عاطف میاں یا ختم نبوت

تحریر : مولانا ہدایت اللہ سدوخانی

میں نے یہ تہیہ کیا تھا کہ 3 ماہ تک فیس بک پر عمران خان کی حکومت کے حوالے سے کسی بھی قابل تنقید بات پر کوئی مذمتی پوسٹ نہیں لکھوں گا ۔ مگر خان صاحب نے جانتے بوجھتے ایک ایسا قدم اٹھایا ہے کہ اس کی مذمت میری ایمانی مجبوری ہے ۔

میرے ملک میں "معاشی مشاورتی کونسل” کا ممبر کسی قادیانی کو بنانا ہزار نیک نیتی اور ہزار مفادات کے باوجود مجھ سمیت کسی بھی پاکستانی کو کسی بھی عاشق رسول صلی اللہ علیہ و سلم کو قبول نہیں ہے ۔

اگر خان صاحب کے مطابق (گو کہ یہ غلط ہے) اس قادیانی کو ہٹانے کی وجہ سے ملک کی معیشت تباہ ہو جانے کا خطرہ ہے تو وہ تباہی ہمیں قبول ہے ۔ بھوکے مر جانا ہمیں منظور ہے ۔

خان صاحب !
آپ کو کیا ہو گیا ؟ آپ کا وہ "ایاک نعبد و ایاک نستعین” کیا ہوا ؟ مسلمانوں کا تو بچہ بچہ یہ ایمان رکھتا ہے کہ رزق عاطف میاں نہیں اللہ میاں کے ہاتھ میں ہے ۔

پاکستان تحریک انصاف کے حامیوں اور ووٹروں کی خدمت میں بصد احترام عرض ہے کہ آپ کے مخالفین نہ کہتے تھے کہ "گستاخانہ خاکوں کا معاملہ رک جانے کا کریڈٹ خان صاحب کو نہیں جاتا” ۔ کیا وہ غلط کہتے تھے ؟ جس وزیر اعظم نے عاطف میاں جیسے سکہ بند قادیانی کو پاکستان کے اندر اپنی حکومت میں اپنے اختیار کے ساتھ جانتے بوجھتے اپنے معاشی بورڈ کا حصہ بنا دیا ہو اس وزیر اعظم کو ایک دو بیانات کی وجہ سے اپنے ملک سے باہر دور ہالینڈ میں گستاخانہ خاکوں کے رک جانے کا کریڈٹ جائے گا ؟

آپ اپنی پارٹی کے دفاتر میں جاکر دستخطی مہم کے ساتھ تحریری درخواستوں کے انبار لگا دیں اور انہیں کہہ دیں کہ ہم نے آپ کو ووٹ نبی اکرم صلی اللہ علیہ و سلم کی ختم نبوت پھلانگنے کیلئے نہیں دیا تھا ۔ ہم پہلے محمدی ہیں بعد میں عمرانی ۔ ۔ ۔ اگر ہمارا ووٹ قادیانیت کیلئے استعمال ہوا تو ہم ایسے لاکھوں عمران خان اپنے پیغمبر کی ختم نبوت کیلئے قربان کر دینگے ۔
یاد رکھیئے ہماری بنسبت آپ کی آواز زیادہ موثر ہوگی ۔ آج موقع ہے آپ نے اپنی پارٹی کو باور کرا دیں کہ "عاطف میاں نہیں ۔ ختم نبوت” چاہیئے ۔
والسلام

Comments: 0

Your email address will not be published. Required fields are marked with *