ہری پور ٹیلی فون انڈسٹریز آف پاکستان TIP کو ٹیکنالوجی کا قبرستان کس نے بنایا ؟

ہری پور میں واقع مایہ ناز کمپنی TIP اب ٹیلی فونک مشنری کا قبرستان بنتی جا رہی ہے

ٹیلی فون انڈسٹریز آف پاکستان ہری پور سے حکومت نے عملی طور پر نظریں ہٹا لی ہیں ۔ محنت کشوں کو تنخواہوں کے لالے پڑ چکے ہیں اور ٹیلی فون انڈسٹری کی مشنری تباہ ہو چکی ہے ۔ وزیر مملکت عمر ایوب خان بھی ٹی آئی پی کی قسمت کا دھارا بدلنے میں ناکام ہیں ۔

ٹیلی کمیونیکشن سیکٹر میں ریڑھ کی ہڈی کی حثیت رکھنے والا خیبر پختونخواہ کے ضلع ہری پور میں واقع ادارہ ٹی آئی پی اپنی مثال آپ تھا ۔ ہری پور کے خانپور روڈ پہ تقریبا 600 مربعہ کنال پر واقع ادارہ ٹیلی فون انڈسٹریز آف پاکستان (ٹی آئی پی) جسے ایک وقت میں نمایاں مقام حاصل تھا ۔ آج یہ ادارہ 10 برس سے نقصان میں ہے اور 3 برس سے مسلسل زبوں حالی کا شکار ہے ۔

ہری پور میں واقع ٹیلی فون فیکٹری کا خوبصورت منظر جو ابھی اپنی رونقیں بحال نہ رکھ سکا

ٹیلی فون انڈسٹری آف پاکستان فیلڈ مارشل جنرل ایوب خان کے دور میں ان کے بھائی اور اُس وقت کے قومی اسمبلی میں قائدِ حزبِ اختلاف شیر بہادر خان ترین کی کوششوں سے 26 مئی 1952 میں جرمن کمپنی سیمینز کے اشتراک سے وجود میں آیا ۔ اسں ادارہ میں ملک کے چاروں صوبوں سے تعلق رکھنے والے محنت کشوں اورانجنیئرز و ٹیکنیکل ٹریڈرزکو روزگار کے مواقع میسر آئے ۔ اور ایک وقت میں اس کے ملازمین کی تعداد 10 ہزار کے قریب تھی ۔

مذید پڑھیں : قادیانیت نوازی کی وجہ سے خیبر پختون خوا کے رہنما نے PTI چھوڑ دی

جب کہ فیکٹری کے اندر ہی ایک جدید ٹیکنالوجی سے لیس ٹیکنیکل ٹریڈ میں تربیت کے لیئے ایک ٹیکنیکل انسٹیٹیوٹ کا قیام بھی عمل میں لایا گیا تھا ۔ جس میں ملازمت سے قبل بہترین تربیت فراہم کی جاتی تھی اور یہاں تربیت یافتہ افرادی قوت نے ٹی آئی پی سمیت سعودی عرب، یو اے ای اور دوسرے مڈل ایسٹ کے ملکوں میں اپنی خدمات انجام دیں ۔ اس فیکٹری نے 1954 میں آٹو میٹنک ٹیلی فون ایکسچینج سیٹ متعارف کرائے ، 1962 میں Subscriber Trunk Dialing Equipment متعارف کرایا ۔

ٹیلی فون فیکٹری کا مضبوط لوہے کی چادروں سے بنا ہوا آہنی گیٹ

اس کے بعد 1968 میں اسی فیکٹری نے ایک اور کامیابی حاصل کر کے Private Manual Branch Exchanges کا تحفہ دیا ، اسی سال Private Automatic Branch Exchanges بھی سامنے لایا گیا ، 1974 کو TYPE WRITER (Multi-Lingual Portable / Standard Size ) دیا ۔1981 کو اس پاکستان ٹیلی فون فیکٹری نے Master Set Telephone M-113 دیا ۔ 1985 کو Electronic Typewriter / Teleprinter بنایا یوں کامیابیوں کو سمیٹنے والی اس فیکٹری نے 2001 میں آخری 23 ویں پروڈکٹ D.P Box With Idc Modules بنایا جس کے بعد سے اس فیکٹری کے ساتھ برا سلوک شروع ہو گیا اور یہ جنرل پرویز مشرف کا دور تھا ۔

مزید پڑھیں : وسیم اکرم کی وجہ سے پاکستان 3 ورلڈکپ ہارا، عامر سہیل

اس فیکٹری میں تیار ٹیلی فون ، ٹیلی فون ایکسچینج ، ٹیلی پرنٹر اور کئی دیگر اشیاء بنائی جاتی تھیں، جو ملک کی ضروریات کو پورا کرنے کے ساتھ ساتھ دیگر ممالک کو بھی ایکسپورٹ کی جاتی تھیں ۔ جس سے کثیر زرِ مبادلہ بھی حاصل ہوتا تھا ۔ تاہم موجودہ صورت حال یہ ہے کہ گزشتہ 3 برس سے فیکٹری بلکل بند ہے اور تقریبا 2 سو کے قریب ورکر مستقل بنیادوں پر موجود ہیں ۔ جن کے خاندان ۔فیملی کی خوشیاں اور غم اس سے وابسطہ ہیں اور ہر وقت نوکری اور تنخواہ کے بیچ میں غیر یقینی صورت حال کی کشمکش میں ازیت میں مبتلا ہیں ۔

اس فیکٹری کی ورکشاپس جن میں ٹول ڈیزئنگ ، اسٹمپنگ ورکشاپ ، ڈائی کاسٹنگ شاپ ، پلاسٹک شاپ ، الیکٹرک شاپ ، کارپنٹنگ شاپ ، اور دیگر اسٹور بند پڑے ہیں اور قیمتی مشینوں کی حالت اسکریپ کی صورت اختیار کر چکی ہے ۔ وہ ورکر جنہوں نے اپنی جوانیاں اس ادارے میں محنت و مشقت کے لیے دیں ، دن رات اپنے خون سے اس ادارے کی آبیاری کی ، وہ بڑہاپے کی دہلیز پے آ پہنچے ہیں ۔ آج فیکٹری کے دیگر زیلی ادارے اسٹیٹ آفس ، اسکول اور ہسپتال کی حالت بھی انتہائی خراب ہے ۔

مذید پڑھیں : خیبر پختون خوا کے IG ثناءاللہ عباسی خود کرپٹ نکلے

وزارت انفارمیشن ٹیکنالوجی اینڈ ٹیلی کام ڈویژن اس قومی اثاثہ کو منافع بخش ادارہ بنانے اور بحالی کے لیئے جائنٹ ونچر کے زریعے اگر مخلصانہ اقدامات کرے تو اس ادارے میں بجلی کے اعلی معیار کے میٹر ، ٹیلی فون اور موبائل فون ، سیلور کمپنںوں کے ٹاور سمیت مختلف قسم کی اشیاء بنائی جا سکتی ہیں ۔ فیکٹری ورکروں اور ہری پور کی عوام کا بھی حکومت وقت سے پر زور مطالبہ ہے کہ اس بیمار صنعت ٹی آئی پی کو اگر بحالی کی طرف لے جانے کی کوشش کی جائے تو اس کی پیداوار سے ایک طرف ملکی خزانہ کو فائدہ ہو گا ۔ دوسری طرف روزگار کے مواقع پیدا ہونگے ۔

ہری پور ٹیلی فون فیکٹری میں بنائی جانے والی پروڈکٹس

ٹی آئی پی میں موجودہ ملازمین کی تنخواہوں بھی کئی کئی ماہ تعطل کا شکار رہتی ہیں ۔ جس کی وجہ سے باقی ماندہ ملازمین کئی قسم کے مالی اور زہنی مسائل کا شکار ہو چکے ہیں ۔ اور کورونا ، لاک ڈاون ، آئسولیشن اور موجودہ سخت حالات میں ان ملازمین کو دو ماہ کی تنخواہ ابھی تک ادا نہیں کی جا سکی ہے ۔ پاکستان کے اس قیمتی قومی اثاثہ کو اس حال پہ پہنچانے والے تا حال قانون کی گرفت سے باہر ہیں ۔ ہری پور کی عوام کا مطالبہ ہے کہ کیا ریاست مدینہ کی دعویدار موجودہ حکومت اس ادارے کو تباہی کے دہانے پہنچانے والوں کا احتساب بھی کرے گی ۔؟

Show More

اختر شیخ

اختر شیخ (بیورو چیف کراچی) جن کی صحافتی جدوجہد 3 دہائیوں پر مشتمل ہے، آپ الرٹ نیوز سے منسلک ہونے سے قبل آغاز نیوز ٹائم، روزنامہ مشرق، روزنامہ بشارت اور نیوز ایجنسی این این آئی کے ساتھ مختلف عہدوں پر کام کیا ہے۔ اختر شیخ کراچی پریس کلب کے ممبر ہیں اور کے یو جے (برنا) کی بی ڈی ایم کے ممبر بھی ہی۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button
Close