اہل تشیعہ نے 21 رمضان کو ہر صورت جلوس نکالنے کا اعلان کر دیا

اہل تشیعہ نے ہر صورت میں 21 رمضان کو جلوس نکالنے اور مجلس عزا منعقد کرنے کا اعلان کردیا ہے ۔ سندھ حکومت جو کر سکتی ہے کر لے لیکن ہم 21 رمضان کو جلوس ضرور نکالیں گے اور اپنا ماتم ضرور منائیں گے ۔

ویڈیو پیغام میں اہل تشیعہ ذاکر نے اعلان کیا ہے کہ جیسا کہ آپ لوگوں کے علم میں ہے کہ کورونا وائرس ملک بھر میں ہے اور ہم نے حکومت پاکستان اور سندھ حکومت کو متنبہ کیا تھا کہ آپ کی وجہ سے ہم نے 13 رجب اور شعبان کے ظہور اور ولادت کی تقریبات کو ہم نے نہیں منایا ۔ مگر اب 21 رمضان المبارک کو ہم ہر صورت جلوس نکالیں گے ۔

مذید پڑھیں : قادیانیوں کی اقلیتی کمیشن میں‌ شمولیت کا دوسرا رخ‌ کیا ہے ؟

اہل تشعیہ ذاکر کے مطابق ہم نے تحفظ عزا داری کونسل پاکستان کے ہنگامی مشاورتی اجلاس میں فیصلہ کیا ہے کہ 21 رمضان کو ہر صورت جلوس نکالے جائیں گے ۔اور یہ فیصلہ تمام شیعہ تنظیموں اور ہر عزا دار کا فیصلہ ہے کہ جلوس نکالیں گے ۔ مولا علی رضہ اللہ کی شہادت کے حوالے سے تقریبات بھی منعقد ہونگی ۔ عزا دار اور ماتمی سنگتیں متفق ہیں کہ جلوس نکلیں گے ۔

علامہ شہناہ نقوی امام بارگاہوں کی بندش و اجماعات پر پابندی کے حوالے سے اعلامیہ جاری کررہے ہیں

اہل تشعیہ ذاکر نے مذہبی منافرت کا اظہار کرتے ہوئے ویڈیو میں کہا ہے کہ اگر سنت تراویح ہو سکتی ہے اور تراویخ سنت بھی نہیں ہے (معلوم رہے کہ تراویح کی نماز سنت ہے اور سیدنا عمر رضی اللہ عنہ کے دور سے 20 تراویح کی نماز شروع ہوئی تھیں ) ۔ اہل تشیعہ ذاکر کے مطابق تراویح سنت نہ ہونے کے باوجود جاری ہیں اور بازار کھلے ہیں ۔

مذید پڑھیں : امریکی شہ پر عمران خان قادیانیت نوازی میں کھل کر سامنے آ گئے

اہل تشعیہ ذاکر کے مطابق سندھ حکومت کی بھول ہے ہر حالت میں جلوس نکلیں گے اور سابقہ روٹس پر جلوس نکالیں جائیں گے اور یہ کورونا بیماری کو دور کرنا ہے تو عالمی محققین نے کہا ہے کہ کورونا کو بھگانے کے لئے عزا داری جلوس نکالیں گے اور ہم جلوس نکال کر دکھائیں گے ۔ اور 21 رمضان کو پوری دنیا میں اور پاکستان کے ہر شہر میں جلوس نکال کر دکھائیں گے ۔

علامہ شہنشاہ نقوی کی جانب سے جاری کردہ اعلامیہ کا عکس

ادھر اہلسنت عوام کی جانب سے ردعمل کا اظہار کیا جارہا ہے کہ اہل تشعیہ ذاکر کو دوسروں کے جذبات کی قدر کرنی چاہئے کیوں کہ اگر نماز تراویح ان کے نزدیک سنت نہیں ہیں تو اہل سنت کے نزدیک یہ سنت ہے ۔ عوام اہلسنت نے مطالبہ کیا ہے کہ ایسے تفرقہ پیدا کرنے والے ذاکرین کے خلاف کارروائی کی جائے ۔

مزید پڑھیں : میئر کراچی نے KMDC کو یونیورسٹی بنانے کے بہانے تباہی کے دہانے پہنچا دیا

تاہم دوسری جانب علامہ شہنشاہ حیسن نقوی ، علامہ شیخ شبیر حیسن میسمی ، علمائے امامیہ کے جنرل سیکرٹری سید رضی حیدر زیدی ، مجلس وحدت المسلمین کے رہنما سید باقر عباس زیدی کی جانب سے 23 اپریل کو اعلامیہ جاری کیا گیا تھا کہ نماز جمعہ سمیت دیگر اجتماعات کو روک دیا جائے ، تاہم مجالس و جلوس بسلسلہ شہادت امام ابی طالب علیہ السلام ، علاقائی سطح پر احباب دہم رمضان المبارک کے بعد انتظامات کے لئے اجلاس منعقد کر کے انہیں منعقد کرنے پر غور کریں ۔

21 رمضان کے جلوس کے حوالے سے جاری بحث کا عکس

ادھر بعض اہل تشعیہ کی جانب سے سوشل میڈیا پر کہا جارہا ہے کہ ہم شائشتہ قوم ہیں ، لاک ڈائون کی صورت میں ہم گھروں پر امام کو پرسہ دیں گے ۔ تاہم بعض عزا داروں کی جانب سے کہا جارہا ہے کہ علامہ شہنشاہ حیسن نقوی کو اجازت نامہ مل گیا ہے اور احتیاطی تدابیر کے ساتھ جلوس نکالا جائے گا ۔

مذید پڑھیں : حکومت سندھ کے سرکاری گوادموں سے 60 کروڑ کی 68 ہزار میٹرک ٹن گندم چوری

دوسری جانب اہل تشعیہ سوشل میڈیا کے صارفین کی جانب سے کہا جارہا ہے کہ جلوس پہلے سے زیادہ وسیع پیمانے پر نکالے جائیں گے ۔ عنبر کے بلوچ جتوئی نے لکھا ہے کہ موت کے خوف سے جلوس کیوں چھوڑ دیں ؟۔ ہو گا یہ جلوس بھی ہو گا ، ہو گا حیدر کا ماتم ہو گا ۔ راحیلہ خان نے لکھا ہے کہ سندھ حکومت کا لاک ڈائون میں نرمی کا اعلان اور پھر اچانک 21 رمضان کو مکمل لاک ڈائون کا اعلان کرنا سمجھ سے باہر ہے ۔ ہم بچے نہیں ہیں کہ مساجد بند کردیں ۔

Comments: 0

Your email address will not be published. Required fields are marked with *