نبی صلی اللہ علیہ وآلیہ وسلم کی رفیقہ سیدہ عاٸشہ صدیقہؓ

تحریر : محمد عدیل معاویہ

ام المؤمنین حضرت سیدہ عائشہ صدیقہ ؓ وہ خوش قسمت ترین عورت ہیں کہ جن کو حضور ؐ کی زوجہ محترمہ اور ’’ام المؤمنین‘‘ ہونے کا شرف اور ازواج مطہرات میں ممتاز حیثیت حاصل ہے۔ قرآن و حدیث اور تاریخ کے اوراق آپ کے فضائل و مناقب سے بھرے پڑے ہیں ۔ام المؤمنین حضرت سیدہ عائشہ صدیقہؓ سے شادی سے قبل حضورؐ نے خواب میں دیکھا کہ ایک فرشتہ ریشم کے کپڑے میں کوئی چیز لپیٹ کر آپ ؐ کے سامنے پیش کر رہا ہے… پوچھا کیا ہے؟ جواب دیا کہ آپؐ کی بیوی ہے، آپ نے کھول کہ دیکھا تو حضرت عائشہ ہیں ( صحیح بخاری مناقب عائشہؓ) ام المومنین حضرت سیدہ عائشہ صدیقہؓ خود فرماتی ہیں کہ اللہ تعالیٰ نے مجھے نو باتیں ایسی عطا فرمائی ہیں جو دنیا میں میرے سوا کسی کو عطا نہیں ہوئیں۔

(۱) خواب میں حضورؐ کے سامنے فرشتے نے میری تصویر پیش کی۔
(۲) جب میں سات برس کی تھی تو آپ ؐ نے مجھ سے نکاح کیا۔
(۳) نو برس کی عمر میں میری رخصتی ہوئی۔
(۴) میرے سوا آپؐکی خدمت میں کوئی اور کنواری بیوی نہ تھی،
(۵) حضور ؐجب میرے پاس ہوتے تب بھی وحی آتی تھی۔
(۶) میں آپؐ کی محبوب ترین بیوی تھی۔
(۷) میری شان میں قرآنی آیات نازل ہوئیں۔
(۸) میں نے حضرت جبرائیل ؑ کو اپنی کھلی آنکھوں سے دیکھا ۔
(۹) آپ ؐ نے میری ہی گود میں سر مبارک رکھے ہوئے وفات پائی(مستدرک حاکم)

مزید پڑھیں : خیبر پختون خوا کی نصابی کتاب میں‌ کوئی تبدیلی نہیں‌ کی گئی : اکبر ایوب خان

آپ صلی اللہ علیہ وآلیہ وسلم کو حضرت عائشہ صدیقہؓ سے بہت محبت تھی، ایک مرتبہ حضرت عمرو ابن عاصؓ نے حضور ؐ سے دریافت کیا کہ… آپ ؐ دنیا میں سب سے زیادہ کس کو محبوب رکھتے ہیں؟ آپ نے فرمایا کہ عائشہؓ کو، عرض کیا گیا کہ اے اللہ کے رسول ؐ! مردوں کی نسبت سوال ہے! فرمایا کہ عائشہ کے والد ابوبکر صدیقؓ کو (صحیح بخاری) آپ نے اپنی بہن حضرت اسمإؓ کے صاحبزادے اور اپنے بھانجے عبد اللہ بن زبیرؓ کے نام پر حضور ؐ کے ارشاد کے مطابق اپنی کنیت ام عبد اللہ اختیار فرمائی (ابوداٶد کتاب الادب) ۔حضرت عاٸشہ صدیقہؓ کی پیدائش سے چار سال قبل ہی آپؓ کے والد ماجد سیدنا حضرت ابوبکر صدیقؓ دولت اسلام سے مالا مال ہو چکے تھے اور آپ کا گھر نورِ اسلام سے منور ہو چکا تھا ۔

حضرت عائشہ صدیقہؓ پر اللہ تعالیٰ کا یہ خاص انعام ہے کہ انھوں نے کبھی کفروشرک کی آواز تک نہیں سنی، چنانچہ وہ خود ہی ارشاد فرماتی ہیں کہ جب سے میں نے اپنے والد کو پہچانا ان کو مسلمان پایا۔ (بخاری حصہ اول)حضرت عائشہ صدیقہؓ کا ’’کاشانہ نبوت‘‘ میں حرم نبوی کی حیثیت سے داخل ہونے کے بعد قرآن مجید کا ایک بڑا حصہ نازل ہوا، آپ کو کم و پیش دس سال حضور ؐ کے ساتھ رہنے کا شرف حاصل ہوا، خود صاحبِ قرآن حضورؐ سے قرآن سنتیں، جس آیت کا مطلب سمجھ میں نہ آتا حضورؐ سے اس کا مفہوم سمجھ لیتیں، اسی ’’نورخانہ‘‘ میں آپ نے کلامِ الٰہی کی معرفت، ارشاداتِ رسالت کا علم، رموز و اسرار دین کی عظیم الشان واقفیت حاصل کی۔حضرت عائشہ صدیقہؓ کو علم دینیہ کے علاوہ تاریخ، ادب اور طب کے علوم میں بھی کافی مہارت تھی، غرضیکہ اللہ رب العزت نے آپ کی ذاتِ اقدس میں علم انساب، شعروشاعری، علوم دینیہ، ادب و تاریخ اور طب جیسے علوم جمع فرما دیئے تھے۔

مذید پڑھیں :‌ ٹی وی کے چھاپہ مار جعلی ہیروز

حضرت عائشہ صدیقہ ؓ کا سات سال کی عمر میں حضورؐسے نکاح ہوا، اور نو برس کی عمر میں رخصتی ہوئی۔اتنی کمسنی میں حضرت عائشہؓ کا حضورؐ کے گھر آنا گہری حکمتوں اور اعلیٰ دینی فوائد سے خالی نہیں بقول حضرت سید سلمان ندویؒ، ’’کم سنی کی اس شادی کا ایک منشا نبوت اور خلافت کے درمیان تعلقات کی مضبوطی بھی تھی۔حضرت عائشہ صدیقہؓ بچپن ہی سے نہایت ہی ذہین و فطین اور عمدہ ذکاوت کی مالک تھیں، مولانا سید سلمان ندوی رقمطراز ہیں کہ عمو ماًہر زمانہ کے بچوں کا وہی حال ہوتا ہے جو آج کل کے بچوں کا ہے کہ سات آٹھ برس تک تو انہیں کسی بات کا مطلق ہوش نہیں ہوتا، اور نہ ہی وہ کسی کی بات کی تہہ تک پہنچ سکتے ہیں۔ لیکن حضرت عائشہؓ لڑکپن کی ایک ایک بات یاد رکھتی تھیں، انکی روایت کرتی تھیں ان سے احکام اخذ کرتی تھیں۔ لڑکپن کے کھیل کود میں کوئی آیت کانوں میں پڑ جاتی تو اسے بھی یاد رکھتی تھیں۔ ہجرت کے وقت ان کا سن عمر آٹھ برس لیکن اس کم سنی اور کم عمری میں ہوش مندی اور قوت حافظہ کا یہ حال تھا کہ ہجرتِ نبوی کے تمام واقعات بلکہ تمام جزوی باتیں ان کو یاد تھیں۔

ام المؤمنین حضرت سیدہ عائشہ صدیقہؓ نے بچپن سے جوانی تک کا زمانہ اس ذاتِ اقدسؐ کی صحبت میں بسر کیا جو دنیا میں مکارم اخلاق کی تکمیل کیلئے آئی تھی… چنانچہ حضرت عائشہ صدیقہؓ کا اخلاق نہایت ہی بلند تھا، آپ نہایت سنجیدہ، فیاض، قانع عبادت گزار اور رحم دل تھیں، آپ زہد و قناعت کی وجہ سے صرف ایک جوڑا پاس رکھتی تھیں اسی کو دھو دھو کر پہنتی تھیں۔ آپؐ کو خدا نے اولاد سے محروم کیا تھا، تو آپؓ عام مسلمانوں کے بچوں کو اور زیادہ تر یتیموں کو لیکر پرورش کیا کرتی تھیں، ان کی تعلیم و تربیت کرتی تھیں اور ان کی شادی بیاہ کے فرائض انجام دیتی تھیں۔

17 رمضان الکریم یوم وصال سیدہ عائشہ صدیقہ عتیقہ رضی اللہ عنہا

حضرت عائشہ صدیقہؓ عبادت الٰہی میں اکثر مصروف رہا کرتیں تھیں، دیگر نمازوں کے ساتھ ساتھ رات کو اٹھ کر نماز تہجد ادا فرمایا کرتی تھیں اور حضورؐکی وفات کے بعد بھی اس نماز کی پابندی میں کوئی فرق نہیں آیا، حضورؐنے ایک سوال کے جواب میں فرمایا کہ عورتوں کے لئے حج ہی جہاد ہے اس لیے حضرت عائشہ صدیقہؓ حج کی بہت زیادہ پابندی فرمایا کرتی تھیں اور تقریباً ہر سال حج کیلئے تشریف لے جاتیں (بخاری شریف) حج کے بعد عمرہ بھی ادا کرتیں، آخر رمضان میں جب حضور ؐ اعتکاف فرماتے تو حضرت عائشہ صدیقہؓ بھی اتنے ہی دن صحن میں خیمہ نصب کروا کر اعتکاف میں گزارتیں، قناعت کا جذبہ عورتوں میں بہت کم پایا جاتا ہے لیکن حضرت عائشہ صدیقہؓ کی ذات اقدس میں قناعت کی صفت بدرجہ اتم موجود تھی ان کی تقریباً ساری زندگی ہی عسرت و تنگی اور فقرو فاقہ میں گزر گئی… حضرت عائشہؓ خود فرماتی ہیں کہ ہم پر پورا ایک ایک مہینہ گزر جاتا اور گھر میں آگ تک نہ جلاتے، ہماری غذا پانی اور چھوہارے ہوتے تھے مگر کہیں سے تھوڑا سا گوشت آ جاتا تو ہم کھا لیتے (بخاری شریف)

مذید پڑھیں : رکن قومی اسمبلی کی کورونا ٹیسٹ رپورٹ جعلی ںکلی

آپ میں ایثار کا جذبہ بھی بہت زیادہ پایا جاتا تھا… صرف ایک قسم کے کفارہ میں آپ نے ایک بار چالیس غلام آزاد کئے تھے، آپ کے آزاد کردہ غلاموں کی تعداد 67 ہے ۔ام المؤمنین حضرت سیدہ عائشہ صدیقہؓ کے اخلاق کا سب سے ممتاز جوہر ان کی طبعی فیاض اور کشادہ دستی تھی۔ خیرات میں تھوڑے بہت کا لحاظ نہ کرتیں، جو موجود ہوتا سائل کی نذر کر دیتیں، حضرت غزوہؓ سے روایت ہے کہ ایک دفعہ حضرت عائشہؓ نے ان کے سامنے پوری ستر ہزار کی رقم خدا کی راہ میں دے دی اور دوپٹہ کا گوشہ چھاڑ دیا۔سیدنا حضرت امیر معاویہؓ نے ایک مرتبہ ایک لاکھ درہم بھیجے۔شام ہونے تک سب محتاجوں کو دے دلا دیا۔ حضرت ابن زبیرؓ نے ایک دفعہ دو بڑی تھیلیوں میں ایک لاکھ کی رقم بھیجی، انھوں نے ایک طبق میں یہ رقم رکھ لی اور اس کو بانٹنا شروع کیا اور اس دن بھی آپ روزہ سے تھیں… لیکن افطاری کیلئے بھی رقم نہ بچائی۔ آپ بہت زیادہ رقیق القلب تھیں۔ بہت جلد رو دیتیں، دل میں خوف اور خشیت الٰہی تھی، ایک دفعہ کسی بات پر قسم کھا لی تھی، پھر لوگوں کے اصرار پر ان کو اپنی قسم توڑنی پڑی اور گو کہ اس کے کفارے میں چالیس غلام آزاد کئے، تاہم ان کے دن پر اتنا گہرا اثر تھا کہ جب یاد کرتیں روتے روتے آنچل تر ہو جاتا (بخاری باب الہجرت)

17 رمضان یوم وصال سیدہ عائشہ صدیقہ رضی اللہ عہنا

ام المؤمنین حضرت عائشہ صدیقہؓ کی صفائی میں سترہ قرآنی آیات نازل ہوئیں۔اسی طرح غزوہ ذات الرقالح کے موقع پر بھی حضرت عائشہ صدیقہؓ کی وجہ سے تیمم کا قرآنی حکم نازل ہوا۔ ام المؤمنین حضرت سیدہ عائشہ صدیقہؓ کا امت مسلمہ پر بہت بڑا احسان ہے کہ ان کے مبارک واسطہ سے امت کو دین کا بڑا حصہ نصیب ہوا۔ صحابہ کرامؓ کی ربانی جماعت کے وہ قابل فخر و ناز افراد جنھوں نے حضور ؐ کے ارشادات و فرمودات اور آپ ؐ کے قدوسی حرکات و سکنات کثرت سے نقل کیے ان میں حضرت سیدہ عائشہؓ کا چھٹا نمبر ہے، حضرت عائشہؓ سے حضور ؐ کی دو ہزار دو سو دس حدیثیں مروی ہیں۔

مذید پڑھیں : ایک ہزار کی لاٹری کا انتظار کرنے والے شخص کی پونے 2 لاکھ کی لاٹری نکل آئی

حضرت ابو موسیٰ اشعریؓ فرماتے ہیں کہ ہم اصحابِ رسول صلی اللہ علیہ وآلیہ وسلم کوئی ایسی مشکل کبھی پیش نہیں آتی جس کو ہم حضرت عائشہؓ سے پوچھا ہو اور ان کے پاس اس کے بارے میں کوئی معلومات ہم کو نہ ملی ہوں۔ امام زہریؒ فرماتے ہیں کہ حضرت عائشہ صدیقہؓ تمام لوگوں میں سب سے زیادہ عالم تھیں، بڑے بڑے صحابہؓ ان سے پوچھا کرتے تھے…حضرت سیدہ عائشہ صدیقہ 58 میں رمضان المبارک میں بیمار ہوئیں، چند روز علالت کا سلسلہ جاری رہا، زمانہ علالت میں جب کوئی مزاج پرسی کرتا تو فرماتیں’’ اچھی ہوں‘‘ (ابن سعد) 17 رمضان المبارک کی رات، رحمت دو عالم ؐ کی حرم اور تمام مسلمانوں کی ماں حضرت عائشہ صدیقہؓ اپنے فرزندوں پر بے شمار احسانات کی بارش فرما کر ہمیشہ کیلئے رخصت ہو گئیں۔ سیدنا حضرت ابوھریرہ نے نماز جنازہ پڑھائی اور آپ کو جنت البقیع میں دفن کیا گیا… رضی اللہ تعالیٰ عنہا ۔

Comments: 0

Your email address will not be published. Required fields are marked with *