تبلیغی جماعت سمیت دینی جماعتوں نے منگھو پیر اجتماع گاہ کو قرنطینہ بنانے کی مخالفت کردی

جمعیت علماء اسلام کے رہنماء قاری محمد عثمان نے کہا کہ کراچی اجتماع گاہ میں قرنطینہ کا قیام جہاں گنجان اور کچی آبادی کیلئے تباہ کن ہے وہاں اس سے منفی اثرات مرتب ہوں گے ۔ تمام منتخب نمائندوں، سیاسی و مذہبی جماعتوں سمیت عوام کا متفقہ مطالبہ ہے کہ قرنطینہ سینٹر کھلی فضا میں قائم کیا جائے ۔ قرنطینہ کی مخالفت نہیں جگہ تبدیل کرنے کا مطالبہ کرتے ہیں۔ وہ اجتماع گاہ میں مختلف جماعتوں کے نمائندوں، علماء کرام اور تبلیغی جماعت کے ذمہ داروں کے مشاورتی اجلاس سے خطاب کر رہے تھے ۔

اجلاس میں یو سی 6 کے چیئرمین مفتی محمد خالد، یو سی 4 کے چیئرمین حاجی علی نواز بروہی، یو سی 5 کے چیئرمین علی اکبر کاچیلو، عبد المجید خاصخیلی، محمد شاکر مولانا نصیب مینگل، مولانا عمر مینگل، مولانا حبیب الرزاق، مولانا احسان اللہ عادل، قاری فضل مولی، ڈاکٹر غلام بادشاہ، مولانا شمس الرحمن، مولانا عابد اللہ، گل فیروز، مولانا عبدالغنی، اعجاز خان، کمال بادشاہ، مولانا عبد اللہ بسمل، مولانا حضرت الرحمان، مولانا عبدالصمد مینگل، قاری امان اللہ اور بڑی تعداد میں اہل محلہ، مختلف جماعتوں کے نمائندوں نے شرکت کی۔

مذید پڑھیں : کالج ایجوکیشن ڈیپاٹمنٹ میں زیر التواء مسائل کو حل کیا جائے : سپلا

قاری محمد عثمان نے کہا کہ کرونا وائرس کی روک تھام کیلئے سندھ حکومت کے اقدامات اور احتیاطی تدابیر کی مکمل حمایت کرتے ہوئے قرنطینہ سینٹر کو نادرن بائی پاس میں بنائے جانے کا مطالبہ کیا جارہا ہے تاکہ اس گنجان آبادی کو ممکنہ تباہی کے اثرات سے محفوظ رکھا جاسکے۔انہوں نے کہا کہ پی ایس 121 کے 3 چیئرمینوں نے ملکر نادرن بائی پاس پر انتہائی اہم اور موزوں جگہوں پر قرنطینہ سینٹر بنانے کی نشاندہی کی ہے جو کہ صوبائی وزیر اعلی سید مراد علی شاہ کے نام لکھے گئے خط میں شامل ہے ۔

جس پر صوبائی وزراء سعید غنی،سید ناصر حسین شاہ سے بار ہا رابطہ کیا گیا ہے۔ جبکہ انہوں نے قرنطینہ سینٹر کو نادرن بائی پاس کی سائٹ پر بنانے کی عوامی تجویز کو سراہتے ہوئے یقین دہانی بھی کرائی تھی۔ قاری محمد عثمان نے کہا کہ کراچی اجتماع گاہ میں قرنطینہ کا قیام کسی بھی صورت میں مناسب نہیں۔دوسری جانب تبلیغی اجتماع گاہ اور مسجد کو بغیر کسی وجہ کے قرنطینہ سینٹر بنانے سے ملک بھر میں منفی اثرات مرتب ہوں گے ۔ جو بہر حال نقصان کا باعث بنے گا ۔

مذید پڑھیں : روزہ کی حالت میں خون نکالنا یا لگانا کیسا ہے ؟

انہوں نے کہا کہ وزیر اعلی سندھ سید مراد علی شاہ علاقے کی گنجان آبادی کو ممکنہ تباہی سے بچا نے کیلئے اجتماع گاہ منگھو پیر کے بجائے نادرن بائی پاس کو جہاں چاہیں قرنطینہ سینٹر بنا کر عوام میں جاری بے یقینی کی فضا کو ختم کیا جائے۔علاوہ ازیں پی ایس 121 کی قرب جوار کی یوسیز کے چیئرمینوں سمیت تمام سیاسی مذہبی جماعتوں کے نمائندوں،علماء کرام،ائمہ مساجد اور تبلیغی جماعت کے ذمہ داروں کے مشاورتی اجلاس میں مطالبہ کیا گیا ہے کہ علاقے کے عوام کے عظیم تر مفاد میں قرنطینہ کو اجتماع گاہ کے بجائے نادرن بائی پاس پر بنا کر غریب عوام کا دیرینہ مطالبہ پورا کیا جائے۔اجلاس میں یوسی 4 کے چیئرمین حاجی علی نواز بروہی کی سربراہی میں صوبائی حکومت سے رابطہ کیلئے 5 رکنی کمیٹی تشکیل دی گئی ہے جو صوبائی حکومت کو

Comments: 0

Your email address will not be published. Required fields are marked with *