مولانا طارق جمیل کو میں کیوں پسند کرتا ہوں ؟

بلاگ :‌ احمد خلیل جازم

بعض علمائے کرام کو میں نے مسلکی تخصیص کے بغیر ہمیشہ پسند کیا اور ان کی باتوں پرعمل کر کے زندگی گزارنے کی کوشش کی ۔ جن میں سر فہرست ، مولانا طارق جمیل تھے ۔ اسی طرح علامہ طالب جوہری نے بھی ہمیشہ متاثر کیا ۔اسی طرح بے شمار نام ہیں ۔ مولانا طارق جمیل کو لڑکپن سے سنا اور ان پر ہمیشہ رشک کیا ۔ ایک وقت تھا جب مولانا کی تصویر دیکھنے کو جی مچلتا تھا ۔ وہ بزرگ جن کی کیسٹس سنی جاتی تھی ۔ ان کی شکل کبھی سامنے نہ آ سکی ۔ زکریا مسجد اسلام آباد میں پہلی بار صرف مولانا طارق جمیل کا دیدار کرنے گیا تھا ۔

پھر یوں ہوا کہ حضرت مولانا طارق جمیل نے خود کو نمایاں کر دیا ۔ اس پر دل بہت خوش تھا۔ لیکن بعد ازاں ان کی حکمرانوں (ن لیگ) سے قربت نے شکوک کو جنم دیا ۔ مولانا صاحب کا سیاسی لوگوں سے میل مجھ سمیت ان کے کئی فالورز کو نہیں بھایا ۔ ہماری سیاست وہ کیچڑ ہے ، جس میں کنول بھی نہیں کھلتا ۔ چنانچہ اس وقت سے خواہش کی کہ کاش مولانا خود کو دعوت تبلیغ تک ہی محدود رکھتے ، لیکن اب محسوس ہوتا ہے کہ شاید حضرت دعوت سے زیادہ حکمرانوں کی صحبت زیادہ پسند کرتے ہیں ۔ خدا کرے میرا یہ گمان غلط ہو ۔ خدا کرے مولانا اللہ تعالی کے ایسے پسندیدہ لوگوں میں رہیں ، جن کی لوگ پیروی کر کے فخر محسوس کرتے ہیں ۔

مذید پڑھیں : شادی کا سب سے بہترین دنیاوی قانون کونسا ہے ؟

میڈیا سے معافی مانگ کر مولانا کا قد میڈیا کے ’’نابغین‘‘ سے مزید (جو پہلے بھی تھا ) اونچا ہو گیا ۔ پوری قوم کی بے حیائی اور عورتوں کے حوالے سے بھی مولانا پر تنقید ہوئی لیکن یاد رہے کہ وہ باالعموم بات کر رہے تھے، لیکن مولانا کو باالخصوص نشانہ بنایا گیا ۔ مولانا صاحب پر بے شمار تحفظات کے باوجود مجھے آج بھی حضرت اسی طرح پسند ہیں ، جیسے پہلے روز دل میں بستے تھے۔ اللہ ہمیں علمائے کرام کا اکرام کرنے کی توفیق دے ۔ آمین

Comments: 0

Your email address will not be published. Required fields are marked with *