گستاخانہ خاکوں کا معاملہ اور نیدر لینڈ (تحریر: غلام نبی مدنی )

پہلی قسط
نیدرلینڈ میں گستاخانہ خاکوں کا معاملہ گزشتہ 3 ماہ سے تقریباًپوری دنیا میں مسلمانوں کی دل آزاری کا باعث بنا ہواتھا۔نیدرلینڈپارلیمنٹ کے ممبرگیرٹ ولڈر نے 10 نومبر کو گستاخانہ خاکوں کا مقابلہ پارلیمنٹ کے اندرکروانے کا اعلان کیا تھا۔پاکستان سمیت دنیا بھر کے مسلمانوں کے سخت احتجاج کے باعث ملعون گیرٹ ولڈ رنے سیکورٹی رسک کا کہہ کر گستاخانہ خاکوں کا مقابلہ منسوخ کرنے کا اعلان کردیاہے۔ لیکن حتمی طور پر یہ کہنا فی الحال مشکل ہے کہ آئندہ گیرٹ ولڈر یا نیدرلینڈ یا کسی اور یورپی یا مغربی ملک میں کبھی گستاخانہ خاکے یا اہانت اسلام کا کوئی مقابلہ ہوگا یا نہیں؟

اس لیے دنیا میں مقدس شخصیات کی توہین، گستاخانہ خاکوں اور شعائر اسلام کی اہانت کی روک تھام کے لیے اسلامی دنیا کو مستقل لائحہ عمل اپنا نا بہت ضروری ہے۔چوں کہ حالیہ دنوں نیدرلینڈ میں گستاخانہ خاکوں کا معاملہ شدت اختیار کیا گیا تھا، جس پر سب سے زیادہ پاکستان میں احتجاج ہوا۔اس لیے پہلے نیدرلینڈ کے مختصر تعارف کےبعد حالیہ گستاخانہ خاکوں کے مقابلے کے اہداف ومقاصد ،یورپ میں گستاخانہ خاکوں کی تاریخ ، مغرب اوریورپ میں آئے روز مسلمانوں کو اشتعال دلانے کے لیے مقدس شخصیات،شعائراسلامی اور گستاخانہ خاکوں کے ذریعے ڈیڑھ ارب سے زائد مسلمانوں کی دل آزاری کے مستقل حل کے لیے مؤثر ترین آپشنز زیر بحث لائے جائیں گے۔

نیدرلینڈشمال مغربی یورپ کا ایک خوبصورت اور ترقی یافتہ ملک ہے۔نیدرلینڈ کا دوسرا نام ہالینڈ بھی ہے۔یہ بالکل ایسے ہے جیسے یوکے کوانگلینڈکہاجاتاہے۔

26 جولائی 1585 کو نیدر لینڈ سپین سےآزاد ہوا جسے،30 جنوری 1648میں باقاعدہ ملک تسلیم کرلیاگیا۔5جون1806کو نیدرلینڈ میں بادشاہت کا آغاز ہوا۔
16مارچ1815کونیدرلینڈ نے فرانس کی بادشاہت سے آزادی حاصل کی۔اِس وقت نیدر لینڈ میں بادشاہت اور جمہوریت دونوں نظام قائم ہیں۔نیدرلینڈ کے بادشاہ کا نام ولیم الیگزینڈر اور وزیراعظم کا نام مارک روٹ ہے۔نیدرلینڈ حکومت کو وزیراعظم چلاتے ہیں،جب کہ بادشاہ کا بھی ملک کے انتظام میں استحقاق تسلیم کیاجاتاہے۔نیدرلینڈ کاکل رقبہ 42ہزار508کلومیٹرہے۔نیدرلینڈ کے صوبوں کی تعداد 12 اورکل آبادی 1کروڑ70لاکھ سے زائد ہے۔نیدرلینڈ میں 50فیصد لوگ لامذہب( ملحدین)،43فیصدعیسائی،5فیصدمسلمان اور ایک عشاریہ ایک فیصد ہندو اور دیگر مذاہب کے ماننے والے ہیں۔نیدرلینڈ یورپ کا قدیم اور یورپ کے دیگر ممالک میں انتہائی اثرورسوخ رکھنے والا ملک ہے۔

پہلی جنگ عظیم میں نیدر لینڈ اگرچہ نیچرل رہا،مگر دوسری جنگ عظیم،یورپ میں سرد جنگ،بوسنییا سربیا جنگ،امریکا کوریا جنگ،امریکاافغانستان جنگ،امریکاعراق جنگ سمیت دیگر جنگوں میں یورپ اور امریکا کا مضبوط اتحادی بھی رہ چکاہے۔

معیشت کے لحاظ سے نیدرلینڈ یورپ کا مضبوط ترین ملک ہے ۔چنانچہ اکانومی کے اعتبار سے نیدر لینڈ یورپ کا چھٹا بڑا ملک،جب کہ دنیا کا 18واں بڑا ملک ہے، جس کی GDP 825.745 بلین ڈالر ہے۔
ایشیا سے باہر دنیا کی دوسری بڑی پورٹ اور یورپ کی سب سے بڑی پورٹ نیدرلینڈکے شہر روٹ ڈرم میں ہے۔سنگاپور سے پہلے دنیا کی سب سے زیادہ استعمال ہونے والے پورٹ یہی نیدر لینڈ کی پورٹ تھی ۔ نیدرلینڈ کی اکانومی کا زیادہ تر انحصار، زراعت، انڈسٹریز، تجارت، کیمکل، اسلحہ سازی، شپنگ، کاسمیٹک، فوڈز اور سیاحت وغیرہ پر ہے۔صرف سیاحت کی مد میں نیدرلینڈ 15بلین ڈالرز سے زائد کی رقم سالانہ کماتا ہے۔

زراعت،انڈسٹریز،فوڈ،شپنگ اور تجارت میں آمدنی بے تحاشاہے۔نیدرلینڈ کی چاربڑی کمپنیاں دنیا کی ٹاپ کمپنیوں میں شمارہوتی ہیں۔جن میں” ڈچ شیل آئل اینڈ گیس کمپنی "دنیا کی 5ویں بڑی کمپنی ہے۔

یورپ،امریکا،ایشیا اور افریقا کے بیشتر ملکوں میں یہ کمپنی اپنی مصنوعات بیچتی ہے۔اس کمپنی کے ملازمین کی تعداد 97ہزار سے زائد ہے۔جس کے اثاثوں کی مالیت 407,097ارب ڈالر،سالانہ منافع12,977.0،ریونیو311،870ارب ڈالر ہے۔پاکستان کے 5ائیرپورٹ سمیت ملک بھر میں ہزار سے زائد شیل پٹرول اسٹیشن ہیں۔ملک بھر سے بے پناہ منافع کمایا جاتاہے۔2017میں بہاولپور کے قریب احمد پور شرقیہ میں شیل پٹرولیم کمپنی کی گاڑی حادثے میں150سے زائد لوگ جاں بحق ہوئے تھے جب کہ درجنوں زخمی ہوئے۔

نیدر لینڈ کی دیگر مشہور کمپنیوں میں ایگزر (Exor)ائیربس (Aribus)،یونی لیور(Uniliver)اور آئی این جی بنک(ING)وغیرہ شامل ہیں۔اس کے علاوہ ایگریکلچرل آئیٹم ایکسپورٹ کرنے میں نیدرلینڈ امریکا کے بعددنیا کا دوسر ا بڑا ملک ہے ۔2017 میں نیدرلینڈ نے 92 ارب یورو کی ایگریکلچر اشیاء ایکسپورٹ کیں۔

ہندوستان میں مسلمانوں کی 800 سالہ حکومت کو ختم کرنے میں مرکزی کردار ادا کرنے والی برطانیہ اور نیدرلینڈ ہی کی ایسٹ انڈیا کمپنی تھی جو 17ویں صدی کے آغاز میں بنائی گئی۔
اس وقت بھی دنیا کے ہر ہر گھر میں یونی لیور کمپنی کی مصنوعات ہیں،یہ کمپنی بھی نیدرلینڈ میں بنائی گئی تھی جو اب نیدر لینڈ اور برطانیہ کی مشترکہ کمپنی ہے۔ دنیا کے 68سے زائد ممالک کے ساتھ نیدرلینڈ کے مضبوط تجارتی تعلقات قائم ہیں۔

بین الاقوامی تعلقات میںنیدر لینڈیورپ کے دیگر اہم ممالک،فرانس،جرمنی،برطانیہ کی طرح اہم ترین کردار رکھتاہے۔نیدرلینڈاقوام متحدہ،سیکورٹی کونسل، نیٹو،یورپی یونین اور امریکا سمیت دیگر دنیا کی کئی اہم تنظیموں کا نہ صرف رکن بلکہ اہم ترین رول پلے کرنے والا ملک ہے۔دنیا کے اکثر ممالک کے ساتھ نیدرلینڈ کے بہترین تعلقات ہیں جس کی وجہ سے نیدر لینڈ کی دنیا سے تجارت بہت زیادہ ہے۔

دنیا کی پانچ بڑی بین الاقوامی عدالتیں نیدر لینڈ میں واقع ہیں،جن میں عالمی عدالت برائے انصاف نیدر لینڈ کے شہر ہیگ میں واقع ہے۔اسی عالمی عدالت میں پاکستان اوربھارت کے درمیان کلبھوشن یادیو کیس چل رہاہے،جس کی روزانہ سماعت آئندہ سال سے شروع ہوگی۔

پاکستان اور نیدر لینڈ کے تعلقات کاباقاعدہ آغاز 1947ء میں قیام پاکستان کے بعد ہوا۔اگرچہ اس سے پہلے 17ویں صدی میں نیدرلینڈ کے تاجر سندھ کے شہر ٹھٹھہ میں تجارت کی غرض سے آچکے تھے۔

نیدرلینڈ نے 1955میں پہلی بار کراچی میں ڈچ ایمبیسی کھولی جو دس سال بعد اسلام آباد شفٹ ہوگئی۔
اس وقت نیدرلینڈ کی اسلام آباد میں ایمبیسی،جب کہ لاہور اور کراچی میں قونصل خانے قائم ہیں۔

بعدازاں نیدرلینڈ کی ائیرلائن نے کراچی میں "مِڈوے”کے نام سے ہوٹل کھولا جو اب ـ رمادا پلازا ہوٹل کے نام سے کراچی ائیرپورٹ پر موجود ہے۔

1948میں نیدرلینڈ کی کمپنی "فلپس” نے پاکستان میں کام کاآغاز کیا،جس کے بعد یونی لیور،شیل آئل اینڈ گیس کمپنی سمیت دیگر بہت ساری کمپنیوں نے پاکستان میں اپنے ہیڈکواٹر کھول لیے۔نیدرلینڈ برطانیہ،جرمنی،اٹلی، سپین کے بعد پاکستان کا پانچواں بڑی تجارتی شراکت دار ہے۔ڈیری مصنوعات،رنگ وروغن،سرجیکل آلات،پھول،خوشبو،کاسمیٹک،الیکٹرانکس،اشیاء ،معدنی تیل،پٹرول،گیس ،اور زرعی مصنوعات سمیت دیگر کئی اشیاء نیدرلینڈ کی کمپنیاں بیچ کر پاکستان سے لاکھوں ڈالر منافع کمارہی ہیں۔سال 2017 میں ہالینڈ کی
کمپنیوں نے پاکستان سے30کروڑ 25لاکھ ڈالر منافع کمایا ،جب کہ پاکستان نے ہالینڈ سے کم وبیش ساڑھے 90لاکھ ڈالر کی اشیاء درآمد کیں،جن میں 63لاکھ ڈالر کی صرف ڈیری مصنوعات تھیں۔پاکستان کے زرعی شعبے میں

نیدرلینڈ کی مشہور کمپنی FRIESLAND COMPINAپاکستان میں اینگرو یوریا،سونا یوریا، سمیت دیگر کئی قسم کی کھادیں اور فصلوں کی ادویات سمیت ڈیری مصنوعات بیچ کربھاری منافع کمارہی ہیں۔

جنوری 2017میں نیدرلینڈ کی پاکستان میں سفیر جین سیفن نے سی پیک منصوبے میں نیدرلینڈ کی خواہش کا اظہار کرتے ہوئے کہا نیدر لینڈ میرین شعبے میں بے پناہ تجربہ رکھتاہے۔نیدرلینڈ کی خواہش ہے کہ وہ گوادر اور کراچی پورٹ میں سرمایہ کاری کرکے نیدر لینڈ کی کمپنیوں کو پاکستان میں آنے کی دعوت دے ۔انہوں نے مزید بتایا کہ دونوں ملکوں کے درمیان تجارت 1بلین ڈالرز سے زائد کی ہورہی ہے۔
2004میں پاکستان کے 100 کے قریب جونئیر ڈپلومیٹس نے نیدرلینڈ کی یونیورسٹی
(Netherlands Institute of International Relations Clingendael)
سے تعلیم حاصل کی۔

Comments: 0

Your email address will not be published. Required fields are marked with *