زکوٰة کے مصارف کون کون سے ہیں ؟

زکوٰة ایک اہم اسلامی عبادت اور شرعی فریضہ ہے، شریعت نے اس کے مصارف اور مداتِ خرچ خود نب متعین کر دیئے ہیں، چناں چہ ارشاد باری تعالیٰ ہے : ترجمہ: زکوٰة ، فقراء ،مساکین ،عاملین (زکوٰة کی جمع و تقسیم پر مقرر کارکنان) مؤلفتہ القلوب ،غلام ، مقروض ، اللہ کے راستے میں (جہاد کرنے والے ) اور مسافروں کے لیے ہے ۔ ان میں سے ہر مصرف کی ذیل میں مختصر وضاحت کی جاتی ہے :

فقرا اور مساکین
مصارفِ زکوٰة میں سب سے پہلے قرآن کریم میں اللہ تعالیٰ نے فقراء و مساکین کا ذکر کیا ہے ۔ اس سے اندازہ ہوتا ہے کہ زکوٰة کے مصارف میں یہ لوگ اولین توجہ کے حق دار ہیں، بلکہ زکوٰة کا اصل مقصود ہی فقراء کی محتاجی کو دُور کرنا اور ضرورت مندوں کی ضروریات کے پورا ہونے کی سبیل پیدا کرنا ہے ۔ اہل علم نے ”فقیر و مسکین ” میں فرق کیا ہے۔ علماء کہتے ہیں :فقیر وہ ہے جس کے پاس سامان کفایت کا کچھ حصہ ہو اور اس کے برعکس مسکین وہ ہے جس کے پاس کچھ بھی نہ ہو ۔

مذید پڑھیں :‌ انجینئر محمد علی مرزا کی گرفتاری

عاملینِ زکوٰة
قرآن مجید نے زکوٰة کا تیسرا مصرف ” عاملین ” کو قرار دیا ہے ، عاملین سے مراد وہ لوگ ہے جن کو حکومت نے زکوٰة و عشر کی وصولی کے لیے مقرر کیا ہو۔ جس طرح عاملین زکوٰة و عشر فقراء کے حقوق کے تحفظ کے لیے اپنے آپ کو مشغول رکھتے ہیں، اسی طرح زکوٰة و عشر کے حساب و کتاب اس کی تقسیم وغیرہ کے لیے اور بھی عملہ مطلوب ہو سکتا ہے،ان میں سے جن جن لوگوں کا تقرر فرض کفایہ ہے، جیسے : کوشش کرنے والا، جمع کرنے والا ، لکھنے والا ، تقسیم کرنے والا اور اسی طرح زکوٰة کی جمع و تقسیم کے تمام ارکان، ان کے انجام دینے والوں کے لیے اس کی اجرت لینا جائز ہے ۔ (تفسیر قرطبی جلد: ٨،صفحہ:١٧٨)

مؤلفة القلوب
قرآن مجید نے زکوٰة کا چوتھا مصرف ” مؤلفة القلوب” کو قرار دیا ہے ، ” مؤلفة القلوب” سے وہ لوگ مراد ہیں جن کو اسلام سے مانوس کرنا مقصود ہو ۔ اس مد کی رقم رسول اللہ ۖ کے زمانے میں تین طرح کے لوگوں کو دی جاتی تھی : ایک وہ کفار جن کے بارے میں اُمید ہوتی تھی کہ وہ اس طرح کی امداد و اعانت سے اسلام قبول کر لیں گے ۔ دوسرے وہ کفار کے سردار، جن کو کچھ دے کر ان کے شر سے بچنا مقصود ہوتا تھا۔ تیسرے وہ نو مسلم، جن کا ایمان ابھی کمزور ہوتا اور اس امداد اعانت کی وجہ سے ان کو ثابت قدم رکھا جاتا تھا ۔ یہ تمام صورتیں اب زکوٰہ کے مصرف کے طور پر باقی نہیں رہیں ۔

مذید پڑھیں : سندھ مدرسۃ الاسلام کے قائم مقام VC کے مظالم کیخلاف فپواسا میدان میں آ گئی

غلام کی آزادی
قرآن مجید میں زکوٰة کا ایک مصرف” غلاموں کو آزادی دلانا ”بھی ہے ،لیکن اب نہ غلام ہیں اور نہ ان کی آزادی کا مسئلہ ، البتہ جو مسلمان قیدی جیلوں میں ہیں اور مختلف مقدمات میں پھنسے ہوئے ہیں، ان کی رہائی کے لیے زکوٰة کی رقم خرچ کی جا سکتی ہے۔

غارمین
زکوٰہ کا چھٹا مصرف ”غازمین” ہیں۔ ”غارم” کا لفظ ”مقروض” اور ”قرض دہندہ” دونوں ہی معنوں میں آتا ہے ۔ قرض دہندہ کے معنی ہوں تو مراد یہ ہو گی کہ ایسا شخص جس کے دوسروں کے ذمہ قرضہ جات ہوں لیکن وہ ان کو وصول کرنے پر قادر نہ ہو اور نصاب زکوٰة بھی اس کے قبضہ میں بھی نہ ہو ، ایسا شخص زکوٰة لے سکتا ہے ۔ (فتح القدیر جلد:٢،صفحہ:٢٠٤) ور اگر مقروض مراد ہوں، تو مقصود یہ ہے کہ ایک شخص اگرچہ بذاتِ خود صاحب نصاب ہو، لیکن اس پر لوگوں کے قرض اتنے ہوں کہ ان کو ادا کرے تو صاحبِ نصاب باقی نہ رہے ،تو ایسے شخص کو زکوٰة دی جا سکتی ہے ۔ (احکام القرآن جلد:٤،صفحہ:٣٢٧)

نوٹ : وہ مالی ذمے داریاں ، جو حقوق اللہ میں سے ہیں، جیسے کفارات وغیرہ ،اسی طرح مرنے والے کے ذمہ واجب الاداء قرضوں کی ادائیگی کے لیے زکوٰة کی رقم استعمال نہیں کی جا سکتی ۔

فی سبیل اللہ
قرآن مجید نے زکوٰة کے ساتویں مصرف کی حیثیت سے ”فی سبیل اللہ ” کا ذکر کیا ہے۔اس سے جہاد میں حصہ لینے والے مجاہدین مراد ہیں۔صرف وہ مجاہدین زکوٰة کے حق دارہوں گے جو ”فقراء ” ہوں ، اگر وہ صاحبِ ثروت ہوں تو ان کو زکوٰة نہیں دی جا سکتی ۔

نوٹ : عام رفاہی کاموں جیسے : مساجد ، پلوں ، مسافر خانوں اور سڑکوں وغیرہ کی تعمیر ، میت کی تجہیز و تکفین ، مہمان نوازی وغیرہ میں زکوٰة کا مال خرچ نہیں کیا جا سکتا ۔

مذید پڑھیں : تحریک انصاف کے رہنما فہیم خان نے واٹر بورڈ بلک لائن کا والور زبردستی چلا دیا

ابن السبیل (مسافرین )
زکوٰة کا ایک مصرف ابن السبیل یعنی ”مسافر ” بھی ہیں ،اگر مال دار مسافر بھی حالتِ سفر میں محتاج ہوجائے، تو زکوٰة لے سکتا ہے۔(اتحاف علی الاحیاء جلد:٤،صفحہ:٢٥٠) البتہ ایسے شخص کو ضرورت کے بہ قدر ہی لینا چاہیے ۔ (البحر الرائق جلد:٢،صفحہ:٢٤٢) سفر پورا ہونے کے بعد زکوٰة کی کچھ رقم بچ جائے، تو باقی ماندہ رقم کو صدقہ کرنا ضروری نہیں۔ (ردالمحتار ٦٢٢)

مسئلہ : مستحق زکوٰة کے لیے ضروری ہے کہ جس وقت اس کو زکوٰة دی جائے ، اس وقت وہ محتاج و ضرورت مند ہو ، مثلاً:کسی شخص نے پیشگی کسی محتاج کو زکوٰة کی رقم دے دی اور جب سال پورا ہوا اور زکوٰة کی ادائیگی کا وقت آیا،اس وقت وہ محتاج غنی ہو چکا تھا، تب بھی زکوٰة ادا ہو گئی ۔ (تتار خانیہ جلد:٢،صفحہ:٢٦٠)

مسئلہ: نا بالغ بچے باپ کے تحت ہیں ، اگر باپ کے لیے زکوٰة جائز نہ ہو، تو ان بچوں کے لیے بھی جائز نہیں ، اگر باپ فقیر و محتاج ہو اور زکوٰة کا حق دار ہو تو نابالغ بچوں کے لیے بھی زکوٰة جائز ہو گی ، اگرچہ ان کی ماں غنی ہی کیوں نہ ہو۔

مسئلہ: بالغ لرکوں کے فقیر و مال دار ہونے میں خود ان کا اعتبار ہے، اگر مال دار باپ کے بالغ لڑکے خود محتاج ہوں، تو زکوٰة لے سکتے ہیں۔ علوم دینیہ کے طلباء علمی استفادہ و افادہ کے لیے خود کو فارغ کرلیں اور ان کا کوئی ذریعہ ٔ معاش نہ ہو، تو زکوٰہ لے سکتے ہیں۔( درمختار علی علی الردجلد: ٢،صفحہ:٥٩)

مسئلہ: کسی کو حقدار سمجھ کر زکوٰة دے دی بعد کو معلوم ہوا کہ وہ فقیر ہی نہیں ہے تو بھی زکوٰة ادا ہو گئی ۔ کچھ لوگ ہیں جن کو شریعت نے اس باب میں زیادہ حق دار سمجھا ہے ، اس سلسلے میں بنیادی اُصول یہ ہے کہ: جو زیادہ ضرورت مند ہو ، وہ زکوٰة کا زیادہ استقاق رکھتا ہے ۔

قریبی رشتے داروں کو زکوٰة دینا زیادہ بہتر ہے اور اس میں ثواب بھی زیادہ ہے، جیسے :بھائی بہن ،چچا، پھوپھی ، خالہ ، ماموں وغیرہ ، رشتے داروں کو زکوٰة دی جائے ،تو ان کو زکوٰة دینے میں دوہرا ثواب ہے، زکوٰة بھی ادا ہوگی اور صلہ رحمی کا حق بھی ادا ہوگا، اگرچہ وہ دوسرے شہر میں رہتے ہوں۔(درمختارجلد ٢،صفحہ:٦٨) ، زکوٰة دینے میں اہلِ شہر کو مقدم رکھا جائے ، ہاں اگر دوسری جگہزیادہ محتاج لوگ ہوں، یا کوئی زیادہ اہم مصرف ہو یا اقرباء ہوں، تو دوسرے شہر میں زکوٰة بھیجنے میں قباحت نہیں بلکہ ذیادہ بہتر ہے۔(تتار خانیہ جلد: ٢،صفحہ:٢٨٢)

مذید پڑھیں : جامعہ اردو کے ڈاکٹر عارف زبیر مستقبل کے مستقل وائس چانسلر ہونگے

محتاج علماء ، علوم دینیہ کے طلباء ، صوفیہ و زہاد اور دینی کام کرنے والوںکی زکوٰة سے مدد کرنا ذیادہ ثواب کا باعث ہے۔ مختلف روایتوں میں آپۖ نے اہل بیت کے لیے صدقہ کو حرام قرار دیا ہے(اس سے بنو ہاشم کے پانچوں خاندان یعنی: آلِ علی ، آلِ عباس ، آل ِجعفر ، آلِ عقیل اور آلِ حارث بن عبدالمطلب ہیں ۔وہ بنو ہاشم،جنھوں نے نبی کریم صلی اللہ تعالی علیہ وآلہ وسلم کی اِعانت نہ کی مثلاابولہب ،جو اگرچہ یہ کافر بھی حضرت عبد المطلب کا بیٹا تھا،لیکن اس کی اولا ددر اولاد بنی ہاشم میں شمارنہیں ہوگی۔ دو روایتوں کے ذکر پر اکتفا کیا جاتا ہے : حضرت ابو ہریرہ سے مروی ہے کہ حضرت حسن نے زکوٰة کی کھجوور منہ میں رکھ لی تو آپۖ نے اگلوادیا اور ارشاد فرمایا کہ ہم لوگوں کیلئے صدقہ کی چیزیں روا نہیں۔(مسلم جلد:١،صفحہ:٣٤٣)

حضرت عبداللہ ابن عباس نے عاملِ زکوٰة کی حیثیت سے اموالِ زکوٰة سے خدمت کا عوض لینا چاہا تو آپۖ نے دینے سے انکار فرمادیا۔(کنزالعمال جلد: ٤،صفحہ:٣٠٩)سادات توایک طرف آپۖ نے ان کے غلاموں تک کے لیے زکوٰة کو روا نہیں رکھا۔(ترمذی جلد: ١،صفحہ:٨٧ ) بنو ہاشم و سادات میں جن لوگوں پر زکوٰة حرام ہے وہ پانچوں خاندان آل علی ، آل عباس ، آل جعفر ، آل عقیل اور آل حارث بن عبدالمطلب ہیں۔البتہ اب بنی ہاشم وسادات کو ہر طرح کے صدقات دینے میں کوئی مضائقہ نہیں۔(طحاوی جلد: ١،صفحہ:٣٠

Comments: 0

Your email address will not be published. Required fields are marked with *