حکومت سندھ پروپیگنڈے کے بعد تبلیغیوں کی محتاج ہو گئی

حکومت سندھ نے تبلیغی اجتماع گاہ کو قرنطینہ گاہ بنانے کا اعلان کر دیا ، وزیر اعلی سندھ سید مراد علی شاہ نے شہر کے مضافاتی علاقے منگھو پیر میں واقع تبلیغی جماعت کی دو سو ایکٹر زمین کے بعض حصوں پر قرنطینہ مرکز بنانے کا اعلان کیا ہے ۔ جس کے بعد مذہبی حلقوں میں شدید بے چینی پائی جارہی ہے ۔

ڈپٹی کمشنر نے وزیر اعلی کے اس اعلان کے بعد تبلیغی مرکز کی جگہ کا دورہ کیا ، افسران کو بھیج کر وسیع احاطے کے بعض حصوں کو نشان زدہ کرنے کا سلسلہ شروع کردیا ہے ۔ جس کے بعد جمعیت علمائے اسلام کے مرکزی رہنما قاری محمد عثمان کراچی تبلیغی اجتماع گاہ کا دورہ کیا ۔ ان کے ہمراہ پیپلزپارٹی کے ضلعی جنرل سیکریٹری علی احمد جان ، یونین کمیٹی نمبر 4 کے چیئرمین حاجی علی نواز بروہی، یونین کمیٹی نمبر 6 کے چیئرمین مفتی محمد خالد ، مولانا شمس الرحمن، مولانا عمر مینگل، مولانا محمود، ڈاکٹر غلام بادشاہ، حاجی بشیر احمد سمیت دیگر بھی شریک تھے ۔

مذید پڑھیں : اہل تشیعہ نے 21 رمضان کو ہر صورت جلوس نکالنے کا اعلان کر دیا

جمعیت علماء اسلام کے رہنماء قاری محمد عثمان نے کراچی اجتماع گاہ کو قرنطینہ سینٹر بنائے جانے کے فیصلے کی شدید الفاظ میں مذمت کرتے ہوئے کہا کہ سندھ حکومت کا یہ فیصلہ بڑی تباہی اور پریشانی کا سبب بنے گا ۔ باوجود وزیر اعلی سندھ سید مرادعلی شاہ کو لکھے جانے والے خط ، وزراء کی یقین دہانیوں کے اجتماع گاہ میں نشانات لگانے کا عمل نا قابل فہم ہے ۔ منگھوپیر کا یہ علاقہ انتہائی پسماندہ، گنجان آبادی پر مشتمل ہے ، یہاں قطعی طور یہ مرکز مناسب نہیں ۔

قاری محمد عثمان تبلیغی اجتماع گاہ منگھو پیر کا دورہ کررہے ہیں

اجتماع گاہ کے میدان کو قرنطینہ سینٹر بنانے کا فیصلہ فوری واپس لیا جائے ۔ قاری محمد عثمان نے کہا کہ سندھ حکومت کی جانب سے باوجود یقین دہانیوں کے اجتماع گاہ کو نشان زد کرنا سمجھ سے بالاتر ہے۔ صوبائی وزراء سعید غنی، ناصر حسین شاہ کو بتائی گئی متبادل جگہوں پر غور کرنے کی یقین دہانی کے باوجود ڈپٹی کمشنر ویسٹ کی جلد بازی بھونڈا عمل ہے ۔ انہوں نے کہا کہ تبلیغی اجتماع گاہ کے میدان کو قرنطینہ مر کز بنانے کیلئے ڈپٹی کمشنر ویسٹ نے سروے کروا کر رپورٹ دی ہے ۔

مذید پڑھیں : قائمقام VC نے SMIU کو انتظامی بحران میں ڈال دیا

یہاں کراچی کا جو اجتماع ہوتا ہے ، اس میں لاکھوں افراد شریک ہوتے ہیں ۔ موجودہ حالات میں یہاں قرنطینہ بنانے سے منفی پروپیگنڈے کا موقع بھی ملے گا ۔ جو یقینا ایک بڑا مسئلہ بن جائے گا ۔ قاری محمد عثمان نے کہا کہ وزیر اعلی سندھ سید مراد علی شاہ کو خط لکھنے کے باوجود یک طرفہ طورپر نشانات لگانا اور ٹیمیں بھیجنا مناسب نہیں ہے ۔ خط میں یوسی چیئرمین حاجی علی نواز بروہی سمیت تمام منتخب نمائندوں اور علاقے کی عوام نے مطالبہ کیا ہے کہ آبادی کے بجائے متبادل بہترین مقامات ہم بتاتے ہیں ، وہاں مرکز بناکر عوام پراحسان کریں ۔

انہوں نے کہا کہ ہم نے وزیر اعلی سندھ اور صوبائی وزراء کو متبادل جگہیں بتائی ہیں ، جن میں سمامہ سٹی دیہ بند مراد نادر بائی پاس ، ہمدرد یونیورسٹی، الفرقان یتیم خانہ، عجوا ہوٹل کے ساتھ باؤنڈری وال نادرن بائی پاس کے علاقے شامل ہیں۔ قاری محمد عثمان نے کہا کہ خدانخواستہ اگر یہ عمل ہوا تو اس سے جو تباہی اور بربادی پھیلے گی ۔ اس کا اندازہ شاید سندھ حکومت کو ابھی نہیں ہے ۔ اول تو علاقہ انتہائی پسماندہ اور گنجان آباد ہے اور پھر یہاں سہولیات کے فقدان سے مزید اموات اور کیسز بڑھنے کا خطرہ ہے ۔سندھ حکومت معاملے کی سنگینی کو سمجھتے ہوئے اس اقدام سے باز رہے اور متبادل جگہوں پر قرنطینہ مراکز قائم کرکے شہریوں اور عوام پر رحم کرے۔

Comments: 0

Your email address will not be published. Required fields are marked with *