طاہر القادری اور الیاس قادری کو قتل کرانے کی سازش کرنے والا مذہبی اسکالر گرفتار

مذہبی منافرت پھیلانے کے الزام میں جہلم پولیس نے مذہبی اسکالر انجینئر محمد علی مرزا کو گرفتار کر لیا

جہلم : مذہبی اسکالر انجنیئر محمد علی مرزا کو مذہبی منافرت پھیلانے پر محلہ باغ ، مین بازار جہلم ریلوے روڈ کے چوک اہلحدیث کی مسجد گنبد والی سے گرفتار کر لیا گیا ہے ۔ پنجاب پولیس نے مذہبی منافرت پھیلانے اور بین المذاہب ہم آہنگی کو سبوتاژ کرنے کے الزام میں مذہبی سکالر انجینئر محمد علی مرزا کو جہلم سے گرفتار کیا ہے ۔

انجینئر محمد علی مرزا پر مذہبی منافرت پھیلانے کی ایف آئی آر تھانہ سٹی جہلم میں سب انسپکٹر محمد شعیب اصغر کیانی کی مدعیت میں درج کی گئی ہے ۔ الرٹ نیوز کو حاصل ہونے والی ایف آئی آر نمبر 120/2020 میں لکھا گیا ہے کہ انجینئر محمد علی مرزا نے اپنی ایک تقریر کے دوران لوگوں کو تحریک منہاج القران کے سربراہ علامہ طاہرالقادری اور دعوت اسلامی کے سربراہ مولانا الیاس قادری کو قتل کرنے کی ترغیب دی تھی ۔

مذید پڑھیں : اہل تشیعہ نے 21 رمضان کو ہر صورت جلوس نکالنے کا اعلان کر دیا

محمد علی مرزا نے اپنی تقریر میں کہا تھا کہ پاکستان سے سارے پیروں کو ختم کیا جائے ۔ طاہر القادری اور الیاس قادری کا مسئلہ بھی حل کیا جائے اور ان میں سے ایک قادری باقی رکھنے کیلئے کسی ایک کو شہید کر دیا جائے ۔ ایف آئی آر کے مطابق پنجاب پولیس کے اے ایس آئی محمد بلال اور عادل آصف جہلم کے علاقے شاندار چوک پر گشت کررہے تھے کہ اس دوران ان کو مخبر خاص نے اطلاع دی کہ انجنیئر محمد علی مرزا ولد مرزا محمد ارشد سکنہ مشین محلہ نمبر ایک جہلم نے تقریر کی ہے اور مختلف مذہبی رہنمائوں کے خلاف اشتعال انگیزی کی ہے ۔ اس تقریری بیان کے ذریعے واضح طو رپر نمائندہ علما کے خلاف لوگوں کو اکسایا ہے اور انہیں اشتعال دلایا ہے ۔

انجنیئر محمد علی مرزا نے دوران تقریر کہا کہ دنیا کے سارے پیر قتل ہو جائیں اور علم باقی نہ رہے تو اس کے بعد بھی ہم اس پیر کو نہیں مانے گے جو اکیلا رہ جائے گا ، قتل کریں اور پاکستان میں 71 سو مار دو ۔ سب پیروں کو مار دو ، پاکستان میں ان کی صفائی کریں اور کم از کم قادری کو تو قتل کریں ۔ الیاس قادری یا طاہر القاردی کو تو قتل کریں ۔ الیاس قادری کہتے ہیں مجھے کسی نے شہید کر دیا تو میں نے اس کو معاف کردیا ۔

مذید پڑھیں : کرپشن کے خلاف بولا تو “بوٹی بوٹی” کردینگے، عاقب جاوید کو دھمکی

قتل پر ابھارنے کے بعد سامنے بیٹھے ہوئے ایک نوجوان نے کہا کہ یہ آپ زیادتی کررہے ہیں ایسا نہ کریں جس پر انجنیئر محمد علی مرزا نے کہا کہ وہ خود کہتے ہیں کہ مجھے قتل نہیں شہید کیا جائے تو میں معاف کردوں گا ۔جب دلیل قرآن و حدیث سے لے رہے ہیں تو میں اپنی روح کو راضی کروں گا ۔ ایف آئی آر کے مطابق انجنیئر محمد علی مرزا نے مختلف مسالک کے مابین ہم آہنگی کو سبوتاژ کر کے جرم 153 اے تعزیرات پاکستان کا ارتکاب کیا ہے ۔ جس کے خلاف استغاثہ ہذا بجرم مذکورہ بالا مرتب کر کے بغرض فائل مقدمہ بدست محمد عادل ارسال تھانہ کیا ہے ۔

واضح رہے کہ انجنیئر محمد علی مرزا  جہلمی بنیادی طور مکینیکل انجینیئر ہیں ۔ ان کی عمر انتالیس سال کے قریب ہے ۔جہلم شہر کے رہائشی ہیں ۔ ڈیفنس منسٹری میں انیسویں گریڈ میں سرکاری ملازم ہیں ۔ جہلم میں ہی قرآن و سنت ریسرچ اکیڈمی کے نام سے ایک ادارہ چلاتے ہیں ۔ انہوں نے ایک سو سے زائد اختلافی موضوعات پر ویڈیو لیکچرز دیئے ہیں ۔ اپنے آپ کو کسی مکتب فکر سے وابستہ نہیں سمجھتے ۔ دین کا باقاعدہ علم کسی مدرسہ سے حاصل نہیں کیا ہے اور وہ اسے ضروری بھی نہیں سمجھتے ہیں ۔ مولویوں کو رگڑا لگانا ان کے پسندیدہ موضوعات میں سے ہے ۔ وہ ایک داعی ہیں ، عالم دین نہیں ہیں ۔

مذید پڑھیں : ہری پور ٹیلی فون انڈسٹریز آف پاکستان TIP کو ٹیکنالوجی کا قبرستان کس نے بنایا ؟

انجنیئر محمد علی مرزا جہلمی اپنی تقریریوں میں نہ صرف مبالغہ کرتے ہیں بلکہ لوز ٹاکنگ بھی مفید مشغلہ ہے ۔وہ ایک پانچ فی صد خرابی کو  سو فی صد خرابی بارآور کروا کر مختلف مسالک کے علما کی توہین کرتے رہتے ہیں ۔محمد علی مرزا علماء پر نقد میں متوازن نہیں رکھتے ۔

Show More

عزت اللّٰہ خان

عزت اللّٰہ خان سینئر رپورٹر ہیں، پشاور پریس کلب کے ممبر ہیں، بعض موضوعات پر ان کی تحقیقاتی رپورٹس صف اول کے اخبارات میں تہلکہ مچا چکی ہیں۔ سرکاری اداروں میں کرپشن پر ان کی گہری نظر ہوتی ہے، معروف ویب سائٹس پر ان کے معاشرتی پہلوؤں پر بلاگز بھی شائع ہوتے رہے ہیں، آج کل الرٹ نیوز کے لیے لکھتے ہیں۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button
Close