بلیم گیم! (حصہ دوئم)

معاشرتی اکائیوں کے ساتھ جڑے دلچسپ پیرائے میں تخلیق کردہ افسانہ

افسانہ نگار : مہوش کرن (کراچی)

کمرے میں انوار صاحب کھڑکی کے پاس کھڑے صبح  کی روشنی  ہر سو پھیلتے  دیکھ رہے تھے، پرندے  بے فکری سے چہچہا رہے تھے اور  سیٹھ صاحب  فکر سے ہاتھ مل رہے تھے۔ آج سب کچھ ان ہاتھوں سے نکل چکا تھا، کیا کمایا ؟؟؟ بہت کچھ ۔۔۔ کیا بچایا  ؟؟؟  کچھ بھی تو نہیں ۔

اگرعزت محفوظ نہیں ، گھر کی حدود میں دین کی حدود کی پاسداری نہیں تو پھر  کسی خزانے کی کوئی اوقات نہیں۔۔۔ اففف کیا کروں ؟؟؟  کہاں جاؤں ؟؟؟
کتنی دیر ہوگئی یہ سمجھنے میں، کیا اب کچھ ہو پائے گا، سوائے پچھتاؤں کے ۔۔۔ ٹھا !!!
گَن شاٹ کی واضح آواز  بہت قریب سے کانوں کو پھاڑتی ہوئی سنائی دی، انہیں کچھ سمجھ نہ آیا ۔ کیا سیکیورٹی گارڈ، کوئی گیٹ پر، ڈاکو گھر میں گھسنے کی کوشش۔۔۔ بہت سارے خیالات ایک دم دماغ میں کوندے ، ”مگر نہیں فائر کی آواز تو ڈرائنگ روم کی طرف سے آئی ہے“ وہ تیزی سے ادھر دوڑے، ” نہیں نہیں ،،، نائلہ نائلہ ،،، کہاں ہو “ مگر جب تک وہ پہنچے نائلہ ہمیشہ کے لیے جا چکی تھیں۔

مذید پڑھیں : پنجاب پولیس مجرم سے نمٹنے کے علاوہ ٹیکنالوجی میں کتنی مہارت رکھتی ہے ؟

ڈرائینگ روم کی دیوار پر سجی سالوں  پرانی بندوق جو کبھی جوانی کے زمانے میں انوار صاحب اپنے شکار کا شوق پورا کرنے کے لیے جنگلات کی پکنک پر ساتھ لے جایا کرتے تھے، آج برسوں بعد کام میں آگئی تھی ۔ وہ زمانہ جب وہ دونوں ہر  دکھ سکھ  میں یک جان  رہتے تھے، جب دولت کمانے کی دوڑ میں شامل نہیں ہوئے تھے،  کتنی سادہ سی زندگی اپنی کوششوں  کے بل بوتے پر گزار تے ایک دوجے سے کتنی شدید محبت کرتے، ایک ساتھ کتنے خوش اور مکمل  تھے۔

مگر پھر مادہ پرستی کی دوڑ میں سب رشتے کہیں  بہت  پیچھے  رہ  گئے ، سب سے بڑھ کر اولاد کی تربیت ہی نہ کرسکے کہ اسے بھی بے حیائی کے دلدل میں دھنسا دیا۔ اور آج  سب کچھ نامکمل ہو چکا تھا۔ مسز نائلہ نے گَن سے  ڈائریکٹ اپنے سر میں فائر کیا تھا اور وہ موقع پر ہی دم توڑ چکی تھیں۔ ”سر یہ کیسی آواز تھی؟“ تب تک گارڈ بھی بھاگتا ہوا اندر آگیا تھا۔
”یہ کیا؟ یہ تو میم  ہیں، اوہ  میرے خدا“

مزید پڑھیں : پاک فوج کے جوان نے دنیا میں دھوم مچا دی

وہ دونوں خاموشی سے ایک دوسرے کو اور کبھی نائلہ کے ساکت وجود کو تَک رہے تھے کہ شور شرابے سے فراز بھی اٹھ کر آ گیا۔ ”ایمبولینس کو کال کر دو، بیان میں بس یہ لکھوانا ہے کہ  بندوق نہایت قیمتی اور نایاب ہونے کی وجہ سے نائلہ ہمیشہ خود ہی صاف کیا کرتی تھیں۔ آج بھی وہ یہی صفائی کر رہی تھیں کہ اس دوران غلطی سے گَن بولٹ اَن لاک ہوگیا اور فائر اوپن ہوگیا“ سیٹھ صاحب گارڈ سے یہ کہتے ہوئے فراز کو اپنے ساتھ لگاتے صوفے پر ڈھیر ہو گئے۔

زندگی بھر کی رفاقتوں کا بھرم رکھنے کے لیے جو رہی سہی عزت تھی اُسے بچانا تھا، دل میں کبھی جو محبتیں دھڑکتی تھیں اُن چاہتوں  کے پیمان  کی خاطر جو  بچا کُچا  نام تھا اسے سنبھالنا تھا اور  اس  سب  کے لیے اب اتنا جھوٹ  تو بولنا ہی تھا کیونکہ اب اُن رفاقتوں کو نبھانے کا وقت تھا۔ کی میرے قتل کے بعد اُس نے جفا سے توبہ ۔ ہائے اُس زود پشیماں کا پشیماں ہونا !!!

مذید پڑھیں : بلیم گیم! (حصہ دوئم)

نائلہ بیگم کی موت کو آج دو ہفتے گزر چکے تھے۔ لیکن اِن دو لوگوں کی زندگی ابھی تک معمول پر نہیں آئی تھی۔ انوار صاحب اور فراز دونوں ہی یاسیت کی تصویر بنے گھومتے رہتے۔ جیسی حرام موت وہ مری تھیں ویسا ہی ماحول چھوڑ گئی تھیں۔ ملنے جلنے والے شروع کے دنوں میں تعزیت کر کے جاچکے تھے، کئی زبانوں پر ڈھکے چھپے سوال تھے توکئی پر طعنے، لیکن لوگوں کا تو کام ہی ہے باتیں بنانا اصل تو وہ سوال تھے جو اُن دونوں کے اندر سے اُٹھ رہے تھے۔ یقین و بے یقینی کی جنگ سی چل رہی تھی ۔

فراز دو ہفتوں سے یونیورسٹی نہیں گیا تھا اور نہ ہی سیٹھ صاحب نے فیکٹری کی شکل دیکھی تھی۔ یہی وجہ تھی کہ ابھی فیکٹری سے منیجر صاحب پھر سے آئے ہوئے تھے اور کہہ رہے تھے کہ ”سیٹھ صاحب، ہمت کریں اور گھر سے نکل کر فیکٹری آجائیں، زیادہ دیر نہ سہی پر تھوڑی دیر کو ہی چکر لگا لیں۔ ایسا نہ ہو کہ آپ کی عدم موجودگی میں کوئی گڑبڑ ہوجائے۔ میں کتنا سنبھال سکوں گا“

”کیا مطلب، کوئی بات ہوئی ہے کیا؟“

”نہیں جناب، مگر کیا بھروسہ، ویسے بھی مزدور یونین ہمیشہ کسی نہ کسی بغاوت کے انتظار میں رہتی ہے“.

”اوہ ہاں، یونین کا مسئلہ، ایسا کرو اگلے ہفتے ان کے ساتھ میٹنگ رکھ دو۔ اب وقت آگیا ہے کہ ان کے مطالبات بھی سنیں جائیں اور جو مناسب ہوں پورے کئے جائیں یا کوئی مفاہمت کی جائے، ہم مزدور کا حق کتنا مار لیں گے اور یہ حق غصب کر کے جائیں گے کہاں؟ آخر کار اللّٰہ کو ہی منہ دکھانا ہے“۔

منیجر صاحب تو اس بڑی اور اچانک تبدیلی پر حیران رہ گئے مگر درحقیقت بہت خوش ہوئے کیونکہ خود بھی تو غریب آدمی تھے اپنے جیسوں کا درد سمجھتے تھے۔ ”اور سر وہ میری بیٹی رِدا بتا رہی تھی کہ فراز صاحب بھی دو ہفتوں سے کالج نہیں جارہے، اب تو فائنل امتحان قریب آرہے ہیں بلاوجہ نتیجے پر فرق پڑے گا“.

”اچھا اچھا، تمھاری بیٹی اس کے ساتھ پڑھتی ہے“۔

”نہیں جی نہیں، اسکا تو ڈیپارٹمنٹ ہی بالکل علیحدہ ہے۔ بس وہ پوزیشن ہولڈر ہے نا تو اس کی میڈم نے جونیئر اسسٹنٹ لیکچرار کے طور پر رکھا لیا ہے اس لیے ایک سبجیکٹ لینے فراز صاحب کے ڈیپارٹمنٹ جاتی ہے۔“
”ارے واہ ماشاء اللّٰہ، یہ تو بڑی زبردست بات ہے، بھئی بہت مبارک ہو“.

”بہت شکریہ، بس سر جی، میری ایک ہی بیٹی ہے نا، ساری عمر اس پر خوب محنت کی ہے تب کہیں جاکر آج یہ مقام ملا ہے، کہتے ہیں کونوکیشن میں اسے گولڈ میڈل ملے گا۔ اللّٰہ نے اسے بڑا فہم دیا ہے، بن ماں کی اولاد لیکن آج تک میری عزت پر حرف نہ آنے دیا“.
”واقعی، تم تو بہت خوش قسمت ہو“۔
”چلیں ٹھیک ہے سر جی، پھر میں چلتا ہوں، آپ ایک دو دن میں آفس آجائیں تو اچھا ہوگا“۔

مذید پڑھیں : جناح اسپتال میں دیگر بیماریوں کے شکار مریض کورونا قرار دینے کا بھیانک انکشاف

منیجر صاحب جا چکے تھے لیکن سیٹھ صاحب کہیں کھو سے گئے تھے۔ وہ اپنا اور اپنے اس عام سے ملازم کا موازنہ کر رہے تھے۔
”میرا بھی تو ایک ہی بیٹا ہے، کوئی محنت نہ کی اُس کے اوپر، کہ آج اپنی ہی نظروں میں گر چکا ہوں۔ جو اتنی عزیز بیوی تھی اُسے بھی گنوا دیا، کیا ملا اس بلیم گیم سے کہ وہ اپنی جان سے گئی۔ کاش میں نے اُس رات وہ سب نہ بولا ہوتا تو آج ہم دونوں پہلے کی طرح مل کر اپنے گھر کی تعمیر نئے سرئے سے کرتے، اپنے گھر کی بنیادیں حق پر استوار کرتے۔پتا نہیں کتنا کرب محسوس کیا ہوگا نائلہ نے میری باتوں سے؟ خود پر گولی چلانے کی ہمت کہاں سے آئی ہو گی ؟

افف کتنے سوال ہیں لیکن جواب ایک بھی نہیں، اور اس زندگی میں تو جواب مل بھی نہیں سکتے، بھلا جانے والا ہمارے سوالوں کے جواب دینے لوٹ کر آیا ہے، نہیں کبھی نہیں، جیسے نائلہ کے لیے حرام موت اختیار کرنے کے عذاب سے فرار ممکن نہیں سوائے اس کے میرا اللّٰہ چاہے۔ یا اللّٰہ نائلہ کو اپنے رحم سے بخش دیں، ہم نے تو خود پر ظلم کیا مگر بس آپ کا سہارا ہے ورنہ تو ہم نقصان اٹھانے والوں میں سے ہوجائیں گے۔“

اپنی پرانی باتوں کے ساتھ ساتھ اپنا دین بھی یاد آرہا تھا۔ ایک در بند ہونے سے دوسرا درِ آگہی کھل رہا تھا ۔”ڈیڈ، ایک بات کہوں؟“
”آؤ بیٹا، بیٹھو، ہاں بولو کیا بات ہے“

”میں سمجھ نہیں پارہا کیا کروں، یونیورسٹی جانے کا دل نہیں چاہتا، سوشل میڈیا پر لوگ عجیب باتیں کرتے ہیں، ایسا لگتا ہے کوئی دوست نہیں رہا، سب بدل گئے ہیں، ممی کے جانے سے میں بالکل اکیلا ہوگیا ہوں، دل چاہتا ہے سب کچھ چھوڑ کر کہیں بھاگ جاؤں۔“

”بیٹے، جب تک زندگی ہے اِس سے فرار ممکن نہیں، چاہے دل کتنا دکھے لیکن برداشت تو کرنا ہے اپناغم بھی اور لوگوں کی باتیں بھی۔ اس لیے بہتر ہے کہ اعصاب مضبوط کرو اور حالات کا ہمت سے سامنا کرو“۔
”جی میں کوشش تو کر رہا ہوں لیکن۔۔۔“

”لیکن کیا فراز؟“
”ڈیڈ میں یونہی فارغ بیٹھا تھا تو سوچا کہ چلو موبائل ریسیٹ کر لوں، کال ہسڑی میں پہنچا تو سیٹنگ سے آئیڈیا ہوا کہ میری کالز کسی نے پِلے کی تھیں۔۔۔ میں کیسے کہوں ۔۔۔

کیا آپ نے یا ممی نے؟“
”ہاں بیٹے، نصیب کی بات ہے کہ تمھاری ممی نے یہاں بیٹھ کر ہی موبائل آن کیا تھا اور اسی وقت میں آگیا تو میں نے بھی وہ سب سن لیا تھا۔ بس اس کے بعد میں نے نائلہ کو ہر غلطی کا ذمہ دار ٹھہرایا اور وہ چلی گئی“
”اوہ نو ڈیڈ، وہ نہیں، قصور وار تو میں ہوں، پھر سزا بھی مجھے ہی ملنی چاہیے نا۔

اس دن سے مجھے عجیب فیلنگز آرہی تھیں کہ جیسے دونوں باتیں کہیں نہ کہیں جڑی ہوئی ہیں۔
اب میں کیا کروں؟ کیسے ممی کو واپس لاؤں؟ کیسے ان سے معافی مانگوں؟ کیسے ہر غلط کام کو درست ڈائریکشن میں لے جاؤں؟“
فراز بلک بلک کر رو رہا تھا اور بولے جارہا تھا ۔

مزید پڑھیں : کیا حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم سیاستدان تھے؟

”پتانہیں کیسے میں یہ سب کرنے لگا، پڑھائی میں بھی دل نہیں لگتا، کبھی خود سے گھن آنے لگتی، کبھی ڈر بھی لگتا لیکن پھر دوست اور وہ سب فضول باتیں، گھٹیا موویز مجھے اس طرف لے جاتیں لیکن اب میں تھک گیا ہوں ڈیڈ، مجھے مرنے سے ڈر لگتا ہے.“
سیٹھ صاحب بغور بیٹے کے چہرے کا اتار چڑھاؤ دیکھ رہے تھے۔ اس سے بہتر موقع اور کیا ہوتا جو کہ قسمت سے مل رہا تھا۔

”میرے بیٹے، سزا اور جزا تو صرف و صرف اللّٰہ کے اختیار میں ہے، اس کا فیصلہ کرنے کے مجاز ہم نہیں اور نہ ہی معافی تلافی کرنے کے لیے تمھاری ممی کو واپس لایا جا سکتا ہے۔ البتہ یہ بات اچھی ہے کہ تمہیں خود ہی زندگی کی سمت درست کرنے کا خیال آگیا۔
دیکھو بعض اوقات کسی کو کھونے کے بعد ہی اس چیز کی قدر آتی ہے اور تمھاری ممی کو کھونے کے بعد ہم دونوں کو کئی چیزوں کی قدر و قیمت کا احساس ہورہا ہے۔

جیسے کہ وقت، زندگی، رشتے، رویے،صحیح اور غلط کا فرق۔ تو اب افسوس کرنے سے کیا حاصل، ہاتھ پر ہاتھ رکھے بیٹھ رہنے سے تو وقت کا مزید ضیاع ہی ہوگا“

”ڈیڈ پھر ہمیں کیا کرنا چاہیے؟“

”ہمیں توبہ استغفار کے ساتھ اللّٰہ سے مدد مانگنی چاہیے۔ زیادہ کچھ تو میں خود بھی فی الحال سمجھنے سے قاصر ہوں لیکن اتنا سمجھ میں آیا ہے اور کر بھی رہا ہوں بس تم بھی میرے ساتھ شامل ہو جاؤ“
”کس کام میں شامل ہو جاؤں؟“

”پانچ وقت نماز کی پابندی اور ہر طرح کے حرام سے اجتناب۔ میں فیکٹری میں کسی قسم کا حرام مال نہ کماؤں اور تم ہر طرح کے حرام رشتے سے خود کو بچاؤ۔
مجھے پتا ہے یہ ہم دونوں کے لیے مشکل ہے لیکن دیکھو ہمیں ایک دوسرے کا سہارا بننا ہوگا۔ جیسے دلدل سے نکلنے کے لیے کوئی کنارے سے کسی لکڑی یا ڈنڈے کو پکڑوا کر کھینچتا ہے نا بالکل ویسے ہی ہمیں ایک دوسرے کی مدد کرنی ہوگی اور جیسے تیسے خود کو اس دلدل سے نکالنا ہوگا۔“

”جی ڈیڈ ! آپ کی بات سمجھ تو آرہی ہے۔ مگر کوشش بہت زیادہ کرنی ہوگی، بلکہ ان شاء اللٰہ رکے بغیرمستقل کوشش کرنی ہوگی.“
”ہاں ٹھیک کہا، اور ایک بات بتاؤ کیا تم نے موبائل ری سیٹ کر لیا تھا؟“
”نہیں ڈیڈ، اب اُسے بھی اچھی طرح صاف ستھرا کروں گا“

”شاباش، نہ صرف اپنے موبائل بلکہ پوری لائف کو ری سیٹ کرنے کی تیاری کرو اور ساتھ ہی عصر کی نماز کی بھی کیونکہ اذان کا وقت ہونے والا ہے“اسی وقت اذان کی آواز آنے لگی۔ وہ دونوں بہت سالوں بعد مبہوت ہوکر رب کی پکار سن رہے تھے۔ جو کتنی بار انہیں فلاح و کامیابی کی طرف بُلا کر بھی مایوس نہیں ہوا تھا اور اس رب نے واپسی اور توبہ کے دروازے ابھی بھی کھلے رکھے تھے۔

Show More

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button
Close