موجودہ حالات میں متنازع معاملات کو چھیڑنا غیر دانشمندانہ عمل قرار

موجودہ حالات میں متنازع معاملات کو چھیڑنا غیر دانشمندانہ عمل ہے، حکومت میں شامل کچھ عاقبت نا اندیش افراد حساس مسائل چھیڑ کر قوم کو نئی آزمائش میں ڈالنا اور حکومت کیلئے بلا وجہ مشکلات پیدا کرنا چاہتے ہیں، حکمران جماعت کے ذمے داروں کو ان پر کڑی نظر رکھنا ہو گی۔

ان خیالات کا اظہار مجلس علمائے کراچی کے صدر مولانا ڈاکٹر قاسم محمود، دیگر رہنماؤں مولانا مصباح العالم، مولانا ادریس، مولانا ایوب چترالی اور ڈاکٹر رضی عالم ایڈووکیٹ نے مشترکہ اخباری بیان میں کیا ۔ انہوں نے کہا کہ حکومتی بزر جمہروں کو سمجھنا چاہئے کہ عقیدہ ختم نبوت امت مسلمہ کے لئے ریڈ لائن کی حیثیت رکھتا ہے، یہ بہت حساس مسئلہ ہے، حکومت کو کوئی ایسا اقدام ہرگز نہیں کرنا چاہئے جس سے اس عقیدے کے حوالے سے مسلمانوں کے جذبات پر زد پڑتی ہو۔

مذید پڑھیں :‌ برطانوی وزیر اعظم کی منگیتر نے بغیر شادی کے بیٹے کو جنم دے دیا

انہوں نے کہا کہ چھیالیس سال گزرنے کے باوجود قادیانی آئین پاکستان میں طے کردہ اپنی مذہبی اور شہری حیثیت کو تسلیم کرنے کے لئے تیار نہیں ہیں، وہ اب بھی خود کو مسلمان ہی کہتے ہیں، حکومت اگر قادیانیوں کو اقلیتی کمیشن میں شامل کرنا چاہتی ہے تو پہلے انہیں دستوری پوزیشن کا پابند بنائے اور ان سے تسلیم کروائے کہ وہ آئین پاکستان کے مطابق خود کو غیر مسلم اقلیت مانتے ہیں، اس کے بعد کسی کو اعتراض نہیں ہو گا۔

آئین کی دوسری ترمیم کو تسلیم کئے بغیر قادیانیوں کو کسی کمیشن میں نمائندگی دینے سے ان کے حقوق کا تحفظ ہوگا اور نہ ہی اس سے ملک و قوم کا کوئی فائدہ ہوگا۔ الٹا اس سے ملک میں مذہبی حوالے سے شدید انارکی پھیلنے کا خدشہ ہے۔ انہوں نے کہا کہ یہ موقع یکسوئی کے ساتھ کورونا کی وبا اور اس کے معاشی اثرات سے قوم کو نکالنے کا ہے، اس موقع پر قوم کسی انتشار اور افتراق کا متحمل نہیں ہو سکتی، اس لئے حکومت متنازع معاملات چھیڑنے سے گریز کرے اور اقلیتی کمیشن میں قادیانیوں کو نمائندگی دینے سے باز رہے۔

Comments: 0

Your email address will not be published. Required fields are marked with *