حاملہ یا دودھ پلانے والی عورت روزہ رکھ سکتی ہے ؟

سوال
جو عورت حمل سے ہو کیا وہ رمضان کے روزے چھوڑ سکتی ہے؟

جو عورت بچے کو دودھ پلا رہی ہو کیا وہ رمضان کے روزے چھوڑ سکتی ہے؟

جواب
1۔ اگر حاملہ خاتون کو اپنی یا اپنے بچہ کی مضرت کا گمان غالب ہو تو روزہ نہ رکھنے کی اجازت ہو گی، بچہ کی پیدائش کے بعد قضا کرنا ہوگا، تاہم اگر مضرت کا گمان غالب نہ ہو تو روزہ رکھنا لازم ہو گا ۔

2 ۔ دودھ پلانے والی خاتون کو اپنی مضرت کا گمان غالب ہو ، اور ماں کے دودھ کے علاوہ بچہ کی غذا کا کوئی بند وبست نہ ہو تو روزہ نہ رکھنے کی اجازت ہو گی، بصورتِ دیگر روزہ رکھنا ضروری ہو گا ۔

فتاوی تاتارخانیہ میں ہے :

"وقال في الاصل: إذا خافت الحامل أو المرضع على أنفسهما أو على ولدهما جاز الفطر و عليهما القضاء”. ( ٢/ ٣٨٤، إدارة القرآن و العلوم الإسلامية) فقط واللہ اعلم

فتوی نمبر : 144008200566 ۔ دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن

Comments: 0

Your email address will not be published. Required fields are marked with *