کوونا کی وجہ سے نفسیاتی بیماریاں بھی بڑھ گئیں

اسلام آباد : کورونا وائرس کے باعث معاشرے میں نفسیاتی بیماریوں کا بوجھ بھی بڑ ھ رہا ہے اور بیشتر مریض صرف کورونا فوبیا اور وائرس کے خوف کے ساتھ اسپتالوں میں آ رہے ہیں ، جنہیں اور کوئی مسئلہ نہیں ۔

کورونا وائرس کے باعث معاشرے میں نفسیاتی بیماریوں کا بوجھ بھی بڑھ رہا ہے اور بیشتر مریض صرف کورونا فوبیا اور وائرس کے خوف کے ساتھ اسپتالوں میں آرہے ہیں جنہیں اور کوئی مسئلہ نہیں ۔ اس صورتحال پر معروف ماہر امراض نفسیات اور جناح اسپتال کے شعبہ طب نفسیات اور علوم رویہ جات کے اسسٹنٹ پروفیسر ڈاکٹر جاوید اکبر درس نے عوام کو مشورہ دیا ہے کہ خوف ذرہ نہ ہوں ، بیماری سے بچاؤ کی تمام ہدایات پر عمل کریں ، دوست احباب سے جسمانی دوری ضرور اختیار کریں تاہم رابطے منقطع نہ کریں بلکہ انہیں بڑھائیں اور فون پر مسلسل سب سے رابطہ رکھیں ۔

کورونا وائرس میں ذیادہ نہ الجھیں ، اس بارے میں زیادہ بات نہ کریں ، صحیح اور مستند معلومات تک رسائی حاصل کریں ، سوشل میڈیا پرکورونا سے متعلق چیزیں بھی تلاش نہ کریں کیونکہ اس سے دماغ الجھے گا اور مسائل بڑھیں گے ۔ ڈاکٹر جاوید اکبر درس کا کہنا تھا کہ ان مسائل سے بچنے کے لئے ضروری ہے کہ اچھی کتابوں کا مطالعہ کریں ،اپنے جذبات اپنے دوستوں کے ساتھ ٹیلی فون پر بات چیت کے ذریعے شیئر کریں ، اگر شیئر نہیں کر سکتے تو انہیں کہیں لکھ لیں تاکہ دماغی بوجھ کم ہو سکے اور روزمرہ کے معاملات یعنی کھانا ،پینا، سونا، جاگنا اور ورزش کو ترتیب میں لائیں ،بہت سارے کام جن کے لئے پہلے وقت نہیں تھا اب وہ کیے جا سکتے ہیں ۔ چاہے وہ رشتوں یا دوستوں کے بارے میں ہوں ۔

مذید پڑھیں : انجینئر محمد علی مرزا کی گرفتاری

کتابوں کے مطالعے یا بچوں کے ساتھ وقت گزارنے سے متعلق ہوں ان حالات میں سب کیے جاسکتے ہیں لیکن تمام اموار احتیاط کے دائرے میں رہتے ہوئے سرانجام دیئے جائیں ۔ انہوں نےکہا کہ کورونا وائرس نے عوام پر نفسیاتی اثر ڈالا ہے اور کئی مریض آرہے ہیں جنہیں صرف کورونا فوبیا ہے جبکہ لاک ڈاؤن کی وجہ سے بیشتر افراد آ نہیں پاتے ۔ پریشانی کی سب سے بڑی وجہ یہ ہے کہ یہ بیماری اچانک سے آگئی ، پھر پوری دنیا میں پھیل گی اور تاحال اس کا کوئی علاج دریافت نہیں ہوا۔ ان کا کہنا تھا کہ جب بھی اس طرح کی وبا یا بیماری آتی ہے یا کسی کو کوئی ایسی بیماری ہوجائے جس کا علاج موجود نہ ہوتو گھبراہٹ ، بے چینی ، خوف اور پریشانی نمودار ہوتی ہے اور کسی بھی پریشانی میں نفسیات کی علامتیں آنا شروع ہو جاتی ہیں ۔ ان بنیادی تکلیفوں میں نیند کی خرابی ، گھبراہٹ ،بے چینی ، خوف کی کیفیت ، وہم اور وسوسے شامل ہیں ۔

ان کا کہنا تھا کہ اس ضمن میں ایک چیز سمجھنے کی ضروت ہے جب بھی خوف آتا ہے تو گھبراہٹ اوربے چینی میں سب سے پہلا مسئلہ انسان اپنی روٹین بھول جاتا ہے ۔ اسے کھانے ،پینے، سونے ، اٹھنے، نیند اور روز مرہ کے کاموں کا ہوش نہیں رہتا، گھر میں کوئی بات چیت ہوتو دھیان نہیں ہوتا ،چڑچڑا پن ہو جاتا ہے اور نفسیات کی علامتیں ظاہر ہونا شروع ہو جاتی ہیں ۔ کورونا وائرس کے معاملے میں بھی ایسا ہی ہوا ہے اس لئے عوام کو چاہیے کہ اس بیماری سے بچاؤ کی جو احتیاطی تدابیر ڈاکٹروں نے بتائی ہیں وہ اختیا ر کریں ۔

مذید پڑھیں : ڈائریکٹر اسکول نے رشوت کے عوض گریڈ 16 کے اساتذہ کو غیر قانونی ترقیاں دے ڈالیں

جن کے مطابق ہجوم سے دور رہیں، ہاتھ ملانے اور گلے لگنے سے بھی پرہیز کریں، ناک صاف کرنے کے لئے ٹیشو پیپر کا استعمال کریں اور استعمال شدہ ٹیشو پیپر کو مناسب جگہ پر پھینکیں، کھانسی کی صورت میں منہ پر ہاتھ رکھنے کے بجائے بازو کا استعمال کریں، مسلسل وقفوں سے اپنے ہاتھ صابن سے دھوئیں، کھلے عام کھانسنے اور چھیکنیں سے پرہیز کریں، گھر پر رہیں ، کھائیں ،پئیں ، آرام کریں اور دوسروں سے دور رہیں ۔

Comments: 0

Your email address will not be published. Required fields are marked with *