جیل انتظامیہ مفتی کفایت اللہ کے خلاف کوئی سازش کر رہی ہے ؟

تحریر: قاضی حبیب الرحمان

کورونا وائرس اس وقت عالمی طور پر پریشان کن صورت حال اختیار کر گیا ہے ، جس کو بعض لوگ تیسری جنگ عظیم سے تعبیر کرتے ہیں کہ امریکہ دنیا پر حیاتیاتی بم کے ذریعے اپنا تسلط قائم کرنا چاہتی ہے ، پاکستان کے ناعاقبت اندیش حکمران اس مسئلے پر قابو پانے میں بری طرح نا کام ہوئے ہیں اور اس کی آڑ میں مساجد مدارس علماء اور تبلیغی جماعت کو اپنا ہدف بنا رہے ہیں ، تبلیغی جماعت کو پریشان کرنے ، مساجد کو بند کرنے کے منصوبے بنائے گئے ، جس کو اکابر علماء نے اپنی بہتر حکمت عملی کی بناء پر نا کام بنا دیا ۔

ان حالات میں اسلام پسندوں کے ساتھ ناروا سلوک کے خلاف جے یو آئی کے رہنماء مفتی کفایت اللہ میدان میں آئے اور اعلان کیا کہ مساجد کی ویرانی نماز پر پابندی اور کورونا سے فوت شدہ میت کی توہین ناقابل برداشت ہو گی ۔ جس کا عملی مظاہرہ انہوں نے تبلیغی جماعت مانسہرہ کے امیر حاجی طارق محمود کے جنازے میں کیا کہ جنازے میں پہنچ کر ان کی نعش کو سرکاری اہل کاروں سے زبردستی اپنی تحویل میں لیا ۔ باقاعدہ جماعت کھڑی کر کے نماز جنازہ پڑھایا اور اپنے ہاتھوں سے تدفین و تلقین بھی کروائی اور اعلان کیا کہ کورونا سے مرنے والوں کا جنازہ اگر کوئی نہ پڑھائے تو مجھے اطلاع دی جائے میں خود پڑھاؤں گا ۔

مذید پڑھیں : پاکستانی عالم دین مولانا خلیل الرحمن یہودی کیوں بن گیا ؟

چنانچہ اس کے دو دن بعد مانسہرہ کے ممتاز عالم دین مولانا سید شاہ عبد العزیز کی وفات پر انتظامیہ کو خبردار کیا گیا کہ اگر جنازہ میں ضلعی انتظامیہ نے رکاوٹ ڈالی تو حالات کی تمام تر ذمہ داری ان پر ہو گی ۔ چنانچہ ضلعی انتظامیہ نے حالات کو سمجھتے ہوئے جنازے میں رکاوٹ بننے سے گریز کیا ، لیکن افسران بالا کے سامنے اپنی خفت مٹانے کے لئے جنازے کے بعد مفتی کفایت اللہ کو رات گئے گھر جاتے ہوئے خاکی کے مقام سے گرفتار کر لیا گیا ۔

گرفتاری کے اگلے دن مقامی عدالت میں پیش کر کے چودہ روزہ جوڈیشل ریمانڈ پر جیل بھیج دیا ۔ لوئر کورٹ نے ضلعی انتظامیہ کے دباؤ پر درخواست ضمانت خارج کر دی تھی ۔ جس کے بعد پشاور ہائی کورٹ کے ایبٹ آباد سرکٹ بنچ میں اس گرفتاری کے خلاف رٹ پیٹیشن دائر کر دی گئی ہے ۔21 اپریل کو ابتدائی سماعت میں وکلاء نے یہ مؤقف اختیار کیا کہ مفتی کفایت اللہ کی گرفتاری غیر قانونی اور سیاسی انتقام کی بد ترین مثال ہے ۔ گرفتاری کو اظہار رائے پر قدغن سے تعبیر کرتے ہوئے وکلاء نے کہا کہ رائے کا اظہار ہر انسان کا بنیادی حق ہے ۔ ایف آئی آرز میں تقاریر کو جواز بنایا گیا ہے ، جس میں ایسی کوئی بات نہیں ہے جو قانون کی خلاف ورزی کے زمرے میں آتی ہو اور اس سلسلے میں مخبر کا سہارا لیا گیا ہے ۔ جو کہ قابل اعتماد نہیں ہے ، اس کے علاوہ تقریر اور مقدمہ درج کرنے کی تاریخوں میں مماثلت بھی نہیں پائی جاتی ہے ۔ ایبٹ آباد سرکٹ بنچ کے جسٹس شکیل احمد اور جسٹس احمد علی پر مشتمل دو رکنی بنچ نے ضلعی انتظامیہ کو نوٹس جاری کرتے ہوئے ، 29 اپریل کو طلب کر لیا تھا ، لیکن 29 اپریل کو ممتاز قانون دان محمد نسیم خان کی وفات کی بناء پر سماعت نہیں ہو سکی ۔

مذید پڑھیں : اہل تشیعہ نے 21 رمضان کو ہر صورت جلوس نکالنے کا اعلان کر دیا

لیکن اسی دن ضلعی انتظامیہ کورونا کی ٹیم ڈسٹرکٹ جیل مانسہرہ بیجھتی ہے ۔ تا کہ مفتی کفایت اللہ کو عدالتی ریلیف ملنے کے بعد قرنطینہ میں رکھا جا سکے ۔ ٹیم کے پُر زور اصرار کے باوجود مفتی کفایت اللہ نے اس عمل کو بد نیتی قراردے کر ٹیسٹ دینے سے انکار کر دیا ۔ جس کے بعد کورونا کی ٹیم کو نا کام لوٹنا پڑا ۔ مفتی کفایت اللہ سے زبردستی ٹیسٹ لینے کی نا کام کوشش پر مذہبی حلقوں میں درج ذیل سنجیدہ خدشات پائے جاتے ہیں ۔

مفتی کفایت اللہ صحت مند ہیں اور پچھلے دو ماہ سے سماجی فاصلے آئیسولیشن اور دیگر اختیاطی تدابیر پر عمل پیرا ہیں ۔ اس کے باوجود کورونا ٹیسٹ چہ معنی دارد ؟
عین اسی وقت ٹیسٹ لینا معنی خیز ہے کہ جب ہائی کورٹ میں ان کی گرفتاری کے خلاف رٹ پیٹیشن کی سماعت تھی اور عدالت سے ریلیف ملنے کا بھی قوی امکان تھا ۔
جوڈیشل ریمانڈ پر بیجھنے سے پہلے طبی معائنہ کیوں نہیں کیا گیا ؟
کیوں ضلع مانسہرہ میں کورونا سے مرنے والوں کے لواحقین کے جائز خدشات کو ابھی تک دور نہیں کیا گیا ؟
کیوں ٹیسٹ لینے کے لئے بعض مشکوک افراد بھیجے گئے ؟ جو زبردستی ٹیسٹ لینے کی کوشش کرتے رہے ؟
کورونا کے اب تک ہونے والے ٹیسٹ غلط ثابت ہوئےہیں ، جن پر اعتماد نہیں کیا جا سکتا ہے ؟
کورونا ٹیسٹ کے سلسلے میں سابقہ تجربات بھی اطمینان بخش نہیں ہیں ۔
کرونا کی موجودہ وباء خدا ساختہ نہیں بلکہ خود ساختہ ہے ۔ جو کہ عالمی سازش کہلائی جاتی ہے ۔ جس کا اصل ہدف مسجد ، مدرسہ ، تبلیغی جماعت اور علماء ہیں ۔
کورونا ٹیسٹ کرنا یا نہ کرنا انسان کا انفرادی فعل ہے ۔ اس کے لئے زبردستی کیوں کی جا رہی ہے ؟
کورونا کے مریضوں اور اموات میں اضافہ کر کے عالمی اداروں سے ریلیف حاصل کیا جا رہا ہے اور اس کے لیئے انسانی زندگیوں سے کیوں کھیلا جا رہا ہے ؟

مذید پڑھیں : حکومت سندھ پروپیگنڈے کے بعد تبلیغیوں کی محتاج ہو گئی

مذکورہ خدشات کے پیش نظر مفتی کفایت اللہ کے متعلق موجودہ حکومت کی یہ مذموم حرکت بدنیتی پر مبنی بلیک میلنگ اور سیاسی انتقام کی بد ترین مثال ہے ۔ جو کہ مفتی کفایت اللہ کی زندگی سے کھیلنے کے مترادف ہے ۔ جس پر ملک کے سنجیدہ حلقوں میں شدید تشویش پائی جاتی ہے ۔

Comments: 0

Your email address will not be published. Required fields are marked with *