سندھ کے تعلیمی بورڈز میں مستقل ناظم امتحانات اور سکریٹریز کے عدم تقرری کے باعث صورتحال انتہائی خراب

محکمہ بورڈز و جامعات کی جانب سے سندھ کے تعلیمی بورڈز میں مستقل ناظم امتحانات اور سکریٹریز کے عدم تقرری کے باعث صورتحال انتہائی خراب ہوچکی ہے صرف میٹرک بورڈ کراچی میں ہزاروں پاس طلبہ کو ناکام اور حاضر طلبہ کو غیر حاضر کردیا گیا ہےاور شعبہ امتحانات کی غیر تسلی بخش کارکردگی کے باعث پہلی مرتبہ پورے اسکولوں کے طلبہ پر اجتماعی طور پر(نقل) یو ایف ایم کے کیسز قائم کر دیئے گئے ہیں.

بتایا جاتا ہے کہ ہزاروں طلبہ جو نمایاں نمبروں سے پاس ہیں انہیں مارکس شیٹ میں فیل قرار دیا گیا ہے اس سلسلے میں بورڈ کے آئی ٹی شعبہ کی کارکردگی کی بھی قلعی کھل گئی ہے،بورڈ کے سوفٹ وئیر کی ناکامی کی وجہ سے ہزاروں پاس طلبہ کو فیل اور حاضر طلبہ کو غیر حاضر ظاہر کیا گیا ہے،فیل کیئے جانے والے بیشتر طلبہ کو بیالوجی کے مضمون میں فیل قرار دیا گیا ہےان میں سے بعض طلبہ کے اے ون گریڈ کے نمبرز ہیں مگر بورڈ انتظامیہ نے انہیں فیل کردیا ہے،بورڈ کی اس غلطی کی وجہ سے نمایاں پوزیشنیں حاصل کرنے والے طلبہ کی پوزیشن بھی تبدیل ہوسکتی ہے،اگر ایسا ہوا تو بورڈ کو نمایاں پوزیشنوں پرنظر ثانی کرنی پڑے گی۔ بتایا جاتا ہے کہ ہزاروں طلبہ جنہوں نے پرچے دیئے تھے،مارکس شیٹ آنے پر پتہ چلا ہے کہ انہیں غیر حاضر ظاہر کیا گیا ہے،امتحانات سے قبل اور امتحانات کے دوران درجنوں امتحانی مراکز مافیا کی سفارش پر تبدیل کر دیئے گئے تھے۔ مگر نتائج کے اجرا کے بعد پتہ چلا ہے کہ ان میں سے بیشتر اسکولوں کے طلبہ پر غیر امتحانی مراکز تبدیل کرنے کے الزام میں یو ایف ایم بنا دیئے گئے ہیں یہ بورڈ کی تاریخ میں پہلی بار ہوا ہے،جب بورڈ انتظامیہ کی غلطی کے باعث پاس ہونے کے باوجود فیل قرار دیئے جانے والے طلبہ اپنے مسائل لے کر ناظم امتحانات کے پاس جاتے ہیں تو ان سے کہا جا رہا ہے کہ تحریری درخواست جمع کرائیں اس پر غور کیا جائے گا،یہی جواب غیر حاضر قرار دیئے جانے والے طلبہ کو بھی دیا جا رہا ہے،امتحانی مراکز کی تبدیلی کے باعث یو ایف ایم بنائے جانے والے طلبہ کو بھی طویل طریقہ کار اپنانے کا کہا جا رہا ہے.

دوسری جانب مرکزی داخلہ پالیسی کے تحت انٹر سال اول کے داخلے جاری ہیں اور 20ستمبر تک داخلوں کا عمل مکمل کر کے کلاسز کا آغاز کردیا جائے گا،اگر ان طلبہ کے مسائل بروقت حل نہ کیئے گئے تو ان کا مستقبل تاریک ہونے کا خدشہ ہےقائم مقام ناظم امتحانات خالد احسان نے جنگ سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ نجی اسکولوں کی ایسوسی ایشنز نے آخر میں کچھ اسکولوں کے امتحانی مراکز تبدیل کرادیئے تھے اور متعلقہ سیکشن تک اس کی اطلاع نہ ہو سکی تھی یہ اصل مین سیکشنز کی غلطی تھی جس کی وجہ سے یہ صورتحال ہوئی تاہم اب اس غلطہ کو درست کردیا گیا ہے اور یو ایف ایم والی مارکس شیٹ تبدیل کر کے انھین پاس والی مارکس شیٹ جاری بھی کردی گئی ہیں۔

Comments: 0

Your email address will not be published. Required fields are marked with *