صحافیوں سے اظہار یکجہتی

تحریر: ضیاء الرحمن یوسفزئی

پاکستان سمیت دنیا بھر میں آزادی صحافت کا عالمی دن منایا جا رہا ہے ۔ 3 مئی کو دنیا بھر میں آزادی صحافت کا دن منایا جاتا ہے ۔ اقوام متحدہ نے 1993ء میں اس دن کو آزادی صحافت کا دن قرار دیا تھا ۔ اس دن کو منانے کا مقصد دنیا بھر میں صحافیوں کے حقوق اور آزادی رائے کے تحفظ اور ایسے صحافیوں سے اظہار یکجہتی اور ان کو خراج تحسین پیش کرنا ہے ۔ جنہوں نے تلاش حق میں اپنی جانیں گنواں دیں ۔ اسی طرح ملک پاکستان میں بھی صحافت کے شعبے ( الیکٹرانک میڈیا، پرنٹ میڈیا، یا سوشل میڈیا) سے جن دوستوں کی وابستگی ہیں تو انہوں نے اس پُر خار راستے میں نشیب و فراز کے بہت سے ادوار دیکھیں ہیں ۔

انہوں نے دور آمریت کے حکومتوں کی سینسر شپ بھی دیکھی اور آج کے حالات بھی لیکن صحافت کے بے تاج بادشاہ قلم کا عظیم شاہکار حامد میر بھی موجودہ حالات پر جب تبصرہ کرتے ہوئے کہتے ہیں کہ اس وقت جس قسم کی سینسرشپ ہے وہ آمریت کے دور سے بھی بدتر ہے – زمینی حقائق جھوٹ بولنے سے نہیں بدلتی ، آزادی صحافت پر قدغنیں لگانے سے دو چار دن آپ اپنا موقف تو دے سکتے ہیں مگر بالآخر سچائی آپ کو ماننا پڑتی ہے، معاشرے میں صحافیوں کا کردار بہت اہمیت کا حامل ہے ۔

مذید پڑھیں : جرمِ حق گوئی میں مقبوضہ کشمیر میں 30 سال میں 19 صحافی قتل

صحافی معاشرے کو طاقتور بناتے ہیں اور کہاوت ہے کہ معلومات میں طاقت ہے، اور صحافی وہ طاقت آپ کو دیتا ہے ۔ اکبر الہ آبادی اخبار سے متاثر ہوئے اور اخبار کے ذریعے سے دشمنوں کی نقب زنی اور پروپیگنڈوں کو ناکام بنانے کیلئے اس کے حق میں بول پڑھے ۔

“کھینچو نہ کمانوں کو نہ تلوار نکالو
جب توپ مقابل ہو تو اخبار نکالو”

وطن عزیز میں پرنٹ میڈیا اور الیکٹرانک میڈیا اور سوشل میڈیا کا کردار ناقابلِ فراموش ہے، ظلم وستم اور ڈرانے دھمکانے سے اخبار کی اہمیت ہمارے دلوں سے نہ کوئی نکال سکتے ہیں اور نہ کسی بھی صورت میں کم کیا جا سکتا ہے۔ آج صحافت کے عالمی دن منانے کا مقصد اور تقاضا بھی یہی ہے کہ صحافتی برادری کو صحافی ذمہ داریاں ادا کرنے میں آزادی حاصل ہو اور ان کے جائز حقوق کا تحفظ ہو لیکن صحافی بھائی جب ریاست کو ان کے غلطی سے بچانے کیلئے یا دکھانے کے لیے اشارہ کرتے ہیں تو ریاست پھر سوتیلی ماں جیسا سلوک پر پر اتر آتی ہے اور زمین ان پر عرصہ حیات کے لیے تنگ کر دیا جاتا ہے ۔

مذید پڑھیں : آفتاب نذیر پر حملہ کس نے کیا ؟

جس کے اثرات ملک و ملت کے زوال کی سبب بن جاتی ہے، جس کا خمیازہ آئندہ نسلوں کو بگتنا پڑتا ہے ۔ میرے خیال میں صحافیوں کی زبان بندی اور انہیں ڈرانے دھمکانے کی حالیہ روش ایک لمبی جدوجہد کا ایک کٹھن دور ہے لیکن یہ صورت حال زیادہ دیر قائم نہیں رہ سکتی ۔ پشتو میں کہاوت ہے کہ’’ د ظالم وخت کم او دَ ظالم اخپئ لنڈی وی او ڈیر زر ماتئ گی‘‘ترجمہ :ظلم کا وقت کم ہوتا ہے اور ظالم کی ٹانگیں چھوٹی چھوٹی اور بہت جلد موڑ دی جاتی ہے ۔ صحافیوں کے منہ بند کرنے یا کرانے سے وقتی طور پر گندگی تو چپ جاتی ہے لیکن
وقت آنے پر حالت سب کچھ بتا دیتا ہے ۔

صحافیوں بھائی سے درخواست ہے کہ وہ بھی حق لکھنے کی کوشش کریں اور دلیل کے بنیاد پر حق کا ساتھ دیں اور خامخا اپنی ریڈنگ کے چکر میں سیاہ کو سفید اور سفید کو سیاہ نہ بنائیں اور اللہ سے ڈرئیے اور اسی طرح اس مقدس پیشے کو بھی گالی نہ بنائیں ۔

Comments: 0

Your email address will not be published. Required fields are marked with *