قاری عثمان کے احتجاج پر تبلیغی اجتماع گاہ کو قرنطینہ مرکز بنانے کا فیصلہ واپس

کراچی : صوبائی وزیر تعلیم و لیبر سعید غنی نے کہا کہ یو سی 4 منگھو پیر میں قرنطینہ سینٹر نہیں بنایا جائے گا ۔ قاری محمد عثمان اور یو سی چیئرمینوں کی نشاندہی پر منگھو پیر اجتماع گاہ میں قرنطینہ سینٹر بنانے کا فیصلہ واپس لے لیا گیا ہے ۔

پیپلز پارٹی عوامی امنگوں کے مطابق عوامی مفاد کو ہر چیز پر مقدم رکھتی ہے ۔ ان خیالات کا اظہار انہوں نے جمعیت علماء اسلام کے رہنماء قاری محمد عثمان کی قیادت میں تین رکنی وفد سے گفتگو کرتے ہوئے کیا ۔ وفد میں یوسی 6 منگھو پیر کے چیئرمین اور پی ایس 121 کے امیر مفتی محمد خالد، یوتھ کونسلر عبداللہ صدیقی شامل تھے ۔ سعید غنی نے کہا کہ کرونا وائرس ایک مہلک وبا ہے ۔ ذرا سی غفلت اور بے احتیاطی بڑے نقصان کی باعث بن جاتی ہے ۔

مذید پڑٍھیں :‌ منہاج القرآن کی طالبہ نے پاکستان کو عالمی اعزاز دلا دیا

صوبائی حکومت نے اپنے محدود وسائل میں رہ کر بر وقت آگاہی مہم شروع کی تھی ، مگر بے احتیاطی سے کرونا وائرس بڑھ رہا ہے ۔ انہوں نے کہا کہ معاشی بدحالی اور عوامی مشکلات سے بخوبی آگاہ ہیں، یہی وجہ ہے کہ صوبائی حکومت ان تمام چیلنجز اور مسائل کے باوجود انسانیت کی خاطر سخت فیصلے کر رہی ہے ۔ انہوں نے خاص طور پر علماء کرام سمیت تمام سیاسی مذہبی جماعتوں اور زندگی کے تمام شعبوں سے تعلق رکھنے والے شہریوں کا بے پناہ تعاون پر شکریہ ادا کیا ۔

قاری محمد عثمان نے وزیر اعلی سید مراد علی شاہ، ان کی پوری ٹیم اور صوبائی وزیر سعید غنی کا شکریہ ادا کرتے ہوئے کہا کہ منگھو پیر کا علاقہ جہاں گنجان اور پسماندہ ہے وہاں کچی آبادی، سڑکیں نہ ہونے کے برابر ہیں، ایسے علاقہ میں قرنطینہ سینٹر یقینا کسی بڑے نقصان کا باعث تھا ۔ دوسری طرف کراچی اجتماع گاہ جہاں لاکھوں فرزندان اسلام کا عالمی اجتماع ہوتا ہے ، قرنطینہ سینٹر بنانے سے منفی اثرات کے علاوہ ایک بہت بڑی اکثریت کی دل آزاری ہو رہی تھی ۔

مذید پڑھیں‌ : فیس بک نے وزیر اعظم عمران خان اور شاہد آفریدی سے اعزاز واپس لے لیا

انہوں نے کہا کہ سندھ حکومت کی جانب سے عوامی مطالبہ کے سامنے سر تسلیم خم کر نا عوام دوستی اور اعلی ظرفی کا عملی مظاہرہ ہے۔ انہوں نے یوسی 4 /5 اور 6 منگھوپیر کے عوام اور چیئرمینوں حاجی علی نواز بروہی، مفتی محمد خالد، علی اکبر کاچھیلو کے مکمل تعاون پر شکریہ ادا کرتے ہوئے کہا کہ کرونا وائرس سے بچاؤ کیلئے احتیاطی تدابیر اور مسنون دعاؤں کا اہتمام کرتے ہوئے رجوع الی اللہ، توبہ استغفار اور درود شریف کے ورد کو معمول بنالیا جائے ۔

Comments: 0

Your email address will not be published. Required fields are marked with *