خیبر چیمبر آف کامرس کی جانب سے پاک افغان باڈرز کے مسائل سے رزاق دائود کو آگاہ کردیا گیا

اسلام آباد : خیبر چیمبر آف کامرس اینڈ انڈسٹری کے صدر کرنل (ر) صدیق آفریدی، گروپ لیڈر سید جواد حسین کاظمی، چیف ایگزیکٹیو جابر شینواری، شاہد شینواری کنونئیر FPCCI قائمہ کمیٹی برائے آفغانستان و وسط ایشیائی ممالک تجارت اور سیکرٹری جنرل سید علی فیصل پر مشتمل وفد نے میاں زاہد حسین پریزیڈینٹ پاکستان بزنس مین اینڈ انٹلیکچلز فورم و لیڈر FPCCI پاکستان بزنسمین پینل کی وساطت سے وزیراعظم کے مشیر برائے تجارت جناب عبدالرزاق داود سے گزشتہ روز وزارت تجارت اسلام آباد میں تفصیلی طور پر ملاقات کی ہے ۔

پاک آفغان سرحد طورخم، خرلاچی، غلام خان، انگور آڈہ اور چمن پر پھنسی سینکڑوں امپورٹ/ ایکسپورٹ اور مال بردار گاڑیوں کا معاملہ اور پاک آفغان باہمی تجارت (امپورٹ و ایکسپورٹ) میں درپیش دیگر مشکلات و مسائل سے اور خیبر چیمبر کے حالیہ اقدامات سے وزیر اعظم کے مشیر کو آگاہ کیا گیا ۔

مذید پڑھیں : انجینئر محمد علی مرزا کی گرفتاری

وفد کی جانب سے بتایا گیا کہ وزارت داخلہ حکومت پاکستان کی جانب سے طورخم و چمن سے متعلق سرحد کو باہمی تجارت و مال بردار گاڑیوں کیلیئے کھولنے کے نوٹیفیکیشن کے اجراء کے بعد بھی موثر سہولیات کا فقدان پایا جا رہا ہے اور گاڑیوں کی کلیئرنگ انتہائی سست روی کا شکار ہے ۔ نوٹیفیکشن کے مطابق اداروں کو دن میں کم از کم 100 گاڑیاں اور ذیادہ سے ذیادہ جتنی ممکن ہو سکے کلیئرنگ کی ہدایات جاری کی گئی ۔

جب کہ دن میں بمشکل 40 گاڑیاں بھی کلیئر نہیں کی گئی جس کی وجہ سے باہمی تجارت اور ٹرانزٹ ٹریڈ میں تاجروں اور ملکی تجارت کو اربوں روپے کا نقصان ہو رہا ہے ایک طرف تو حکومت نے موجودہ صورتحال کے پیش نظر لوگوں کو معاشی نقصانات سے بچانے کیلیئے اربوں روپے کے ریلیف پیکچز دینے کے اعلانات کر رہی ہے اور دوسری جانب اداروں کی عدم سہولیات اور نالائقی کی وجہ سے تاجروں کا استحصال کیا جا رہا ہے، مکس سبزی، آلو، ٹماٹر، چاول، فروٹ، چوزے، انڈے، فیڈ و دیگر خوراکی مواد کی ایکسپورٹ گاڑیاں دو ماہ سے سرحد پر کھڑی کھڑی خراب ہو چکی ہیں ۔ جس سے تاجروں کو اربوں روپے کے نقصانات کا سامنا ہے ۔

مذید پڑھیں : گورنر عمران اسماعیل نے سندھ کی عوام کو بڑے ریلیف سے محروم کر دیا

خیبر چیمبر کے وفد کی جانب سے ٹرانزٹ ٹریڈ کے مسائل پر بھی بحث کی گئ اور بتایا گیا کہ کراچی کی بندرگاہ پر 7000 سے زائد کنٹنیرز اور ٹرکوں کو مختلف جگہوں پر سکیننگ کی وجہ سے روکا ہوا ہے ۔ جن پر روزانہ کی بنیاد پر فی کنٹینر 100 ڈالر ڈیٹینشن اور ڈیمرج بڑھ رہا ہے جو ۔کہ سراسر زیادتی اور ناقابل قبول عمل ہے اور مطالبہ کیا گیا کہ کراچی بندرگاہ پر بلاوجہ ٹرکوں اور کنٹینرز کی سکیننگ کا سلسلہ فوری طور پر بند کرایا جائے ۔ وزیراعظم کے مشیر برائے تجارت عبدالرزاق داود نے موقع پر جوائنٹ سیکرٹری ماریہ کازی کو ہدایات جاری کیں کہ اس سلسلے میں FBR کو فوری خط لکھا جائے تاکہ تاجروں کی مشکلات کو کم کیا جائے ۔

تمام چیمبروں کی سفارشات پر دیگر بارڈرز خرلاچی، غلام خان، انگور آڈہ پر بھی باہمی تجارت کو جلد کھولنے کی یقین دہانی کرائی گئی تا کہ طورخم اور چمن بارڈر سے بوجھ کو کم کیا جا سکے اور پاک افغان تجارت سے منسلک تاجروں کو زیادہ سے ذیادہ ریلیف دیا جا سکے اور ان تمام مسائل کے حل کیلیئے کل ہونے والے NCOC اجلاس کے ایجنڈے میں ان تمام مسائل کی نشاندہی کرنے اور شامل کرنے کی ہدایات جاری کیں ۔ آخر میں تمام چیمبرز نے میاں زاہد حسین کے اس پرومٹ ایکشن کو سراہا اور اس امید کا اظہار کیا کہ میاں زاہد حسین اسی طرح ہماری سرپرسری و رہنمائی فرمائیںن گے اور باقی ماندہ مسائل بھی حل کروانے میں بھی رہنمائی فرمائین گے ۔

Comments: 0

Your email address will not be published. Required fields are marked with *