چھوٹے دکانداروں کو 1 اور رجسٹرد دکانداروں کو 3 لاکھ روپے دیئے جائیں : آل سٹی تاجر اتحاد

صدر آل سٹی تاجر اتحاد حماد پونا والا نے کہا ہے کہ وفاق اور صوبہ سندھ میں تنازعہ میں تاجروں کو نہ گھسیٹا جائے ۔تاجر برادری کسی بھی سیاسی ایجنڈے میں شامل نہیں ہے ۔ کراچی کے کاروباری اور تجارتی مراکز کو کھولنے کے حوالے سے کوئی پیش رفت نظر نہیں آ رہی ہے ۔ جو شدید پریشان کا باعث ہے ۔ اگر حکومت کوئی فیصلہ نہیں کرنا چاہتی تو وہ کھل کر ہمیں بتا دیں تاکہ ہم پھر اپنے فیصلے کرنے پر آزاد ہوں ۔

ان خیالات کا اظہار انہوں نے اتحاد کے مرکزی دفتر میں منعقدہ اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے کیا ۔ حماد پونا والا نے کہا کہ گذشتہ دو روز سے وفاقی اور سندھ حکومت کی جانب سے جاری سیاسی محاذ آرائی میں کراچی کی تاجر برادری کے مسائل کو ایک سائیڈ کر دیا گیا ہے ۔ انہوں نے کہا کہ ہم وفاق اور سندھ حکومت کو واضح طور پر یہ پیغام دینا چاہتے ہیں کہ وفاق اور صوبہ سندھ میں تنازعہ میں تاجروں کو نہ گھسیٹا جائے ۔ تاجر برادری کسی بھی سیاسی ایجنڈے میں شامل نہیں ہے ۔

مذید پڑھیں : جرمِ حق گوئی میں مقبوضہ کشمیر میں 30 سال میں 19 صحافی قتل

حماد پونا والا نے کہا کہ کراچی کے کاروباری اور تجارتی مراکز کو کھولنے کے حوالے سے کوئی پیش رفت نظر نہیں آ رہی ہے ۔ جو شدید پریشان کا باعث ہے ۔ رمضان المبارک کا پہلا عشرہ اختتام کی جانب ہے اور کراچی کا تاجر صرف حکومت کی تسلیوں پر آج بھی گھر بیٹھا ہوا ہے ۔ حماد پونا والا نے کہا کہ اگر حکومت کوئی فیصلہ نہیں کرنا چاہتی تو وہ کھل کر ہمیں بتا دیں تاکہ ہم پھر اپنے فیصلے کرنے پر آزاد ہوں ۔

انہوں نے کہا کہ تاجروں کا معاشی قتل عام ہو چکا ہے اس لیے اب اگر کوئی یہ امید کررہا ہے کہ ان تاجروں کے پاس کام کرنے والے لاکھوں ملازمین کو یہ تنخواہیں دے سکیں گے ، ایسا ممکن نہیں ہے ۔ حماد پونا والا نے کہا کہ حکومت اگر چاہتی ہے کہ کراچی سمیت سندھ بھر میں بے روزگاری نہ ہو تو فوری کوئی فیصلہ کرے اور چھوٹے دکانداروں کو فوری طور پر فی کس 1 لاکھ اور رجسٹرڈ دکانداروں کو فی کس 3 لاکھ روپے کی ریلیف دی جائے ، تاکہ وہ اپنے ملازمین کی تنخواہیں اور اپنا گھر چلا سکیں۔

مذید پڑھیں : کراچی ٹرانسپورٹ اتحاد نے حکومتِ سندھ الٹی میٹم دے دیا

حماد پونا والا نے کہا کہ تاجروں نے پوری زندگی حکومتوں کو ٹیکس دے کر ان کے گھر اور ایوان چلائیں ہیں، اب حکومت اس غیر معمولی حالات میں اپنا کردار ادا کرے ۔

Comments: 0

Your email address will not be published. Required fields are marked with *