جامعہ اردو کے ڈاکٹر عارف زبیر مستقبل کے مستقل وائس چانسلر ہونگے

جامعہ اردو سینیٹ کے اجلاس میں قائم مقام وائس چانسلر بھی مستقل وی سی کی دوڑ میں شامل ہو گئے ۔ جونیئر اساتذہ کو بھی سرچ کمیٹی میں شامل کر لیا گیا ہے ۔ جامعہ اردو کی تاریخ کا طویل ترین اجلاس گورنر ہاؤس کراچی میں منعقد ہوا ۔ سینیٹرز کو جامعہ اردو کی بہتری کے لیئے اپنا اپنا پلان پیش کرنے کی بھی ہدایات جاری کی گئی ہیں ۔

قائم مقام ڈاکٹر عارف زبیر پر عائد بھرتیوں اور مستقل وائس چانسلر کے لئیے اپلائی کرنے پابندی اٹھا لی گئی ہے ۔ جامعہ اردو کی سینیٹ کا 42 واں اجلاس گزشتہ روز صدر پاکستان ڈاکٹر عارف علوی کی صدارت میں گورنر ہاؤس کراچی میں منعقد ہوا ۔ جس میں جامعہ اردو کے قائم مقام وائس چانسلر ڈاکٹر عارف زبیر، رجسٹرار ڈاکٹر ساجد جہانگیز، سینیٹر عبدالقیوم خلیل، ڈاکٹر جعفر احمد، شکیل الرحمن، محمد عرفان عزیز، معین الدین عقیل، ڈاکٹر واجد جواد سمیت دیگر شریک ہوئے ۔

مذید پڑھیں : پی ٹی آئی حکومت کرپشن کے خاتمے میں سنجیدہ نہیں

اجلا س ساڑھے گیارہ بجے شروع ہوا جو ساڑھے پانچ بجے تک بغیر توقف کے اجلاس جاری رہا ۔ اجلاس میں ایجنڈے کو مکمل تفصیل سے ڈسکس کیا گیا ۔ ہر پوائنٹ پر تمام سینیٹرز کو بولنے دیا گیا ۔ اجلاس میں انتالیسویں اجلاس، چالیسویں اور اکتالیسویں اجلاس کے منٹس کی منظوری دی گئی ۔ اجلاس میں فیصلہ کیا گیا کہ سنڈیکیٹ کی جانب سے وائس چانسلر کی سرچ کمیٹی کے لیئے پیش کئے گئے ۔ اساتذہ کے نمائندوں کی نمائندگی کی منظوری دی گئی ۔ جن میں ڈاکٹر افتخار طاہری اور اصغر دشتی شامل ہیں ۔

ان ناموں پر صرف سینیٹرز ڈاکٹر معین الدیق عقیل اور ڈاکٹر واجد جواد نے اعتراض کیا ۔ یہ اجلاس مارچ میں ہونا تھا ۔ تاہم کورونا کی وجہ سے نہیں ہو سکا تھا ۔ سینیٹ کے اجلاس میں نئے وائس چانسلر کے تقرر کے لئے ٹی او آرز پیش کئے گئے ۔ جن میں ڈاکٹر عرفان عزیز ، معین الدین عقیل اور ڈاکٹر عبدالقیوم خلیل نے ٹی او آرز کی جانب سے بھی ٹی او آرز پیش کئے گئے ۔ جب کہ جامعہ اردو کی اسٹیئرنگ کمیٹی کی جانب سے بھی ٹی او آرز پیش کئے گئے ۔

مذید پڑھیں : گندم چوری کرنے والے 3 سرکاری افسران کیخلاف نیب کی انکوائری شروع

اس کمیٹی کی جانب سے ڈاکٹر ظہیر عشیر نے فرینڈ آف اردو یونیورسٹی اور کنوینر سرچ کمیٹی کی حیثیت سے ٹی او آرز پیش کئے ۔ اجلاس میں بتایا کہ اجلاس فیزیکل ہونا ضروری تھا ۔ اس لئے اس میں تاخیر ہوئی۔ تاہم اجلاس میں دونوں جانب سے ٹی او آرز آنے پر اس بات پر خاصی بحث کی گئی کہ کون سے ٹی او آرز ہونگے ۔ جس کے بعد اسٹیئرنگ کمیٹی کے ٹی او آرز کو بھی اجلاس میں رکھا گیا اور ڈسکس کیا گیا ۔

صدر پاکستان نے کہا دونوں ٹی او آرز پیش کریں اور سب پر بحث کریں ۔ جس کو جس پر اعتراض ہوئے وہ پیش کر دیجئے گا ۔ ان ٹی او آرز میں بتایا کہ مستقل وائس چانسلر کے تقرر کے لئے ضروری ہے کہ اس کی زیادہ سے زیادہ عمر 65 سال ہو ۔ اس کی تعلیمی قابلیت میں پی ایچ ڈی ہونا، اور اضافی اہلیت میں کسی بھی یونیورسٹی میں 15 سالہ تدریس کا تجربہ ہونا اورکم از کم 15 ریسرچ جرنلز کا شائع ہونا جن میں سے 3 ریسرچ جرنلز اپلائی کرنے کے آخری پانچ میں لکھا ہونا ضروری ہے ۔

مذید پڑھیں : اساتذہ تنظیموں نے HEC کی اسرائیلی مجلات پالیسی مسترد کر دی

ٹی او آرز کے مطابق جامعہ میں وائس چانسلر کے امیدوار کو جامعہ اور اردو کے بارے میں سمجھ بوجھ ہونا چاہئے ، یعنی اس نے اردو کی ترویج و اشاعت کیلئے کوئی کام کر رکھا ہو ۔ اجلاس میں سینیٹ کے ممبر ڈاکٹر ظہیر عشیر دس منٹ کی پریزنٹیشن پیش کی جس میں انہوں نے 2023 تک جامعہ کی بہتری کے لئے آرا اور طریقہ کار بتایا گیا تھا ۔ جس کے بعد صدر پاکستان نے تمام سینیٹرز کو ہدایات دیں کہ وہ اگلے اجلاس میں جامعہ کی بہتری کے لئے اپنا اپنا پلان لیکر آئیں ۔

ڈاکٹر عارف زبیر کے بارے میں بتایا جاتا ہے کہ انہوں نے پروفیسر بننے کے بعد کوئی پیپر نہیں لکھا ، جب کی باقی تمام شرائط پر پورا اترتے ہیں اور سینیٹ کے اجلاس میں ان پر عائد پابندی کو بھی ہٹا لیا گیا ہے ۔ سینیٹ میں بحث کی گئی کہ سابق اجلاس میں فیصلہ کیا گیا تھا کہ قائم مقام وائس چانسلر مستقل وائس چانسلر کے لئے اپلائی نہیں کر سکیں گے اور دوسری پابندی یہ عائد کی گئی تھی کہ وہ بھرتیاں نہیں کر سکیں گے ۔

مذید پڑھیں : ایک بھائی کا دوسرے کو اپنی اولاد دینے کا حکم ؟

تاہم اس اجلاس میں دونوں ہی شرائط کو ہٹا لیا گیا ہے۔اجلاس میں صدر پاکستان کو بتایا کہ اگر ڈاکٹر عارف زبیرکو سرچ کمیٹی کے بعد بھرتی کے عمل میں شریک ہونے سے روکا گیا تو معاملہ عدالت چلا جائے گا ۔ اور دوسری بات یہ بھی ہے کہ جامعہ میں ہونے والی بھرتیوں کو سینیٹ کی اجازت سے مشروط کیا جائے ، کیوں کہ بغیر بھرتیوں کے معاملات کو چلانا مشکل ہے ۔

معلوم رہے کہ اب ڈاکٹر عارف زبیر کے لئے مستقل وائس چانسلر بننے کی تمام راہین ہموار کر لی گئی ہیں جبکہ باقی مدد ڈاکٹر افتخار احمد طاہری اور اصغر دشتی کریں گے۔ ذرائع کا کہنا ہے کہ سرچ کمیٹی کی جانب سے جلد اشتہار دیا جائے گا جس کے بعد مستقل وائس چانسلر کے لئے اپلائی کیا جائے گا تاہم ڈاکٹر عارف زبیر کم از کم ایک سال مذید قائم مقام وائس چانسلر کے نظام چلا لیں گے ۔

Comments: 0

Your email address will not be published. Required fields are marked with *