ترکی اور یورپ کے مابین معاہدہ لوازن کا اختتام 2023 میں‌ ہو سکے گا ؟

1918ء میں پہلی عالمی جنگ کے اختتام نے ترکی کی شکست و ریخت پر مہریں ثبت کر دیں، برطانیہ کی سربراہی میں فاتح قوتیں ترکی کے بڑے حصے پر قابض ہو گئیں ‏اور پھر فاتح اور مفتوح کے درمیان رسوا کن شرطوں کے ساتھ ایک ظالمانہ معاہدہ ہوا ، جسے”معاہدہٴ لوزان“ (Treaty of Lausanne) کے نام سے جانا جاتا ہے، یہ معاہدہ پورے سو سال پر محیط ہے ۔ معاہدہٴ لوزان کا انعقاد سویزر لینڈ کے ایک شہر ”لوزان“ میں 24 جولائی 1923ء کو اتحادیوں اور ترکی کے درمیان ‏طے پایا تھا ، اس معاہدہ کی رو سے ترکی کے ہاتھ پاؤں باندھ دیئے گئے اور ترکی اگلے سو سال کے لیئے اس معاہدہ پر عمل درآمد کا پابند قرار پایا ، معاہدہ کی دفعات اور ان دفعات میں پوشیدہ یورپ کی مسلم دشمنی بھی ملاحظہ ہو۔

1..اسلامی خلافت ختم کی جائے گی اور اس کی جگہ سیکولر ریاست قائم ہو گی ۔
‏2..عثمانی خلیفہ کو ان کے خاندان سمیت ملک بدر کیا جائے گا ۔
3..خلافت کی تمام مملوکات ضبط کر لی جائیں گی جن میں سلطان کی ذاتی املاک بھی شامل ہوں گی ۔
4..ترکی پٹرول کے لیئے نہ اپنی سر زمین پر اور نہ ہی کہیں اور ڈرلنگ کرسکے گا ، اپنی ضرورت کا سارا پٹرول اسے امپورٹ کرنا ہو گا۔
‏5..باسفورس عالمی سمندر شمار ہو گا اور ترکی یہاں سے گذرنے والے کسی بحری جہاز سے کسی قسم کا کوئی ٹیکس وصول نہیں کر ے گا۔ یعنی سو سال تک ان سب باتوں پر عمل دراآمد کرنا تھا ۔

مزید پڑھیں : مولانا طارق جمیل میڈیا سے متعلق اپنے موقف پر ڈٹ گئے

واضح رہے کہ باسفورس کی سمندری کھاڑی بحراسود، بحر مرمرہ، بحر متوسط کا لنک ہے اور اس کی اہمیت کا اندازہ اس بات سے لگایا جا سکتا ہے کہ یہ عالمی ‏تجارت میں ریڑھ کی ہڈی کی حیثیت رکھنے والی نہر سویز کے ہم پلہ قرار دی جاتی ہے ۔ اس معاہدہ کے ساتھ ہی مسلمانوں کی عظیم سلطنت ”خلافت عثمانیہ“ کی بساط لپیٹ دی گئی اور افریقا، ایشیا اور یورپ تک پھیلی ہوئی عظیم سلطنت بندر بانٹ کا شکار ہو گئی ۔
1۔ عراق، اردن اور فلسطین برطانیہ کے کنٹرول ‏میں چلا گیا ۔
2۔ شام، لبنان، الجزائر اور لیبیا فرانس کے قبضہ میں آ گئے ۔
3۔ اناطولیہ اور آرمینیا کو ترکی سے کاٹ کر آزاد ملک بنا دیا گیا ۔
4۔ حجاز مقدس آل سعود کے قبضہ میں چلا گیا ۔
5۔ خلیفہ کی ملک و بیرون ملک جائیدادیں ضبط کر کے ملک بدر کر دیا گیا ۔ اسی پر بس نہیں ،
6۔ خلیفہ کی معزولی کا‏ پروانہ لے کر اسی صہیونی لیڈر رہرزل کو بھیجا گیا ۔ جسے خلیفہ نے فلسطین کو یہودیوں کے حوالے کرنے کے مطالبہ پر اپنے دربار سے دھتکار کر نکالا تھا ۔ صہیونیوں کی جانب سے یہ لہراتا ہوا وہ خنجر تھا جو خلافت کی قبا چاک کرتا ہوا فلسطین کے سینے میں اتر گیا ۔ (فلسطین کو مسلم سرزمین سے یہودی ملک ‏بنانے کے شرمناک عمل میں آل سعود کا کردار سب کے سامنے ہے)

مذید پڑھیں : محکمہ داخلہ نے مساجد ، دکانوں کیلئے رمضان کا نیا حکم جاری کر دیا

ظلم کی یہ داستان جو مسلمانوں کی یکجہتی پر کھلا وار تھی۔ 2023ء میں انجام کو پہنچنے والی ہے ۔ پھر ترکی اپنے علاقے مانگے گا۔ ملک میں تیل نکال سکے گا ۔اور سب سے بڑی بات یہ کہ اسلام کے نفاذ اور خلافت کی واپسی کی بات کرسکے گا ۔ ‏قیادت بھی جی دار ہے، یہی سبب ہے کہ یہودیوں کے سینوں میں آگ لگی ہوئی ہے ۔ وہ 2023ء سے پہلے اُمتِ مسلمہ کا قلع قمع چاہتے ہیں ۔

Comments: 0

Your email address will not be published. Required fields are marked with *