بھارتی افواج میں کورونا واٸرس کا پھیلائو جاری

تحریر : جاوید صدیقی

دنیا کے ترقی یافتہ ممالک کیساتھ ساتھ ترقی پزیر ملک بھارت کی افواج میں بڑے پیمانے پر کورونا واٸرس کے پھیلنے کا عمل جاری ہے، اس صورتحال پر نریندر مودی اور بھارتی آرمی چیف اس صورت حال سے بوکھلاہٹ کا شکار ہو چکے ہیں ، بھارتی میڈیا کے مطابق بھارتی بحریہ کے چھبیس اہکاروں میں کرونا وائرس کی تشخیص ہو گئی ہے ، اس بابت پہلے ہی اپنی تحریروں میں آگاہی دے چکا تھا کہ دال میں کچھ کالا ہے ، دو ہفتوں کے دوران مقبوضہ جموں کشمیر کے اندر تین انڈین فوجیوں نے کورونا وائرس کے خوف سے خود کو گولی مار کے خود کشی کر لی تھی اور اب انڈیا کی بحریہ کے اندر بھی کرونا کی تشخیص اس بات کا واضح طور پر ثبوت ہے کہ ہندو اوران کی دہشت گرد فوج کرونا وائرس کی لپیٹ میں آ چکے ہیں ، لیکن انڈین میڈیا حکومتی اور بی جے پی کے غنڈوں دباٶ کے سبب اس خبر کو دبانے کی سر توڑ کوشش کر رہی ہے اور الزام مسلمانوں پر لگا کراصل حقیقت کو عوام سے چھپا رہی ہے اور دنیا کو دھوکہ دیا جا رہا ہے کہ ہندؤ اور ان کی فوج میں ایسا کوئی کیس رپوٹ نہیں ہوا ، لیکن چند ایک چینل یہ نیوز رپورٹ نشر کر چکے ہیں کہ بھارتی فوج کے اندر تیزی سے کورونا وائرس پھیل رہا ہے ، جس کو روکنے میں انڈین حکومت بلکل نا کام نظر آرہی ہے‌ ۔

مذید پڑھیں : ارطغل ، فلم ڈرامے ہالی ووڈ اور پروپیگنڈے کی جنگ

واضع رہے کہ اس وقت انڈین فوج کورونا وائرس سے متاثر ہونے والی دنیا کی چوتھی بڑی فوج بن چکی ہے۔ امریکن فوج کے بعد بھارتی افواج کورونا واٸرس میں سب سے زیادہ متاثر ہیں۔ بھارتی حکومت اور بھارتی افواج کے منفی رویوں سے ملک بھر میں انارکی پھیلی ہوٸی ہے ۔ ایک جانب مقبوضہ کشمیر پر ظلم کے پہاڑ کھڑے کیٸے ہوٸے ہیں ۔ دوسری جانب ملک بھر میں مسلمان نفرت میں اندھے ہوٸے جا رہے ہیں ۔ انڈیا میڈیا دنیا بھر میں بے نقاب اور ننگی ہو چکی ہے کہ بھارتی میڈیا بی جے پی کے انتہاپسند سیاسی رہنماٶں اور حکمرانوں کے تلوں میں لیٹ گیا ہے ۔ لیکن ابھی با ضمیر پروفیشنلز تمام صعوبتوں کے باوجود حق و سچ دکھانے بتانے پر قاٸم ہے ۔ یہ الگ بات ہے کہ ان کی تعداد بہت کم ہے ۔ بھارتی حکمرانوں کی حقیقت جھری میں سے گزرنے والی باریک روشنی کی طرح باہر آ رہی ہے ورنہ تو پورے بھارت بشمول جموں مقبوضہ کشمیر میں جرنلزم پر فقل لگا دیٸے ہیں ۔ یہی عمل بھارت کو لے ڈوبے گا ۔

Comments: 0

Your email address will not be published. Required fields are marked with *