کورونا کے بعد اُمید افزا خبر

26 فروری کو پاکستان میں پہلا کرونا کیس منظر عام پہ آیا، اب دو ماہ سے دو دن اوپر ہونے کو ہیں ، خدا کا شکر ہے کہ ملک اس کیفیت سے نہیں گزرا ، جس کا شکار یورپ یا امریکہ ہوئے ہیں ، پاکستان میں کورونا کیسز پندرہ ہزار تک پہنچ چکے ہیں ، بلاشبہ کٹس کی کمی کے باعث مرض کی تشخیص کا عمل بہت زیادہ سست ہے اور تسلسل سے ٹیسٹ ہو بھی نہیں رہے ہیں ، اس واسطے بھی مریض کم ہیں لیکن بہت ممکن ہے کہ ہم میں سے کئیوں کو کورونا ہوکر جا چکا ہو ۔

ملک میں اموات کی شرح ابھی تک خوفن اک حد تک نہیں پہنچیں ، لاک ڈاؤن کے اثرات بھی رہے ہونگے ، لیکن مجھے لگتا ہے کہ اب تک خدا کی خاص مہربانی رہی ہے اور ممکنہ طور پہ قوت مدافعت کا بھی کردار ہو گا ، رہی احتیاط تو اس کا یہ عالم ہے کہ میڈیا والے آج بھی اپنی گاڑیوں میں گھس گھس کر مل مل کر نہ صرف بیٹھے ہوتے ہیں ، بلکہ بہت سے ماسک و گلوز کو فالتو چیز سمجھتے ہیں ، اب یہ اور بات ہے کہ دنیا جہاں کی فوٹیج بنا کر ٹی وی پہ چلا رہے ہوتے ہیں ، آج ہی کی بات ہے دفتر جس عمارت میں ہے اس کا پشتون چوکیدار جو کہ ماسک و گلوز سے بے نیاز تھا ، پہلے مجھ سے ہاتھ ملایا پھر گلے لگ گیا اب اسے کیا بولتا ، خیر ۔۔۔۔

مذید پڑھیں : امریکی شہ پر عمران خان قادیانیت نوازی میں کھل کر سامنے آ گئے

دوسرا ہمارا کورونا اب تک یوں قابو میں ہے کہ اموات اتنی نہیں ہوئیں ، گو کہ کراچی کے ہمارے ایک صحافی دوست نے تین سو پُر اسرار اموات کا ” راز ” بتا کر خوف پھیلانے کی پوری صحافت معذرت کے ساتھ کوشش کی ، مگر خدا کا شکر ہے که پبلک نے بہت سنجیدہ نہیں لیا ۔ اب معاملہ یہ ہے کہ ہلاکتیں چھپائی بھی نہیں جا سکتیں ، کراچی کی بات کریں تو سارے ملا کر مشکل سے 10 سرد خانے بھی نہیں ہیں حالانکہ آبادی دو ڈھائی کروڑ ہے ، اگر زرا سی زیادہ اموات ہوتیں تو سرد خانے بھر چکے ہوتے ۔ اس کا یہ مطلب قطعی نہیں کہ ہم اب تک کی جانے والی احتیاطی تدابیر بالکل ہی چھوڑ دیں ، مقصد یہ ہے کہ غیر ضروری خوف میں مبتلا ہو کر خود کو اور کوئی مرض نہ لگوا دیں ۔

مذید پڑھیں : قادیانیوں کی اقلیتی کمیشن میں‌ شمولیت کا دوسرا رخ‌ کیا ہے ؟

میرا خیال ہے کہ مئی یا رمضان کا مہینہ لاک ڈاؤن اور یکسوئی کیساتھ عبادت میں گزارا جائے تو عید بعد صورتحال قدرے مناسب ہو گی۔
خدا کرے کہ ہم سب اس آزمائش سے نکلیں ، جس نے اچھے اچھوں کو مساجد کی قدر کرا دی ، ریسٹورنٹس یاد آ رہے ہیں ، ملنے ملانے کی محافل کے تذکرے ہیں ، سب سے بڑھ کر منہ پہ ہمہ وقت ماسک کا عذاب ہے ، جو باہر نکلتے ہی مرد عورت کی تفریق کے بغیر پردہ کرا دیتا ہے ۔ میرا ایک رمضان زلزلے میں گزرا ، دوسرا زندان میں تیسرا وبا میں تنیوں ہی ایک دوسرے سے مختلف تجربے ثابت ہوئے اور جب جب یہ مشکل وقت تھا تب لگا کہ اس سے زیادہ تکلیف دہ اور کیا ہو گا ؟ لیکن وقت گزر ہی گیا ۔

کل کو دنیا کھل جائے گی ، یہ ایام ہمیشہ یاد رہیں گے ، کوئی بھی مشکل مستقل نہیں رہتی ، ہاں اس سے سیکھا ضرور جاتا ہے ، اس وبا کا سبق یہ ہے کہ آئندہ کی دنیا بموں بندوقوں اور اسلحے کی نہیں بلکہ لگنے والے وسائل کو انسانوں پہ خرچ کر کے انہیں اچھی معیشت تعلیم اور صحت کی سہولتوں سے آراستہ کرنا ہو گا ۔ خدا ہم سب کا حامی و ناصر ہو ، آنیوالے دن اگر اسی رفتار سے رہے تو بھی خیریت رہے گی اگر مریض بڑھ گئے تو اس میں کوئی دو رائے نہیں کہ ہمارا نظام صحت اس بوجھ کے نیچے دب کر ختم ہو جائے گا ۔

Comments: 0

Your email address will not be published. Required fields are marked with *