شیخ شریم 3 دہائیوں سے حرمِ مکی میں امامت کر رہے ہیں

تحریر و تحقیق : ضیاء الرحمن چترالی

فضیلة الشیخ سعود بن ابراہیم الشریم کی مسجد الحرام میں امامت کے 30 سال مکمل ہو گئے۔ شیخ صاحب نے اس مناسبت سے یہ شعر ٹوئٹ کیا ہے، جو حضرت شیخ کے ایک عاشق شاعر ثامر مقاطعی نے ان کے بارے میں کہا ہے ۔
ثلاثون عامًا وصوتک بالھدی یصدح
فی وَسَطِ مکّةَ عند البیتِ المُعظَّمِ
ثلاثون عامًا و قلبی قَد عُلِّق بصوتِکَ
کَمَا عُلِّقَت السِّوارةُ بالمُعْتِصِمِ
ترجمہ :‌(تیس برس سے آپ کی آواز سرزمین مکہ میں عظمت والے بیت اللہ کے پاس نغمہ سرا ہے۔ تیس سال ہوگئے میرا دل آپ کی آواز کے ساتھ ایسا چمٹا ہوا ہے، جیسے معتصم کے ساتھ سوارہ چمٹی ہوئی تھی)

شیخ سعود الشریم دنیا کے مشہور قاری اور مسجد حرام کے سینئر امام و خطیب ہیں۔ مسجد حرام کے دس سے زائد ائمہ کرام میں شیخ سعود شریم تقویٰ کے سب سے اعلیٰ درجے پر فائز ہیں اور وہ مستجاب الدعوات ولی کامل ہیں، جن کے ہاتھوں سے متعدد بار مختلف کرامات ظاہر ہوئی ہیں۔ مشہور ہے کہ ایک مرتبہ سعودی عرب میں طویل عرصے سے بارشوں کا سلسلہ رک گیا تھا۔ اسی دوران شیخ شریم نے تہجد کی نماز میں سورة الانعام کی تلاوت شروع کر دی۔ جب اس آیت پر پہنچے (ترجمہ) ”اور زمین پر چلنے والا کوئی جاندار ایسا نہیں جس کا رزق خدا تعالیٰ نے اپنے ذمے نہ لے رکھا ہو۔“ تو اس آیت کو شیخ شریم اپنے مخصوص انداز میں بار بار دہراتے رہے اور ان پر رقت طاری ہو گئی ۔ ابھی وہ تہجد کی نماز پوری بھی نہ کر پائے تھے کہ موسلادھار بارش شروع ہوگئی۔ شیخ شریم کی یہ کرامت زبان زد عام ہے۔ واضح رہے کہ رمضان المبارک کے دوران مسجد حرام میں تہجد کی نماز باجماعت ادا کی جاتی ہے۔ (عرب جریدہ، رأی الیوم، 5 اپریل 2015)

مذید پڑھیں : ایک ماسک لینے پر فیکٹری مالک نے ملازم پر مقدمہ درج کرا دیا

دنیا میں جن چند قرائے کرام کی تلاوت سب سے زیادہ سنی جاتی ہے، قاری شریم بھی ان میں شامل ہیں۔ مسجد حرام کے سب سے سینئر امام و خطیب اور حرمین انتظامی کمیٹی کے چیئرمین شیخ عبد الرحمن السدیس کا ماننا ہے کہ اس وقت شیخ شریم سے زیادہ قرآن کریم کو عمدہ اندازہ میں پڑھنے والا کوئی نہیں ۔ شیخ شریم انتہائی پرسوز انداز میں تلاوت کرتے ہیں۔ ان کی آواز میں جو درد و سوز ہے، اس کی مثال ملنا مشکل ہے۔ شیخ شریم کی خشیت الٰہی اور تقویٰ کا اثر ہے کہ ان کی تلاوت دل پر اثر کرتی ہے اور پتھر دل شخص کی آنکھوں سے بھی اشکوں کا سیل رواں ہو جاتا ہے ۔ وہ قرآن کریم کو بروایت حفص عن عاصم پڑھتے ہیں۔ شیخ اپنے متعلق کہتے ہیں کہ انہوں نے ایام شباب میں وقت ضائع نہیں کیا۔ ان کے بقول انہوں نے قرآن مجید کی سورہ نساء کو صرف ٹریفک سگنل میں انتظار کے وقت زبانی یاد کیا۔ وہ اکثر و بیشتر خود بھی دوران تلاوت روتے ہیں اور حاضرین بھی اشکبار ہو جاتے ہیں۔ بسا اوقات ایسا بھی ہوتا ہے کہ ان پر اتنی رقت طاری ہو جاتی ہے کہ آیت کا پورا کرنا مشکل ہو جاتا ہے۔ اپنی والدہ کی وفات کے روز شیخ شریم نے سب سے رقت آمیز نماز پڑھائی تھی، جس میں وہ بڑی مشکل سے سورئہ فاتحہ پوری کر پائے۔ اس تلاوت کی ویڈیو کے علاوہ آڈیو کلپ دنیا بھر میں مقبول ہے۔ شیخ شریم اپنی کانوں میں رس گھولنے والی تلاوت کی وجہ سے بے حد پسند کئے جاتے ہیں۔ خصوصاً عرب نوجوان ان سے والہانہ عقیدت رکھتے ہیں۔ ٹیوٹر میں ان کے فالوورز کی تعداد تین ملین سے زائد ہے۔ جبکہ فیس بک میں ”عشاق الشیخ الشریم“ اور ”محبی الشیخ الشریم“ کے نام سے ان سے عشق کی حد تک محبت کرنے والے عرب نوجوانوں نے مختلف پیجز بنا رکھے ہیں ۔

شیخ شریم 19 جنوری 1964ء کو سعودی دارالحکومت ریاض میں پیدا ہوئے۔ ان کا آبائی تعلق نجد کے شہر شقراء کے قحطان قبیلے سے ہے۔ ان کے دادا محمد بن اہراہیم الشریم شقراء کے گورنر تھے۔ شیخ شریم نے ابتدائی تعلیم عرین کے اسکول میں حاصل کی اور مڈل کے لیے نموذجیہ اسکول میں داخلہ لیا اور 1404ھ میں سیکنڈری کی تعلیم سے فارغ ہوئے۔ شیخ شریم نے اعلیٰ تعلیم کے لیے ریاض میں واقع امام محمد بن سعود اسلامی یونیورسٹی کے شعبہ عقیدہ و معاصر مذاہب میں داخلہ لیا اور سال 1409ھ میں یہاں سے فراغت حاصل کی۔ 1410ھ میں ہائر انسٹی ٹیوٹ آف جسٹس میں داخلہ لیا اور وہاں سے 1413ھ میں امتیازی درجات سے ماسٹر کی ڈگری حاصل کی۔ 1416ھ میں ام القری یونیورسٹی سے پی ایچ ڈی کی ڈگری حاصل کی۔ پی ایچ ڈی میں ان کے مقالے کا عنوان ”المسالک فی المناسک“ تھا۔ اس مقالے کے نگران اعلیٰ سعودی مفتی اعظم شیخ عبد العزیز آل شیخ تھے۔ ان کے اس مقالے کو کتابی شکل میں بڑی تعداد میں چھاپا گیا۔ شیخ شریم نے شیخ عبد العزیز بن باز، شیخ عبد العزیز بن عقیل، شیخ عبد الرحمن البراک، شیخ عبد العزیز الراجحی اور شیخ صالح بن فوزان الفوزان جیسے بڑے اساتذہ کرام سے استفادہ کیا۔ 1410ھ میں شیخ شریم ہائر انسٹی ٹیوٹ آف جسٹس میں مدرس کی حیثیت سے مقرر ہوئے۔ 1411ھ میں سعودی فرمانروا کی جانب سے حرم مکی میں آپ کے امام و خطیب مقرر کئے جانے کا فرمان جاری ہوا ۔

جب کہ وہ اس سے پہلے دارالحکومت ریاض میں ایک مشہور امام تھے ۔ شیخ شریم نے جب پہلی بار ریاض کی مسجد میں نماز پڑھائی تو ان کی تلاوت کو بے حد پسند کیا گیا ۔ اس دوران ان کی اہلیہ نے ایک خواب دیکھ کر انہیں خوشخبری سنائی کہ وہ مسجد حرام کے امام بن جائیں گے۔ اس وقت شیخ شریم کے وہم و گمان میں نہ تھا کہ انہیں یہ سعادت عظمیٰ نصیب ہوگی، مگر چند برس گزرنے کے بعد ان کی اہلیہ کا خواب شرمندہ تعبیر ہو گیا ۔

مذید پڑھیں :‌ قائمقام وائس چانسلر نے SMIU کے اساتذہ کو بھی دھمکانا شروع کر دیا

1411ھ میں مسجد حرام میں امامت کے ساتھ درس و تدریس کی خدمات کے لیے آپ کے نام شاہی فرمان جاری ہوا۔ یوں انہیں اس منصب جلیلہ پر فائز ہوئے اب 30 برس مکمل ہوگئے۔ شیخ شریم مسجد حرام میں امامت وخطابت کے فرائض کے ساتھ ساتھ ام القریٰ یونیورسٹی کی شریعہ فیکلٹی میں ڈین اور استاد فقہ کی خدمات سر انجام دے رہے ہیں۔ شیخ شریم عربی کے مشہور شاعر سلیمان بن شریم کے خاندان سے تعلق رکھتے ہیں۔ اس لئے وہ خود بھی ایک مایہ ناز شاعر ہیں۔ وہ ایک بہترین انشاء پرداز، ادیب، ماہر خطیب اور مصنف بھی ہیں۔ ان کے قلم سے دینی موضوعات پر 13 کتابیں چھپ کر قارئین سے داد وصول کر چکی ہیں۔ حرم شریف میں ان کے دیئے گئے بلیغ خطبات بھی چھپ کر منظر عام پر آچکے ہیں۔ وہ مسجد حرام میں کئی خطبے اشعار کی صورت بھی دے چکے ہیں۔ جن میں صلوٰة الاستسقاء کا خطبہ بہت مشہور ہے، جس میں انہوں نے قصیدے کی صورت میں نہایت بلیغ انداز اور رقت آمیز انداز میں بارش کی دعا مانگی ہے ۔ اپنی والدہ محترمہ کی وفات پر بھی شیخ شریم نے انتہائی رقت آمیز مرثیہ لکھا ہے ۔ ان کا قصیدة النزق، قصیدة الامعة اور قصیدة الاستسقاء عربی ادب میں ان کی مہارت اور انشا پردازی میں تفوق کی بین دلیل ہیں۔ شیخ نے عالمی وبا کورونا پر بھی عمدہ اشعار ڈھالے ہیں۔ جو سوشل میڈیا پر وائرل ہو چکے ہیں۔

باقی ائمہ حرم کے برعکس شیخ شریم اپنے خطبوں اور ٹیوٹر میں سعودی حکومت کی پالیسیوں کے بارے میں اظہار خیال کرتے رہے ہیں۔ جب سعودی حکومت نے مصری آمر جنرل سیسی کی کھل کر حمایت کی تو شیخ شریم نے اس پر تنقید کرکے اخوان المسلمون کے شہداء کو سلام پیش کیا تھا۔ جس کے بعد ان کا ٹیوٹر اکاونٹ بند کر دیا گیا۔ جب سابق سعودی فرمانروا شاہ عبد اللہ کا انتقال ہوا تو ائمہ حرم نے اپنے اپنے ٹیوٹر پیجز میں ان پر تفصیل سے لکھا، مگر شیخ شریم نے ایک جملہ بھی نہیں لکھا۔ جبکہ عالم اسلام کی موجودہ صورتحال خصوصاً شام کے حالات کا وہ اپنے خطبوں میں ذکر کرتے رہتے ہیں۔ شامی مظلومین کا ذکر وہ انتہائی رقت آمیز انداز میں کرتے ہیں اور حرم شریف میں ان کیلئے خصوصی دعاؤں کا اہتمام کرتے ہیں ۔

Comments: 0

Your email address will not be published. Required fields are marked with *