ٹیپو سلطان تھانے کی حدود میں جرائم بڑھ گئے

کراچی : تھانہ ٹیپو سلطان کی حدود میں دن دیہارٹے چوریاں ، ڈکیتیاں بڑھ گئیں ، ایس ایچ او نفری سمیت عیدی جمع کرنے میں مصروف ہیں
۔

لاک ڈائون کی وجہ سے شہر کے متعدد علاقوں میں چوریوں اور ڈکیتیوں کی وارداتیں بڑھ گئی ہیں ۔ گزشتہ روز ٹیپو سلطان پولیس اسٹیشن کی حدود میں واقع امبالا بیکری کے قریب دن دیہاڑے 20 لاکھ روپے کی ڈکیتی ہوئی ہے ۔ آصف نامی شہری بینک سے رقم نکال کر گھر جا رہا تھا کہ اس دوران ٹویوٹا کرولا کار میں چار سے پانچ مسلح ڈکیتوں نے اسلحہ کے زور پر 20 لاکھ روپے چھین لیئے ۔

مذید پڑھیں : ڈائریکٹر اسکول کی جعلی سازی پر 1 کروڑ 92 لاکھ کے چیک AG سندھ نے روک لیئے

شہری آصف رینٹ اے کار کا کاروبار کرتا ہے ۔ رقم گاڑیوں کی قسطیں بھرنے ، ملازموں کو تنخواہیں دینے اور مستحق غریبوں میں راشن وغیرہ بانٹنے کے لئے نکلوا کر لا رہا تھا ۔ دوپہر دو بجے کے قریب ڈکیت کھلے عام گھوم رہے ہیں اور پولیس شہریوں کو گھروں میں رہنے کی ہدایت کر رہی ہے ۔

مسلح ڈکیتوں نے واردات میں ٹویوٹا کرولا کار BNP-808 استعمال کی ۔ مذکورہ گاڑی 12 اکتوبر 2018 کو رجسٹرڈ کرائی گئی ہے ، جس کا ٹیکس 30 جون 2020 تک جمع کرایا گیا ہے ، اس گاڑی کا انجمن نمبر Q335134 ہے ،جب یہ عبدالروف نامی شخص کے نام پر ہے ،2018 ماڈل کی مذکورہ گاڑی سی پی ایل سی کی جانب سے بھی کلیئر ہے ۔

مذید پڑھیں : ہری پور ٹیلی فون انڈسٹریز آف پاکستان TIP کو ٹیکنالوجی کا قبرستان کس نے بنایا ؟

متاثرہ شہری کا کہنا ہے کہ ڈکیتوں نے رقم کے ساتھ ساتھ مختلف دستاویزات جن میں گاڑیوں کی انوائیس میرے زیر استعمال اے ٹی ایم کارڈز اصل شناختی کارڈ اور پرس میں موجود 10 سے 12 ہزار روپے بھی چھین کر لے گئے ۔ آئی جی سندھ اور ایڈیشنل آئی جی سے درخواست ہے کہ ڈکیتوں کو فی الفور گرفتار کیا جائے ۔ ڈکیتوں کو گرفتار کر کے مجھ سے چھینی ہوئی رقم برآمد کروائیں ۔

الرٹ نیوز کو معلوم ہوا ہے کہ تھانہ ٹیپو سلطان کے ایس ایچ او شعیب الرحمن خود ستارہ بیکرے کے قریب واقع ریسٹورنٹ و بیکریوں سے خود بھی چرغے کھاتے ہیں اور ان کے اہلکار بھی امبالہ سویٹس و بیکر سے دودھ مفت لے جاتے ہیں جب کہ ان کے علاقے میں کارروائیاں بڑھ رہی ہے ، چند روز قبل نرسری پھاٹک والی گلی میں دن دیہاڑے اور سرشام ڈاکوئوں نے تین شہریوں پر ہاتھ صاف کئے ہیں ۔

Comments: 0

Your email address will not be published. Required fields are marked with *