامزد کر دیا گیا ہے ۔

یہ بھی یاد رہے کہ چوہدری اسلم کی زندگی اور پولیس کی نوکری پر بننے والی فلم “چوہدری” میں طارق اسلام ہیرو کا کردار ادا کر رہا ہے اور اس فلم میں بیگم چوہدری اسلم کے ساتھ ان کی بھی کچھ سرمایہ کاری بتائی جاتی ہے ۔ معلوم ہوا ہے کہ چھاپہ مارا وہ ان کا آبائی مکان ہے ۔ اور اس میں طارق اسلام کے کئی بھائی رہائش پذیر ہیں ۔ اس بنگلے میں چوکیدارکے کوارٹر میں گٹکا بنانے کی مشینیں لگائی گئیں تھیں جو برآمد کر لی گئیں ہیں ۔ پولیس ذرائع کا کہنا ہے کہ اب سولجر بازار انویسٹی گیشن پولیس پر دباﺅ ڈالا جا رہا ہے کہ وہ کیس ختم کر دے اور برآمد ہونے والا مال چھوڑ دے ۔

مذید پڑھیں : ٹی وی کے چھاپہ مار جعلی ہیروز

پولیس کا یہ بھی کہنا ہے کہ قبل ازیں طارق اسلام کی سر پرستی میں یہی کام اورنگی ٹاﺅن میں کیا جا رہا تھا اور اس سے پہلے پورٹ قاسم کے علاقےمیں بھی اسی طرح کی غیر قانونی سرگرمیاں جاری تھیں ۔ جس پر اعلی افسران نے کارروائی کرتے ہوئے اسے پولیس کی ملازمت سے برطرف کر دیا تھا ۔ واضع رہے کہ چودھری اسلم کراچی پولیس کے انتہائی متنازعہ افسر تھے ۔ ان کے لئے مشہور تھا کہ وہ پیسے کے لئے کچھ بھی کرسکتے ہیں ۔ تاہم ایم کیو ایم کے خلاف آپریشن اور طالبان کے خلاف ان کے جرئت مندانہ کردار کو فراموش نہیں کیا جا سکتا اور اسی وجہ سے طالبان اور ایم کیو ایم لندن ان کی جان کے در پئے تھے ۔

انھوں نے چودھری اسلم پر متعدد قاتلانہ حملے کئے اور بالاآخر وہ 9 جنوری 2016 کو اس وقت اپنے مذموم عزائم میں کامیاب ہو گئے ۔ جب وہ آئی جی آفس سےطلبی پر اپنے آفس سے روانہ ہوئے اور حسن اسکوائر کے سامنے لیاری ایکسپریس پر چڑھتے ہی بم دھماکہ میں شہید ہو گئے ۔ اب ان کے اس کردارپر فلم بنائی جا رہی ہے ۔ اس سلسلے میں ڈی ایس پی طارق اسلام سے ان کا نکتہ نظرجاننے کے لئے متعدد بار رابطہ کیا گیا مگر انہوں نے فون نہیں اٹھایا ، نہ ہی ایس ایم ایس کا جواب دیا ۔

Show More

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button
Close