پی ٹی آئی حکومت کرپشن کے خاتمے میں سنجیدہ نہیں

کرپشن کی اس صورتحال نے ملک کو اندر سے کھوکھلا کر کے رکھ دیا ہے

مالی بد دیانتی اور کرپشن پاکستان کا ہی نہیں، پوری دنیا کا ایک اہم مسئلہ اور درد سر ہے۔ کیا ترقی یافتہ اور کیا ترقی پذیر و غریب، دنیا کے سبھی ملکوں میں کرپشن اور مالی ہیرا پھیری کی مختلف صورتیں عام ہیں اور حکومتیں ان سے نمٹنے کیلئے مختلف نگران ادارے اور سخت قوانین متعارف کرتی رہتی ہیں۔ اس سلسلے میں پولیسنگ نظام کو بھی خصوصی اہمیت دی جاتی ہے اور اس کے ذریعے نظام کے شگافوں پر خصوصی نظر رکھی جاتی ہے۔ ترقی یافتہ ملکوں میں عام طور پر چیک اینڈ بیلنس کا نظام سخت اور ہر چیز دستاویزی ہونے کے باعث زیادہ بڑے پیمانے پر مالی اسکینڈل اور بد دیانتی و بد انتظامی کے کیسز سامنے نہیں آ پاتے، تاہم چھوٹی سطح پر کرپشن، رشوت اور منی لانڈرنگ سے تمام تر انتظامات اور نظام کی شفافیت کے باوجود ترقی یافتہ ملک بھی پاک نہیں ہیں۔ ترقی یافتہ اور مستحکم نظام کے حامل ملکوں کے بر عکس ترقی پذیر اور غریب ملکوں میں کرپشن، چور بازاری، رشوت، منی لانڈرنگ سمیت مالی بد دیانتی کی تمام ہی صورتیں بڑے پیمانے پر عام ہیں، جس کی وجوہ میں سیاسی عدم استحکام، پالیسیوں میں عدم تسلسل، بری حکمرانی، قانون کی بالا دستی کا فقدان اور معاشی بد حالی شامل ہیں۔ پاکستان بھی ترقی پذیر دنیا سے تعلق رکھنے والا ملک ہے اور دنیا کے ان ملکوں میں شامل ہے، جہاں کرپشن اور مالی بد دیانتی ہمیشہ رہی ہے۔ پاکستان کرپشن اور مالی بد دیانتی کا شکار دوسرے ترقی پذیر ملکوں کی طرح کرپشن کے حوالے سے ہمیشہ عالمی سطح پر خبروں اور سرخیوں میں رہتا ہے۔ بلاشبہ کرپشن پاکستان کا ایک ایسا مسئلہ ہے،جسے کسی صورت نظر انداز نہیں کیا جا سکتا۔

دنیا کے دوسرے ملکوں کی طرح پاکستان میں بھی کرپشن پر نظر رکھنے، مالی بد دیانتی کے خاتمے اور اس حوالے سے کارروائیاں کرنے کیلئے سزا و جزا کا نظام، ادارے اور قوانین موجود ہیں، مگر اس سب کے باوجود کرپشن کی صورتحال یہ ہے کہ ایک رپورٹ کے مطابق پاکستان میں یومیہ اربوں روپے کرپشن کی نذر ہوجاتے ہیں۔ کرپشن کی اس گرم بازاری کی وجہ سے ادارے تباہ ہو کر رہ گئے ہیں، ایک آدھ کے سوا کوئی ادارہ اور شعبہ ایسا نہیں ہے، جہاں کرپشن مختلف صورتوں میں کارفرما نہ ہو۔ سرکاری اداروں میں عالم یہ ہے کہ ایک طرف کوئی کام رشوت دیے بغیر نہیں ہوتا اور دوسری طرف ترقیاتی منصوبوں، اسکیموں اور ادارہ جاتی اخراجات کا سرکاری فنڈ بھی غیر قانونی طریقے سے ہڑپ کر لیا جاتا ہے۔ کرپشن کی اس صورتحال نے ملک کو اندر سے کھوکھلا کر کے رکھ دیا ہے۔ یہ ایسا روگ ہے جس نے آج تک معیشت کو پنپنے نہیں دیا، نتیجتاً ملک آج گردن تک قرضوں کی دلدل میں دھنس چکا ہے اور قوم کے ہر فرد کا بال بال قرضوں میں جکڑا ہوا ہے۔ یہ ایسی دیمک ہے جو ستر سال سے ملک کو اندر سے کھا رہی ہے، مگر اس کا آج تک کوئی شافی علاج دریافت نہیں کیا جا سکا۔ بلا امتیاز احتساب کا جامع نظام ہی اس ناسور کا خاتمہ کر سکتا ہے، اس کے لیے جہاں قوانین وضع اور کئی ادارے قائم کیے گئے ہیں، وہاں مختلف جماعتیں اور حکومتیں بھی بے لاگ احتساب اور کرپشن کے خاتمے کا نعرہ لگاتی رہی ہیں، تاہم ہنوز کسی مقتدر جماعت اور حکومت کا نعرہ، دعویٰ اور وعدہ اور متعلقہ سرکاری ادارے اور قوانین قوم کو کرپشن کی اس لعنت سے چھٹکارا دینے میں کامیاب نہیں ہو سکا ہے۔

مذید پڑھیں : طاہر القادری اور الیاس قادری کو قتل کرانے کی سازش کرنے والا مذہبی اسکالر گرفتار

احتساب نظام کی کامیابی کے لیے ریڑھ کی ہڈی کی حیثیت رکھتا ہے، احتساب اور سزا و جوابدہی کا کڑا نظام نہ ہو تو ملک اور معاشرہ جنگل بن جاتے ہیں اور پوری سوسائٹی انتشار اور خلفشار کا شکار ہو جاتی ہے۔ آج ملک میں ہر طرف انتشار، اضطراب، مسائل کا انبار بھی ہے اور سیاسی عدم استحکام اور معاشی زبوں حالی بھی، اس کی وجہ کرپشن کے سوا اور کیا ہو سکتی ہے؟ وزیر اعظم جناب عمران خان کی قیادت میں پاکستان تحریک انصاف احتساب اور کرپشن کے خاتمے کی علمبردار جماعت بن کر ابھری۔ پی ٹی آئی کی تمام ترسیاسی جد و جہد کرپشن کے خاتمے کے نام پر رہی ہے اور اسی نعرے پر گزشتہ الیکشن میں لوگوں کی بڑی تعداد نے اس جماعت کو ووٹ دے کر اسے اقتدار کے ایوان میں پہنچایا۔پی ٹی آئی کے نعروں، دعووں اور انتخابی منشور کے پیش نظر امید کی جا رہی تھی کہ اقتدار میں یہ آکر یہ جماعت ملک کا نظم و نسق ٹھیک کر دے گی، کرپشن کا خاتمہ کرکے گورننس کے نظام کو شفاف بنادے گی، مگر بد قسمتی سے اس جماعت کے دعوے بھی سابقہ حکومتوں کی طرح سیاسی مخالفین اور اپوزیشن کو کرپشن کے نام پر دبانے کی کوششوں تک ہی محدود رہے اور عوام کو نظام میں انتظامی اور قانونی اصلاحات کے ذریعے شفافیت لانے کے حوالے سے مایوسی کا ہی سامنا کرنا پڑا۔ پی ٹی آئی حکومت نے احتساب کے نام پر صرف سیاستدانوں کو ہدف بنایا، جس کے نتیجے میں ایک طرف احتساب کا نظام اور ادارہ متنازع ہو کر رہ گیا، دوسری جانب اس عمل سے سیاسی عدم استحکام کو فروغ ملا۔ یہ صورتحال بد قسمتی سے اب بھی جاری ہے ۔

مذید پڑھیں : ٹیپو سلطان تھانے کی حدود میں جرائم بڑھ گئے

یہ خبر افسوسناک ہے کہ وفاقی حکومت نے توانائی کے شعبے میں کرپشن کی تحقیقات کیلئے انکوائری کمیشن کا قیام 2ماہ کیلئے موخر، جبکہ رپورٹ پبلک کرنے کا فیصلہ واپس لے لیا ہے۔ اس سے قبل بھی حکومت کی جانب سے زور و شور سے کئی اقدامات اور منصوبوں کا اعلان کرکے بعد میں خاموشی سے ان سے صرف نظر کیا جاتا رہا ہے، اس طرز عمل سے حکومتی فیصلوں کی نا پختگی اور حکومت کی غیر سنجیدگی کا اظہار ہوتا ہے، جو قانون کی بالا دستی کیلئے تباہ کن تاثر ہے۔ بالخصوص احتساب کے باب میں اس کہہ مکرنی سے یہ تاثر پھیلے گا کہ پی ٹی آئی حکومت صبح و شام جو سودا زور و شور سے بیچتی ہے، عملاً اس کے حوالے سے بھی سنجیدہ نہیں ہے۔ ابھی تو قوم آٹا چینی بحران کے ذمے داروں کے حتمی طور پر تعین اور ان کو سزا ہونے کی منتظر ہے، ایسے میں حکومت نے توانائی سیکٹر میں ہونے والی کرپشن کی تحقیقات موخر کرکے در اصل واضح پسپائی اختیار کی ہے، جو کرپشن کے خاتمے کے حوالے سے عوامی امنگوں کی توہین ہے۔

Show More

عنایت شمسی

عنایت شمسی روزنامہ اسلام میں ایڈیٹوریل بورڈ سے وابستہ ہیں اور سینئر سب ایڈیٹر بھی ہیں۔ آپ کا شمار بہترین لکھاریوں میں ہوتا ہے۔ معاشرتی مسائل پر بہترین نکات لکھتے ہیں۔ آپ کے قلم سے درجنوں کتابوں تیار ہو کر مارکیٹ ہو چکی ہیں۔ آپ نے الرٹ نیوز کیلئے خصوص بلاگ لکھنے کا سلسلہ شروع کیا ہے۔

One Comment

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button
Close