واٹر بورڈ ہائیڈرنٹ ٹھیکدار نے گلشن اقبال کھیل کے گراونڈ پر ٹینکر کھڑے کرا دیئے

کراچی ڈویلپمنٹ اتھارٹی کے بدعنوان افسران نے گلشن اقبال بلاک 6 میں 7 ایکڑ رقبے کے کھیل کے میدان پر قبضہ کرنے کے لیئے خلاف قانون کارروائی شروع کر دی ۔ ابتدائی طور پر ڈائریکٹر لینڈ عبید احمد نے اپنے دستخط سے اس بڑے ایس ٹی پلاٹ کو واٹر ٹینکرز کے چارجڈ پارکنگ کے لیئے خلاف قانون این او سی جاری کر دی ہے ۔

دستاویزات کے مطابق گلشن اقبال بلاک 6 میں سندھ ایمپلائز سوشل سیکورٹی انسٹیٹیوشن (سیسی ) کے ہیڈ آفس سے متصل اور ائیرو کلب کے سامنے واقع کراچی ڈویلپمنٹ اتھارٹی ( کے ڈی اے ) کے ایس ٹی پلاٹ نمبر 16 پر جو کھیل کے میدان کے لیے مخصوص ٹینکر مافیا نے واٹر ٹینکروں کے لیے عارضی چارج پارکنگ کے نام پر حاصل کر کے مبینہ طور پر اس اربوں روپے مالیت کے میدان پر قبضہ کرنے کی کوشش شروع کر دی ہے ۔

مذید پڑھیں : مردان پولیس نے بین الصوبائی کار لفٹر گینگ سے 20 کاریں برآمد کر لیں

کے ڈی اے کی جانب سے خلاف قانون این او سی حاصل کر کے یہاں واٹر ٹینکر کی چارج پارکنگ قائم کر دی ہے ۔ جس کی وجہ سے علاقے کے لوگوں میں تشویش پائی جاتی ہے ۔ علامہ مکینوں کے مطابق مذکورہ میدان پر واٹر ٹینکرز اونرز کے قبضے کے بعد علاقے سے منتخب پاکستان تحریک انصاف کے رکن قومی اسمبلی عالمگیر خان نے 4 ماہ قبل از خود کوشش کر کے ٹینکر مافیا سے میدان کا قبضہ خالی کرا لیا تھا ۔

بعد ازاں کے ڈی اے کے بدعنوان ڈائریکٹر لینڈ عبید احمد نے بھاری رشوت کے عوض اس پلاٹ پر خلاف قانون این او سی جاری کر کے پارکنگ کی اجازت دے دی ۔ جس کے بعد روزانہ کی بنیاد پر یہاں سیکڑوں واٹر ٹینکر پارک کر دیئے جاتے ہیں ۔ ذرائع کا کہنا ہے کہ رفاہی پلاٹ پر چارج پارکنگ قائم کرنے کے لیے مذکورہ ڈائریکٹر لینڈ اہل علاقہ سے اعتراض طلب کرنے اور دیگر قانونی کارروائی مکمل کرنے کی بھی ضرورت نہیں سمجھی اور شاہانہ حکم کے تحت سابق ڈائریکٹر ریکوری کے تعاون سے کھیل کے گراونڈ کو واٹر ٹینکرز کی پارکنگ بنا دیا ۔

مذید پڑھیں : قائمقام وائس چانسلر نے SMIU کے اساتذہ کو بھی دھمکانا شروع کر دیا

ذرائع کا کہنا ہے کہ ٹینکر مافیا کے کارندے کے ڈی اے کے بدعنوان افسران کی مدد سے اس رفاہی پلاٹ ایس ٹی 16 پر مستقل قبضے کے لیے مختلف کارروائی بھی شروع کر چکے ہیں ، اس مقصد کے لیے عارضی تعمیرات کر کے ہوٹل بھی بنا لیا ہے ۔ علاقے کے جماعت اسلامی سے تعلق رکھنے والے سماجی کارکن فیاض الہدی کا کہنا ہے کہ قبضہ مافیا کو انتظامیہ کی پشت پناہی حاصل ہے ۔ ان کا کہنا ہے کہ ڈپٹی کمشنر شرقی کو بھی اس بارے میں مطلع کیا جا چکا ہے تاہم اس کے باوجود کوئی کارروائی عمل میں نہیں لائی جاتی۔

ادھر کے ڈی اے کے ذرائع کا کہنا ہے کہ ڈائریکٹر جنرل کے ڈی اے ڈاکٹر سیف الرحمن بھی شکایات ملنے کے باوجود رفاہی پلاٹ سے ٹینکروں کی پارکنگ ختم کرنے سے گریز کر رہے ہیں ۔ خدشہ ہے کہ اس پلاٹ کو فوری خالی کرکے کھیل کا گراونڈ تعمیر نہیں کیا گیا تو یہاں غیر قانونی تعمیرات بھی شروع کرائی جا سکتی ہیں۔

مذید پڑھیں : حکومت سندھ پروپیگنڈے کے بعد تبلیغیوں کی محتاج ہو گئی

ذرائع کا دعوی ہے کہ یونیورسٹی روڈ پر واٹر ٹینکروں کا غیر قانونی اڈہ سیاسی پشت پناہی پر قائم ہوا ہے ۔ اعلی سیاسی شخصیات کی پشت پناہی کی وجہ سے ٹینکروں کے ڈرائیوروں نے ہائیڈرنٹ کے پاس واقع خالی جگہ کے بجائے یونیورسٹی روڈ پر ٹینکر کھڑے کرنے شروع کیئے تھے ۔ ٹریفک پولیس ٹینکر مافیا کو قابو کرنے میں نا کام ہے ۔ یونیورسٹی روڈ پر نیپا چورنگی سے جامعہ کراچی اور گلشن چورنگی کی طرف نکلنے والے راستوں پر واٹر ٹینکروں کا قبضہ رہتا ہے، جو نا صرف سڑک کی تباہی اور ٹریفک جام کا سبب بلکہ حادثات کا باعث بھی ہے۔ کچھ عرصے قبل تک نیپا پر قائم سرکاری ہائیڈرنٹ سے پانی لینے والے ٹینکر ہائیڈرنٹ کے قریب ہی ایک خالی پلاٹ پر کھڑے کیے جاتے تھے ۔ تاہم کچھ عرصے سے واٹر ٹینکروں کے ڈرائیوروں نے اپنے ٹینکر نیپا چورنگی سے ابن سینا اسپتال تک یونیورسٹی روڈ پرکھڑے کرنے شروع کر دیئے ۔

Comments: 0

Your email address will not be published. Required fields are marked with *