امتحانات اور تعطیلات کے فیصلے نے لاکھوں طلبہ و اساتذہ کو چکرا دیا

وفاقی حکومت نے نویں، دسویں، گیارہویں اور بارہویں کے طلبہ کو گزشتہ برس کے نتائج پر اگلی جماعت میں پرموٹ کرنے کا اعلان کیا ہے ، جب کہ حکومت سندھ نے وفاق کا فیصلہ ماننے سے انکار کر دیا ہے ۔ پنجاب میں نویں دسویں کے امتحانات ہو چکے ہیں اور سائنس کے پریکٹیکل ہونا باقی ہیں ۔ اساتذہ تنظیموں نے فیصلہ پر نظر ثانی کی درخواست کی ہے ۔

7 مئی کو قومی رابطہ کمیٹی کے اجلاس کے بعد میڈیا بریفنگ میں وفاقی وزیر تعلیم شفقت محمود نے بتایا کہ پہلے تعلیمی اداروں کو 31 مئی تک بند رکھنے کا فیصلہ کیا تھا ، جس میں اب مزید ڈیڑھ ماہ کی توسیع کر رہے ہیں ، جس کے بعد تعلیمی ادارے 15 جولائی تک بند رہیں گے ۔ وزیر تعلیم نے کہا کہ صورتحال کی وجہ سے بورڈز کے امتحانات ملتوی نہیں بلکہ ختم کر دیئے ہیں ، جس کے بعد اب نویں، دسویں، گیارہویں اور بارہویں کے امتحانات نہیں ہوں گے ۔

مذید پڑھیں : طاہر القادری اور الیاس قادری کو قتل کرانے کی سازش کرنے والا مذہبی اسکالر گرفتار

شفقت محمود نے کہا کہ نویں، دسویں، گیارہویں اور بارہویں جماعت کے طلبہ کو سابقہ نتائج پر اگلی کلاسز میں ترقی دی جائے گی ۔ شفقت محمود کا کہنا تھا کہ پچھلے سال کا نتیجہ دیکھ کر طلبہ کو پروموٹ کیا جائے گا اور اسی طرح یونیورسٹی میں داخلہ گیارہویں جماعت کے نتیجے پر ملے گا ۔

دوسری جانب سندھ حکومت کی جانب سے اس پر سخت ردعمل آیا ہے ۔ وزیر تعلیم سندھ سعید غنی کا کہنا ہے کہ صوبہ سندھ میں نویں اور دسویں جماعت کے امتحانات سمیت دیگر فیصلے محکمہ تعلیم کی اسٹیئرنگ کمیٹی کی مشاورت سے کئے جائیں گے ۔ اسٹیرنگ کمیٹی کا اجلاس چند روز میں بلایا گیا ہے ۔اسٹیرنگ کمیٹی میں تمام اسٹیک ہولڈرز، ماہرین تعلیم، بورڈز اور جامعات کے سربراہان، نجی اسکولز کی ایسوسی ایشنز کے عہدیداران اور تمام اعلیٰ تعلیمی سرکاری افسران ممبرز ہیں ۔ایک روز قبل ہی یکم جون سے تعلیمی اداروں کے نہ کھلنے کے حوالے سے سندھ کا موقف دے دیا تھا ۔آج نیشنل کوآپریشن کمیٹی کے اجلاس کے بعد جو فیصلے ہوئے ہیں ان میں صوبوں کو اختیار دیا گیا ہے ۔

مذید پڑھیں : اساتذہ تنظیموں نے HEC کی اسرائیلی مجلات پالیسی مسترد کر دی

پنجاب ٹیچرز یونین کے مرکزی صدر چوہدری سرفراز، سید سجاد اکبر کاظمی، رانا لیاقت علی، رانا الطاف، رانا انوار ، عبدالقیوم راہی و دیگر نے کہا ہے کہ بورڈز امتحانات کی منسوخی غیر دانشم ندانہ فیصلہ ہے اس سے طالب علموں کی کارکردگی بری طرح متاثر ہو گی ۔ پہلی سے آٹھویں جماعت تک تک تو بچوں کی اگلی کلاسز میں پرموشن سمجھ میں آتی ہے ۔ لیکن نویں سے دسویں ، گیارہویں سے بارہویں میں پرموشن سمجھ سے بالاتر ہے کیونکہ نویں اور گیارہویں کلاسز کے امتحانات ہی نہیں ہوئے ۔

جب کہ دسویں کے پرچہ جات بورڈ لے چکا ہے ۔ ان کے سائنس مضامین کے پریکٹیکل ابھی ہونا باقی تھے ۔ کم ازکم پریکٹیکل سے دسویں جماعت کے نتائج کا اعلان کرنے کے لئے تو اقدامات ہونے چاہیں ۔ اب تک کی رپورٹس کے مطابق 13 سال سے 22 سال تک کے بچے و نوجوان کورونا وائرس سے متاثر نہیں ہوئے نویں، دسویں، گیارہویں اور بارہویں کلاس کا کلاس حجم 20/20 بچوں پر رکھ کر ان کی پڑھائی کا آغاز جون میں کر نے کے لئے حکمت عملی بنانی چاہیے ۔

مذید پڑھیں : جامعہ اردو کے ڈاکٹر عارف زبیر مستقبل کے مستقل وائس چانسلر ہونگے

وفاقی حکومت کو بورڈز امتحانات کے خاتمے اور تعلیمی اداروں کو 15 جولائی تک بند رکھنے کے فیصلے پر نظر ثانی کرنی چاہیے۔ دوسری طرف بارہویں یعنی ایف ایس کے امتحان کے بعد میڈیکل کالجوں اور انجینئرنگ یونیورسٹیوں میں داخلے ہوتے ہیں۔ یہ مرحلہ بچوں کے مستقبل کیلئے نہایت اہم ہے ، اگر کسی بچے کا رزلٹ گیارہویں میں اچھا نہیں تھا تو وہ بارہویں میں اپنی کسر پوری کرسکتا ہے لیکن امتحان نہ ہونے سے وہ گیارہویں کے رزلٹ کے مطابق ہی نیا رزلٹ حاصل کریگا ۔ جس سے وہ اپنی زندگی کا اہم ترین موقع گنوا سکتا ہے۔اس طرح بی ایس آنرز میں داخلوں کا بھی بارہویں کے رزلٹ پر انحصار ہوتا ہے ذرائع کا کہنا ہے کہ امتحان نہ لینے کے فیصلے سے بعد میں داخلوں کے وقت انتہائی پیچیدگیاں پیدا ہو سکتی ہیں۔

آل سندھ پرائویٹ اسکولز اینڈ کالجز ایسوسی ایشن کے چیئرمین حیدر علی کا کہنا ہے کہ 15 جولائی تک تعلیمی اداروں کی بندش اور نویں جماعت سے بارہویں جماعت کے امتحانات کی منسوخی کا اعلان عجلت میں عاقبت نا اندیشی کا فیصلہ ہے ۔ جب تعلیم صوبائی معاملہ ہے تو حتمی فیصلے بھی صوبوں کو ہی کرنا ہیں ۔ تعلیمی اداروں کی طویل بندش قابل قبول نہیں ہے ۔ تعلیمی سال اور تعلیم کا بہت زیادہ نقصان ہو گا ,سارے کاروبار SOP کے ساتھ ہو سکتے ہیں تو تعلیمی ادارے کیوں نہیں کام کرسکتے ۔ حکومت تعلیمی اداروں کے لیے SOP بنانے یا پھر ہم سب مل کر تیار کرسکتے ہیں ۔ پرائویٹ اسکولز اور کالجز کے لیے نا قابل تلافی معاشی خسارہ، ادارے بند اور اسٹاف بیروزگار ہو جائے گا ۔

مذید پڑھیں : سندھ مدرسۃ الاسلام کے قائم مقام VC کے مظالم کیخلاف فپواسا میدان میں آ گئی

اب وفاقی یا صوبائی حکومت کے اعلانات صرف اور صرف پرائویٹ تعلیمی اداروں کی مالی امداد کے ساتھ زیرغور لائے جائیں گے ۔نویں تا بارہویں جماعت امتحانات کا یکسر منسوخ کیا جانا کسی بھی صورت قابل عمل نہیں ہے ۔ بہت ساری پیچیدگیاں پیدا ہوں گی ۔ ہر صوبے کی اسکولز ایسوسی ایشنز باہمی تعاون اور مشاورت سے قابل عمل اور قابل قبول لائحہ عمل تیار کریں اور ہر صوبائی فورم پر پیش کریں ۔ بین الصوبائی رابطے کے لیے ہر ایسوسی ایشن کے صرف دو عہدیداران پر مشتمل آن لائن ایک قومی تعلیمی رابطہ کمیٹی تشکیل دی جا سکتی ہے ۔

Comments: 0

Your email address will not be published. Required fields are marked with *

Exit mobile version