اردو بولنے والے اقلیت میں‌ ہونے والے ہیں

مہاجروں کے بعد سندھیوں سے بھی دھوکہ ہو جائے گا ، پیپلز پارٹی زمینوں پر قبضہ کرا دے گی

بلاگ : محمد انور

اندرون سندھ سے 191 پولیس انسپکٹرز کی دوسری کھیپ بھی کراچی منتقل کردی گئی ۔ اس سے قبل مارچ میں 73 پولیس انسپکٹرز کو کراچی منتقل کیا گیا تھا ۔ کورونا وائرس کی وبا کے دوران حکومت کی جانب سے محض کراچی میں سخت لاک ڈاؤن اور دیگر اقدامات کی وجہ لوگ یہ سمجھ رہے تھے کہ پیپلز پارٹی کی سندھی قوم پرست حکومت کراچی والوں سے بہت محبت کرنے لگی ہے اور اسے شہر کے لوگوں کی صحت کا بھی ویسا ہی خیال ہے جیسے وہ اپنے لیڈر آصف زرداری کی صحت اور آسائش کا رکھتی ہے۔ لیکن اصل ماجرا تو اب سامنے آیا ہے کہ ملک کے سب سے بڑے شہر کے لوگوں کی مکمل توجہ کورونا کی طرف لگا کر اور سب کو لاک ڈائون کے نام پر گھروں میں قید کر کے کراچی کو ’’سندھی پولیس‘‘ کا ڈیرا بنانا چاہتی ہے۔ یہ بات صوبے کے سب ہی لوگ چاہے سندھی ہوں یا مہاجر ، پنجابی یا ہزارے وال یا پٹھان سب ہی بخوبی جانتے ہیں کہ پیپلز پارٹی نے پولیس میں کن لوگوں کو کن مخصوص مقاصد کے لیے بھرتی کیا ہے۔

کراچی میں اردو بولنے والوں یا مہاجروں کو پولیس سروس میں ملازمتیں کراچی کے کوٹے کے حساب سے کبھی بھی نہیں ملیں اور نہ ہی مل سکتی ہیں کیونکہ سندھیوں کو ملازمتیں فراہم کرنے کا معاملہ ہو یا کچھ اور ’’زندہ ہے بھٹو زندہ ہے‘‘ کا نعرہ لگا کر کراچی کے حقیقی لوگوں کے لیے دروازے ہمیشہ بند کر دیے جاتے ہیں ۔ اس کے باوجود نہ جانے کیوں سندھ کے ڈومیسائل پر خالصتاً سندھی باشندوں کو پولیس میں بھرتی کر کے ترجیحی بنیاد پر اندرون سندھ سے انسپکٹرز کا تبادلہ کر کے انہیں کراچی میں تعینات کیا جا رہا ہے ۔ اب تک مجموعی طور پر 264 پولیس انسپکٹرز کو لاڑکانہ، میرپورخاص اور بے نظیر آباد سے کراچی میں لا کر بسانے کی شروعات کی جا چکی ہے ۔ صرف سندھی پولیس افسران یا سندھ پولیس کے لوگوں کو کراچی نہیں لایا جا رہا بلکہ شہر کے بلدیاتی اور ترقیاتی اداروں میں بھی یہ سلسلہ جاری ہے ۔ کچھ عرصہ قبل سہون ڈیولپمنٹ اتھارٹی کے 22 افسران کو سندھ سولڈ ویسٹ مینجمنٹ بورڈ (ایس ایس ڈبلیو ایم بی) میں ایڈجسٹ کروا کر کراچی میں انہیں ان کے خاندانوں سمیت بسایا جا چکا ہے ۔ اب سنا ہے کہ کراچی واٹر بورڈ، بلدیہ عظمیٰ، شہر کے سات ضلعی بلدیاتی اور تین ترقیاتی اداروں پر حکمرانوں کی نظریں جمی ہوئی ہیں کہ یہاں بھی زیادہ سے زیادہ غیر مقامی سندھیوں کو بسا دیا جائے ۔

مذید پڑھیں : منہاج القرآن کی طالبہ نے پاکستان کو عالمی اعزاز دلا دیا

آئین اور قوانین کے تحت جس ضلع کے لیے جو ملازمتیں فراہم کی جاتی ہیں ، ان پر بھرتی ہونے والے افراد کو اُسی ضلع میں تعینات کیا جاتا ہے ۔ دوسری صورت میں اس طرح کے تقرر یا تقرریاں خلاف قانون کہلاتی ہیں ۔ لیکن اب تک چونکہ قانون اور قانون پر عمل درآمد کرانے والی اتھارٹی دیگر کاموں میں مصروف ہے ، اس وجہ سے غیر مقامیوں کی کراچی میں تعیناتی کے سلسلے کا نوٹس نہیں لیا جا سکا ۔

کراچی میں کل تھانوں کی تعداد 107 ہے ۔ اس کا مطلب یہ ہوا کہ آئندہ کراچی کے ہر تھانے کا ایس ایچ او غیر مقامی یا سندھی ہو گا ۔ ویسے غیر مقامی تھانیداروں کا سلسلہ تو برسوں سے چل رہا ہے اور اب تو تھانیدار ہی کیا پوری بستیاں غیر مقامی افراد سے بس رہی ہیں ۔ خدشہ ہے کہ کراچی کے اردو بولنے والے آئندہ چند سال بعد اپنے ہی شہر میں اقلیت میں آ جائیں گے ۔ ایسا اس لیے ہو گا کہ پولیس سمیت صوبے کے تمام ہی اداروں کے دروازے سندھیوں کو ایڈجسٹ کرنے کے لیے کھلے ہوئے ہیں ، جب کہ اردو بولنے والوں کے لیے یہ کبھی آزادانہ طور پر کھلے ہی نہیں تھے ۔

مذید پڑھیں : واٹربورڈ‌ سے MQM کا خاتمہ کرنے کیلئے اتھارٹی بنانے کا فیصلہ

سندھ حکومت جس آسانی کے ساتھ صوبہ سندھ کے صرف سندھی بولنے والوں کے ساتھ نوازشات کا سلسلہ جاری رکھے ہوئے ہے ، اس سے’’شر‘‘ کی بو آ رہی ہے ۔ ایسا لگتا ہے کہ پیپلز پارٹی سندھ میں اپنی گرتی ہوئی ساکھ کی بحالی کے لیئے معصوم سندھیوں سے ان کی زمینوں کے عوض نوکریوں کا جھانسا دے کر کراچی میں لانے کے مشن پر جت گئی ہے ۔ یہ مہاجروں سے زیادہ سندھی قوم کے خلاف سازش ہے ۔

ویسے سندھی بھائیوں کی اکثریت دوسروں سے زیادہ اپنے وڈیروں اور ان کی سازشوں سے واقف ہے۔ رہی بات کراچی کے غیر سندھی باشندوں کی تو وہ ہمیشہ سے ہی اللہ توکل پر زندگی گزارتے آ رہے ہیں۔ وہ نہ گزر جانے والے کل لڑنا چاہتے تھے اور نہ ہی آنے والے کل ان کا کوئی ارادہ ہے ۔ مگر پیپلز پارٹی کی موجودہ حکومت جو ہر سال اندرون سندھ کی ترقی کے نام پر اربوں روپے ہضم کر جاتی ہے اور 11 سال سے کر رہی ہے اس کی سازشوں سے سندھ کے سب ہی باشندوں کو بچتے رہنے کی کوشش کرنا چاہیے۔ کیونکہ اسی میں سندھ کے امن و ترقی کی ضمانت ہے ۔

Show More

One Comment

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button
Close