قائمقام VC نے SMIU کو انتظامی بحران میں ڈال دیا

سندھ مدرستہ الاسلام یونیورسٹی کے قائم مقام وائس چانسلر کی سندھ حکومت اور یونیورسٹیز اینڈ بورڈز سیکریٹریٹ کے ساتھ دھوکے بازی کا انکشاف ہوا ہے ۔ غیر قانونی طور پر قائم مقام وائس چانسل کے عہدے پر براجمان ہونے کی وجہ سے جامعہ کو انتظامی بحران کا سامنا ہے ۔

19 فروری کو جامعہ کے وائس چانسلر دوسری بار اپنی مدت وائس چانسلر مکمل کرنے کے ایک ہفتے بعد 26 فروری کو ڈاکٹر محمد علی شیخ سندھ حکومت کے آگے اپنی میریٹوریس پروفیسر شپ دکھا کہ قائم مقام وائس چانسلر کی تقرری کا آرڈر لے آئے ۔

مذید پڑھیں : قائمقام VC محمد علی شیخ نے پہلے ہی گھنٹے میں ڈائریکٹر فنانس کو نوکری سے برخاست کر دیا

لیکن پندرہ دن بعد 11 مارچ کو پروفیسر کے عہدے سے ریٹائرمنٹ دے دی ۔ جس کے بعد اصولی طور پہ ڈاکٹر محمد علی شیخ کا جامع سندھ مدرستہ سے کوئی بھی تعلق باقی نہیں رہا ۔ اس طرح قائم مقام وی سی کے عہدے کے لئے ان کے اہل ہونے پر ایک بڑا سوالیہ نشان لگ گیا ہے ۔

دلچسپ امر یہ ہے کہ سندھ حکومت اور یونیورسٹیز اینڈ بورڈز سیکریٹریٹ کو رٹائرمینٹ والی بات کا علم ہی نہیں ہے ۔ کیوں کہ اعلامیے سے انہیں آگاہ ہی نہیں کیا گیا ۔ جس کو اعلامیے پہ صاف طور پر دیکھا جا سکتا ہے ۔

مذید پڑھیں : کورونا لاک ڈاؤن اور مراد علی شاہ

ذرائع کا کہنا ہے کہ چونکہ ڈاکٹر محمد علی شیخ نا تو یونیورسٹی کے پروفیسر ہیں، اور اب تک اپنے رجسٹرار اور ڈائریکٹر فنانس کو ہٹا چکے ہیں اور ڈائریکٹر فنانس کو تو یونیورسٹیز اینڈ بورڈز سیکریٹریٹ کے دو دو احکامات کے باوجود بحال کرنے سے انکار کردیا ہے ۔ جس سے یونیورسٹی کو انتظامی بحران میں ڈال چکے ہیں ۔ لہذا سندھ حکومت اس غیر قانونی ایکٹنگ وی سی کو برطرف کر کہ سینیئر ڈین کو یہ عہدہ دے ۔

Comments: 0

Your email address will not be published. Required fields are marked with *