کیا آپ نے کاغان کا خوبصورت ترین گائوں بٹہ کُنڈی دیکھا ہے ؟

قدرتی کی حسین مناظر کی غمازی کرنے والا یہ گائوں فطرت کے عین قریب ہے

تصویر و رپورٹ  : عمیر اقبال

خیبر پختون خواہ کا ہزارہ ڈویژن قدرت کا شاہکار ہے ۔ اس ڈویژن کا ہرضلع اپنی مثال آپ ہے ۔ کاغان کا ایک خوبصورت چھوٹا سا گاؤں بٹہ کنڈی بھی سیاحوں کی دلچسپی کا مرکز ہے ۔ بٹہ کنڈی ناران سے تقریبا 10 کلو میٹر کے فاصلے پر واقع ہے ۔ اس گاؤں کو کاغان کا دل بھی کہا جاتا ہے ۔

بٹہ کنڈی ہی وہ جگہ ہے جہاں سے تمام دروں کو راستے جاتے ہیں ۔ اسی گاؤں کے عین اوپر بلندی پر لالہ زار کا ایک سر سبز و شاداب میدانی سلسلہ ہے، جو آگے جا کر جھیل سیف الملوک تک جاتا ہے ۔ بٹہ کنڈی ہی سے ایک اور درہ جو وادی سرن (سرن میدان) کو جاتا ہے اور یہی راستہ آگے کشمیر تک جاتا ہے ۔

مذید پڑھیں : دریائے راوی کا خوبصورت منظر

بٹہ کنڈی سے تھوڑا پہلے ایک چھوٹا سا گاؤں سہوچ آتا ہے ، وہاں سے ایک درہ جس کو مقامی لوگ درہ کوہستان کہتے ہیں ، کوہستان کی خوبصورت وادی سپٹ کو جاتا ہے ۔ بٹہ کنڈی گاؤں کی کل آبادی تقریبا 4000 سے زیادہ ہے ۔ یہاں کے لوگوں کا زیادہ تر زریعہ معاش کیھتی باڑی ہے ۔ یہاں کے لوگ اپنے چھوٹے چھوٹے کھیتوں میں مختلف قسم کی سبزیاں کاشت کرتے ہیں ۔ یہاں کی مشہور سبزیوں میں آلو ،مٹر سرفہرست ہیں ۔ گاؤں میں صحت کی بنیادی سہولیات کا فقدان ہے ۔ جس کی وجہ سے مقامی لوگ ناران ، کاغان اور بالاکوٹ کے اسپتالوں پر انحصار کرتے ہیں ۔ کیونکہ اس گاوں میں کوئی دواخانہ ہے نہ ہی کوئی ڈاکٹر ہے ۔ مقامی لوگ اپنے مریضوں کو مانسہرہ ،ایبٹ آباد کے اسپتالوں میں لے جاتے ہیں ۔ بٹہ کنڈی گاؤں سے جو شاہراہ کاغان گزرتی ہے وہ آگے جا کر جل کھڈ، بیسر ،لولوسر،اور بابو سر کو پاس کر کے چلاس سے ہوتی ہوئی گلگت تک جاتی ہے ۔ بٹہ کنڈی میں دو چھوٹی چھوٹی ندیاں بہتی ہیں ، جو تھوڑے ہی فاصلے پر کنڈورہ کے مقام پر ایک دوسرے سے مل جاتی ہیں ۔

بٹہ کنڈی سے شمال کی سائیڈ سے بہنے والی ندی جو گاوں کے بازار سے گزرتی ہے ، اس پر ایک عارضی پل بنایا گیا ہے ، جس سے ایک وقت میں ایک ہی گاڑی گزر سکتی ہے ۔ یاد رہے چلاس اور گلگت جانے والی گاڑیاں اسی پل سے گزر کے جاتی ہیں ۔ گزشتہ سال اسی پل سے ایک اور لوڈڈ ٹرک گزرنے کی وجہ سے پل ٹوٹ گیا تھا ۔ جس کی وجہ سے مقامی لوگوں اور ملک بھر سے آئے ہوئے سیاحوں کو مسائل کا سامنا کرنا پڑا تھا ۔ بعد میں مقامی لوگوں نے اپنی مدد آپ کے تحت اس پل کو ٹریفک کیلیے بحال کر دیا تھا ۔ علاقے کے عوامی نمائندوں نے حکومت سے درخواست کر کے ایک پختہ پل بنانے کا کام جاری ہے۔

مذید پڑھیں : کشمیر کے علاقے اڑنگ کیل کا خوبصورت منظر

بٹہ کنڈی گاؤں میں تعلیمی نظام بالکل نہ ہونے کے برابر ہے ۔ گاؤں میں ایک پرائمری سکول لڑکوں کیلیئے اور ایک لڑکیوں کیلیئے ہے ۔ ہائی سکول نہ ہونے کی وجہ سے یہاں کے بچے اپنی تعلیم کو آگے جاری نہیں رکھ سکتے یا پھر ان بچوں کو مانسہرہ ، بالاکوٹ، گڑھی حبیب اللہ کے سکولوں کا رخ کرنا پڑتا ہے ۔

گاؤں کے تعلیم یافتہ نوجوان نے تعلیمی میعار کو بہتر بنانے کیلیے پرائیوٹ سکول بھی شروع کیا ہے ۔ جو مقامی طلباء و طلبات کو جدید تعلیم سے آراستہ کر رہا ہے ۔ یہی نوجوان مقامی لوگوں کو جمع کر کے بچوں کو تعلیم دلوانے اور ان کی تربیت کرنے کیلیے والدین کے اندر شعور پیدا کرنے کی کوشش کرتا ہے ۔ جس سے مقامی لوگوں میں تعلیم کی قدر و قیمت اور معاشرے پر اس کے اثرات کے بارے میں کافی تبدیلی دیکھی گئی ہے ۔

بٹہ کنڈی گاؤں میں ایک چھوٹا سا بازار بھی ہے ۔ جہاں پرروزمرہ کی اشیاء مل جاتی ہیں ۔ البتہ یہاں اشیاء خورد و نوش باقی علاقوں کی نسبت زیادہ مہنگی ملتی ہیں ۔ اب تو اس گاوں میں لوگوں نے بڑے بڑے ہوٹل اور گیسٹ ہاوسس بنا لیے ہیں ۔ جس سے گرمیوں کے دنوں میں یہاں کافی تعداد میں سیاح قیام کرتے ہیں ۔ بٹہ کنڈی گاؤں وادی کاغان کا سب سے خوبصورت گاوں ہے ،اور ایک دن یہی گاؤں بٹہ کنڈی وادی کاغان کا مرکزی پوائنٹ بن جائے گا ۔ بٹہ کنڈی گاوں میں ٹیلی فون اور موبائل سروس نہ ہونے کی وجہ سے مقامی لوگوں کے علاوہ سیاحوں کو بھی مسائل کا سامنا رہتا ہے ۔ گاوں میں موبائل کمیونیکیشن کی سہولت میسر ہو گی تو خود بخود سیاح بٹہ کنڈی میں ہی قیام کو ترجیح دیں گے ۔

Show More

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button
Close