صحافی جناح اسپتال کی خبریں کیوں شائع و نشر نہیں‌ کرتے ؟

الرٹ نیوز : جناح ہسپتال میں مریض کی خود کشی ، انتظامیہ اور کچھ صحافی ایک پیج پر آ گئے ۔ 26 اپریل اتوار کی رات 30 سالہ مریض فواد عباسی جناح ہسپتال کی ایمرجنسی میں طبیعت ناساز ہونے پر علاج کیلئے آیا اور اسے بغیر کسی ٹیسٹ اور مکمل چیک اپ کے صرف شک کی بنیاد پر کورونا وارڈ منتقل کیا گیا ۔

ذرائع کے مطابق مریض نے چیختے چلاتے ہوئے کہا کے "مجھے بالکل بھی کورونا کی علامات نہیں ہیں اور مجھے اس وارڈ سے نکالیں، مجھے کورونا ہو جائے گا ، میں مر جائوں گا ” ۔ مریض کو منتقل کرنے کے بعد ٹیسٹ کے سیمپل لیئے گئے ۔ پیر کی دوپہر کو اس کے نتائج منفی واضح ہوئے مگر ڈر کے مارے بیچارے مریض نے صبح ساڑھے 6 بجے وارڈ کی تیسری منزل سے کود کر خود کشی کر دی اور ہسپتال میں ہی دم توڑ گیا ۔ یوں مرنے کے بعد اس کا کہنا سچ ثابت ہو گیا ۔

مذید پڑھیں : حسن نثار بینظیربھٹو شہید سے صحافیوں کے نام پر پیسے لیتا رہا

جناح ہسپتال کے واقعات کی خبریں اکثر حذ ف کی جاتی ہیں یا پھر انتظامی دفاع اور انتظامیہ کی تعریف میں نشر و شایع کی جاتی ہیں ۔ اس بڑے واقعے کے بعد بھی کچھ ایسا ہی ہوا اور ہسپتال انتظامیہ اور اردو و انگریزی اور الیکٹرانک و ڈیجیٹل میڈیا کے بدعنوان صحافی روایت برقرار رکھتے ہوئے ایک صفحہ پر اکٹھے ہو گئے ۔ کچھ نے خبر نشر و شایع ہی نہیں کی تو کچھ نے جانبدار رپورٹنگ کی ۔

اگرچہ ڈان گروپ ملک میں غیر جانبدار رپورٹنگ کے حوالے سے بیحد مقبول ہے مگر ڈان نیوز ٹی وی چینل اس کے بالکل برعکس ہے اور اس دفعہ سب سے پہلے جیو کے ساتھ ڈان ٹیلیویژن نے بھی انتظامی غفلت کا دفاع برقرار رکھتے ہوئے مریض کے ورثاء اور دیگر ذمیداران کا موقف شایع کرنے کے بجائے صرف ہسپتال کی ڈائریکٹر سیمی جمالی کا موقف شایع کیا ہے ۔ جس سے صحافی اور انتظامیہ نے مریض کو بیک وقت کورونا مریض، پاگل اور منشیات کا عادی ثابت کرنے کی بھرپور کوشش کی ہے ۔

مذید پڑھیں : مسجد بنانے کے تنازعہ پر ڈاکٹر اسفند یار خٹک قتل انکے والد پرنسپل تاج نبی خٹک شدید زخمی ہو گئے

خود کشی واقعے پر جیو اور ڈان چینل نے سیمی جمالی کا موقف اس طرح پیش کیا ہے کہ "37 سالہ فواد عباسی کو وائرس کی ممکنہ علامات ظاہر ہونے پر اتوار کی شب کراچی کے علاقے لانڈھی سے جناح ہسپتال لایا گیا تھا اور وہ مبینہ طور پر منشیات کا عادی تھا”۔ ڈان ٹیلیویژن اور جیو کے مطابق سیمی جمالی نے مزید کہا کہ "مریض کے سینے کا ایکسرے کیا گیا تھا جو یہ ظاہر کرتا ہے کہ مریض ممکنہ طور پر وائرس سے متاثر تھا چنانچہ اسے ہسپتال میں کووِڈ 19 کے مریضوں کے مختص وارڈ میں منتقل کر دیا گیا تھا ” ۔

یکطرفا انتظامی موقف پیش کرنے والے صحافیوں کے مطابق ” نشہ نا ملنے پر مریض نے اپنے کپڑے اتار کر ہسپتال کی بلڈنگ میں گھومنا شروع کر دیا تھا ۔ ساتھ ہی عملے کو دھمکیاں بھی دیں ۔ کسی میڈیا چینل و اخبار کے مجنجھے ہوئے رپورٹر نے سی سی ٹی وی ویڈیو کو برل کرنے کے بعد بھی قابل اعتراض حالت کے مبینہ مرتک مریض کو نہیں دیکھایا کیوں کہ کسی کے پاس اپنے کہے کا کوئی ثوبت نہیں ہے ۔ مریض کے قابلِ اعتراص رویے پر اسے تیسری منزل پر بند کر دیا گیا تھا ۔ جہاں اس نے لوہے کی جالی اور دروازوں کو نقصان بھی پہنچایا اور صبح 6 بج کر 58 منٹ پر کھڑکی سے کود گیا، گہری چوٹ لگنے سے دم توڑ گیا "۔

مذید پڑھیں : جناح اسپتال میں دیگر بیماریوں کے شکار مریض کورونا قرار دینے کا بھیانک انکشاف

صحافیوں نے صدر پولیس اسٹیشن کا موقف بیان کرتے ہوئے لکھا کہ ” صدر پولیس کے مطابق لانڈھی کے علاقے قائد آباد کے رہائشی 30 سالہ فواد علی کو چند روز قبل آئس نشے کا عادی ہونے کی بناء پر جناح اسپتال لایا گیا تھ ا”۔ اب چند سوالات پیدا ہوتے ہیں کہ میڈیا نے انتظامی موقف شایع کرنے کے علاؤہ مریض کے ورثاء کا موقف کیوں نہیں شایع کیا ؟ ممکن ہو مریض کے ورثاء کا بیان انتظامی موقف کو رد کرتا ؟؟؟

شایع شدہ اسٹوری میں سیمی جمالی اور انتظامیہ کی متعدد باتیں ہیں، ایک طرف سیمی کہتی ہے کہ مریض کا ایکسرے کیا اور کورونا کی مبینا علامات واضح تھی۔ کون سی میڈیکل ٹیکنالوجی ہے ، جس میں محض ایکسرے کی بنیاد پر کورونا واضح کر کے اسے کورونا وارڈ منتقل کیا جاتا ہو ؟ ممکن ہو وہ چھاتی کی دوسری تکلیف میں مبتلا ہو ؟؟

مذید پڑھیں : پروفیسر طارق رفیع کو جناح سندھ میڈیکل یونیورسٹی کا تیسری بار VC بنانے کی تیاری

دوسری طرف سیمی جمالی کہتی ہے کہ ” مریض منشیات کا عادی تھا "۔ پولیس بھی کہتی ہے کہ آئیس کا نشہ کرتا تھا اور ہسپتال علاج کیلئے آیا ۔ اگر نفسیاتی مرض کی علامات بھی آشکار تھیں تو مریض کو کورونا کے بجائے نفسیاتی وارڈ منتقل کیوں نہیں کیا گیا ؟؟؟ ۔ مریض کے قابلِ اعتراض رویے پر اسے کورونا کے وارڈ میں تیسری منزل پر کس قانون کے مطابق بند کیا گیا، جب کہ اس طرح بند کرنے کی سرگرمی ڈاکٹرز کی کاغذی رپورٹ کے بعد صرف نفسیاتی وارڈز میں ہوتی ہے ؟؟؟

اگر مریض کو کورونا نا بھی ہو تو وہ ایسے وارڈ سے کورونا سے متاثر بھی ہو سکتا ہے۔ کیا بغیر کورونا ٹیسٹ نتیجے کے صرف شک کی بنیاد پر مریض کو کورونا وارڈ منتقل کرنا درست عمل ہے ؟ کیا بند کرنے کے بعد چھلانگ لگا کر خود کشی کرنے والے مریض کے عدم تحفظ کی ذمہ دار جناح کی سیکیورٹی یا عملہ نہیں ہے ؟؟

مذید پڑھیں : جناح اسپتال ویڈیو اسکینڈل کی جانچ کیلئے قائم انکوائری کمیٹی میں IT ماہر شامل ہی نہیں

چونکہ ڈان چینل کی کہانی نے یہ بھی تصدیق کی ہے کہ خودکشی کر کے مرنے والے شخص میں کورونا نہیں تھا اور اس کا نتیجہ نیگیٹو ہے مگر اس کی خود کشی کے پیچھے انگنت سوالات ہیں ، جو انتظامیہ اور اس کے پیسے اور مراعات پر پلنے والے زرد صحافیوں کے منہ پر طمانچہ بن کے جواب کیلئے منتظر ہیں ۔

سوشل میڈیا اور اخبار پڑھنے والے قارئین کی جانب سے سوال اٹھایا جارہا ہے کہ آخر کسی رپورٹر نے آج تک جناح اسپتال میں کرپشن ، اقربا پروری ، مریضوں کے استحصال ، افسران و ملازمین کے مسائل ، جناح اسپتال کی زمین پر قبضے اور اندر کی داستانیں کیوں رقم نہیں کیں ؟

Comments: 0

Your email address will not be published. Required fields are marked with *