سیز فائر کر لیں

کتاب چہرہ سے معلوم ہوا کہ مولانا محمد اسماعیل ریحان کی کتاب تاریخ امت مسلمہ کے مطالعے کے بعد محمد عرفان الحق نامی لاہور ہائی کورٹ کے وکیل نے مفتی محمد تقی عثمانی کو چھ صفحات پر مشتمل خط لکھا ، جس میں واضح کیا کہ آپ نے اس کتاب سے قبل جن اکابر کی کتب کی تحسین کی ہے ، بالخصوص مولانا محمد نافعؒ ، اِس کتاب کے مندرجات اور اُن اکابر کی کتب کے مندرجات میں تضادات ہیں ۔جنہیں اقتباسات کے ساتھ واضح بھی کیا ۔ خود مفتی صاحب موصوف کی کتاب امیر معاویہؓ اور تاریخی حقائق کے بھی حوالے دیئے کہ مؤلف موصوف کے مؤقف اور آپ کے مؤقف میں مجھے یہ یہ تضادات نظر آ رہے ہیں ۔ لہٰذا آپ کی اِس کتاب کی تحسین سے اشکالات جنم لے رہے ہیں ۔

لگ بھگ دوماہ بعد اس خط کا مختصر سا جواب مفتی صاحب موصوف کی طرف سےموصول ہوا کہ میرے پاس وقت نہیں ۔ ممکن ہے کتاب میں فروگزاشتیں ہوں۔ میں آپ کا مکتوب مولانا اسماعیل ریحان کو بھیج رہا ہوں ۔ وہ مناسب سمجھیں گے تو وضاحت کر دیں گے۔ دو روز قبل عرفان نامی وکیل نے یہ خط مشتہر کیا ۔ تب سے اب تک فریقین کے درمیان ایک دوسرے کوغلط ،خارجی، ناصبی، سبائی اور یزیدی ثابت کرنے کی جنگ جاری ہے۔ مزے کی بات یہ ہے کہ فریقین کا تعلق مسلک دیوبند سے ہے ۔ یہ بحث انتہائی منفی رخ اختیار کرتی جا رہی ہے ۔فریقین میں غیراعلانیہ جنگ بندی سے کتاب چہرہ کے صارفین نے سُکھ کا سانس لیا تھا ۔ اب پھر کُشتی سے ماحول مکدر ہے ۔

مذید پڑھیں : اہل تشیعہ نے 21 رمضان کو ہر صورت جلوس نکالنے کا اعلان کر دیا

مفتی صاحب کے محتاط انداز میں لکھے گئے خط کو ہر فریق اپنے مقصد کے معنی پہنا رہا ہے ۔ تاریخ امت مسلمہ کے نقطے اورشوشے سے اتفاق رکھنے والے یہ تاثر دے رہے ہیں کہ مفتی صاحب کا یہ خط ان کی جانب سے ہماری سہ کرر تائید ہے ۔ حالانکہ مفتی صاحب نے فروگزاشتوں کے امکان کو تسلیم کیا ہے ۔ اب مولانا محمد اسماعیل ریحان کی ذمے داری ہے کہ وہ مفتی صاحب کے اعتماد پر پورے اتریں اور وکیل موصوف کے اشکالات پر اپنی کتاب کے مندرجات کو پرکھیں ۔ یا کسی مسلمہ علمی تحقیقی شخصیت کے ذمے یہ کام لگائیں ۔ تب تک طرفین سے سیز فائر ہو جانا چاہیے ۔ جس طرح حضرت مولانا ثناء اللہ سعد صاحب نے سیز فائر کرتے ہوئے لکھا ہے ۔

” مولانا محمد اسماعیل ریحان صاحب نے مرکز اہلسنت سرگودھا کے استاذ حضرت مولانا محمد اسحاق صاحب مدظلہ کے ذریعہ سے یقین دہانی کروائی ہے کہ ” تاریخ امت مسلمہ” کے مضامین فیس بک پر زیربحث لانے کی بجائے اپنے اشکالات سے ان کو آگاہ کر کے اصلاح کا موقع دیا جائے ۔ قابل اصلاح مقامات کی اگلے ایڈیشن سے پہلے پہلے اصلاح کر دی جائےگی ۔ چنانچہ میں اپنے مندرجہ ذیل احباب کے مشورے سے فیس بک پر اس بحث کو کچھ عرصے کے لئیے موقوف کر رہا ہوں اور مولانا ریحان صاحب موصوف کو  اصلاح کے لئے چالیس روز کا وقت دیتا ہوں ۔ امید ہے کہ وہ ضرور اس پر توجہ دیں گے ۔اگر انہوں نے اپنا وعدہ پورا نہ کیا تو یقینا "ہم اپنے رد عمل میں حق بجانب ہوں گے ۔

یہ فیصلہ درج ذیل ذیل حضرات کی مشاورت سے کیا گیا ہے ۔
حضرت مولانا مفتی عبدالرحمٰن مدنی مدظلہ مہتمم جامعہ محمودیہ مدنیہ بفرزون کراچی
حضرت مولانا مفتی محمودالحسن محمود مدظلہ مہتمم جامعہ ام القریٰ اسلام آباد
استاذ الخطباءحضرت مولانا مفتی ظہیر احمد ظہیر مدظلہ العالی (چکوال)
حضرت مولانا مفتی عبدالصمد ساجدمدظلہ مفتی جامعہ حقانیہ ساہیوال سرگودھا
حضرت مولانا نا مفتی نجم الثاقب مدظلہ آف ملتان
شاعر اصحاب محمد(ص) جناب جناب نادر صدیقی صاحب آف بورے والا
امید کی جاتی ہے کہ احباب گرامی قدر اس فیصلے کا احترام فرمائیں گے ۔ ان شاءاللہ

مذید پڑھیں : ملک بھر میں NADRA دفاتر کھولنے کا اعلان کر دیا گیا

آمدم بر سر مطلب ۔ ایک ہی مکتب فکر کے لوگوں کا یوں افراط کے ساتھ ایک دوسرے پر گستاخ صحابہؓ و گستاخ اکابر کے فتوے لگانا اور خارجیت، ناصبیت ، سبائیت کی پھبتیاں کَسنا جگ ہنسائی کا باعث اور دشمن کو شہہ فراہم کرنے کے مترادف ہے ۔

Comments: 0

Your email address will not be published. Required fields are marked with *