جناح اسپتال ویڈیو اسکینڈل کی جانچ کیلئے قائم انکوائری کمیٹی میں IT ماہر شامل ہی نہیں

کراچی الرٹ : جناح اسپتال کے کورونا آئولیشن وارڈ کی ویڈیو سوشل میڈیا پر وائرل ہونے کا معاملہ پیچیدہ صورت حال اختیار کر گیا ۔ جناح اسپتال کی انتظامیہ نے انکوائری کمیٹی قائم کر دی ۔ کمیٹی میں ایسے افراد شامل کئے گئے ہیں ، جن میں بعض نے ماضی میں بھی ’’سب اچھا‘‘ کی رپورٹ دی ہیں ۔

سات رکنی کمیٹی پروفیسر اقبال آفریدی کی سربراہی میں تحقیقات کرے گی ۔  اس کمیٹی میں پروفیسر صغری پروین ، پروفیسر شہباز حیدر ، ڈاکٹر نوشین سیف ، ڈاکٹر اسداللہ ، جیسمین لال دین اور خالدہ شامل ہیں ۔ جناح اسپتال کی انکوائری کمیٹی ویڈیوز اور آڈیو کا جائزہ لے گی ۔ انکوائری کمیٹی تحقیقات کے لئیے قانون نافذ کرنے والے اداروں کی مدد حاصل کر سکے گی ۔ تحقیقاتی ٹیم اپنی تحقیقات 30 اپریل کو صبح 10 بجے کمیٹی روم میں شروع کرے گی ۔

مذید پڑھیں : جناح اسپتال میں دیگر بیماریوں کے شکار مریض کورونا قرار دینے کا بھیانک انکشاف

جناح اسپتال کی ویڈیو وائرل ہونے کا معاملہ وزیر ہائوس پہنچ گیا ۔ وزیراعلیٰ سندھ کے کہنے پر وزیر اطلاعات و بلدیات سندھ سید ناصر شاہ نے جناح اسپتال کا دورہ کیا ۔جس میں انہوں نے بغیر تحقیق کے سب کچھ ’’اچھا’’ کی قبل از وقت بیان جاری کر دیا ہے ۔ سید ناصر حسین شاہ نے ایمرجنسی وارڈ اور کوڈ وارڈ کا معائنہ کیا ۔ جہاں مریضوں سے ان کی خیریت دریافت کی ۔ سید ناصر حسین شاہ کے ہمراہ ڈاکٹر سیمی جمالی اور طبی عملے کے لوگ بھی تھے ۔

ناصر حسین شاہ نے جناح اسپتال کی انتظامیہ کی ایما پر بیان جاری کیا کہ وارڈز میں بہتر انتظامات ہیں ۔ یہ بہت مشکل وقت ہے ، ڈاکٹرز ہمارے لیے ہی کام کر رہے ہیں ۔ ہمیں ڈاکٹرز کی بہت ضرورت ہے ، ایسے حالات میں ان پر تنقید کرنا مناسب نہیں ۔ کچھ لوگ ویڈیوز وائر ل کر کے پروپیگنڈہ کر رہے ہیں ۔ ڈاکٹرز، نرسز اور پیرا میڈیکل اسٹاف کی حوصلہ افزائی کرنا چاہیے ۔ ڈاکٹرز اور پیرامیڈیکل اسٹاف کورونا وائرس کا مقابلہ کر رہے ہیں ۔ ان کو حراسان نہ کیا جائے ۔ ان کی دل شکنی نہ کی جائے ۔ حکومت سندھ ڈاکٹرز کو حفاظتی اور دیگر سامان مہیا کر رہی ہے ۔

مذید پڑھیں : پروفیسر طارق رفیع کو جناح سندھ میڈیکل یونیورسٹی کا تیسری بار VC بنانے کی تیاری

سیمی جمالی نے کہا کہ ہم ہر ممکن طریقے سے مریضوں کا خیال کرتے ہیں ۔ کچھ لوگ غلط ویڈیوز وائرل کر کے پروپیگنڈہ کر رہے ہیں ۔میڈیا سے درخواست ہے کہ وہ بغیر تصدیق کوئی ایسی بات نہ کیا کریں ۔ تاہم سوال اٹھایا جا رہا ہے کہ ڈاکٹر سیمی جمالی کی قائم کردہ انکوائری کمیٹی کے بعد ان کے بیانات ویڈیو کو گمراہ کن قرار دے رہے جس کی وجہ سے کمیٹی اراکین اپنی سنیئر کی بات کو کس طرح غلط ثابت کرنے کی جرت کر سکیں گے ؟

حیرت انگیز طور پر اس انکوائری کمیٹی میں کوئی بھی آئی ٹی سے متعلقہ شخص شامل نہیں کیا گیا ۔ جو اس ویڈیو کے بارے میں کم از کم ابتدائی معلومات کمیٹی اراکین کو دے کر اس کو مذید تحقیقات کے لئے ایف آئی اے یا دیگر اعلی تحقیقاتی اداروں کی معاونت لیتے ۔ تاہم جمعرات کو اس کمیٹی کا اجلاس ہو گا اور حیران کن طور پر یہ کمیٹی 6 روز میں اپنی رپورٹ بھی جاری کر دے گی ۔

مذید پڑھیں : سندھ میں سکینڈری و ہائر سکینڈری امتحانات کا فیصلہ 15 مئی کو ہو گا

معلوم رہے کہ جناح اسپتال کی انتظامیہ نے سرے سے ہی اس ویڈیو کا انکار کیا تھا جب کہ جناح اسپتال میڈیکل آئی سی یو یونٹ 4 وارڈ نمبر 23 کو واضح طور پر ویڈیو میں دیکھا جا سکتا ہے ۔ جہاں جناح اسپتال کے آلات و بیڈ شیٹس بھی نظر آہی ہیں ۔ اس کے علاوہ کمروں کی ساخت سے بھی واضح ہے کہ یہ جناح اسپتال ہی ہے ۔ ویڈیو بنانے والے نے مریضوں سے گفتگو بھی کی ہے جن میں مریضوں کے نام تک لئے جارہے ہیں ۔ اور مریض بھی گفتگو کررہے ہیں ۔ ان مریضوں کے نام تک جناح اسپتال کے آئسولیشن وارڈ میں موجود ہیں ۔ تاہم اس کے باوجود ویڈیو کو جھٹلایا جا رہا ہے ۔

Comments: 0

Your email address will not be published. Required fields are marked with *