حیدر آباد جو میں نے دیکھا

سندھ میوزیم کا کمال یہ ہے کہ محض ایک گھنٹے میں پوری تاریخ کا مطالعہ کیا جاسکتا ہے ۔ 4 ہزار سال قبل مسیح کی آمری روایت سے لے کر موئن جو-داڑو ، گندھارا، بدھسٹ پریڈ، اسلامی دور (فتح سندھ) اور پھر تالپور پر اختتام کیا ہے ۔ تمام ادوار کی روایت کو خوبصورت انداز میں دکھایا گیا ہے۔ اور ان اقوام کی تیر و تلوار سے شروع ہونے والی جنگیں بارود اور بندوق پر ختم ہوتی نظر آتی ہیں ۔

یہاں انسان کے عروج کا دور نہایت عمدگی سے دکھایا گیا ہے ۔اگر چہ اس میں ڈارون کا نظریہ فلمایا گیا ہے لیکن حسنِ ترتیب کی داد نہ دینا مناسب نہیں ۔

گاؤں دیہات کا نقشہ اس خوبصورتی سے کھینچا گیا ہے کہ حقیقت کا گمان ہوتا ہے ۔ جب میں اندر داخل تو بڑی حیرت ہوئی کہ خواتین یہاں بیٹھی کیا کررہی ہیں.؟ قریب جاکر معلوم ہوا کہ یہ تو مصور کا کمال ہے ۔حقیقت میں کچھ نہیں ۔
یہاں آٹھ ہزار سال پرانے پھتر اور درختوں کے تنے، مختلف اقسام کے پرندے اور جانوروں کے ڈھانچے رکھے گئے ہیں ۔

میوزیم کے سامنے بے نظیر شہید کے نام سے پارک بنا ہوا ہے. دائیں طرف عید گاہ اور رانی باغ جبکہ بائیں طرف لائبریری اور سندھ ثقافت کا مرکز ہے ۔
پکا قلعہ

پکو قلعو حیدرآباد کی تاریخ کا نمایا باب ہے ۔
یہ 1768ء کے سندھ کا مشہور قصبہ نیرون کوٹ ہے ۔یہاں گنجے نامی پہاڑ ہوا کرتا تھا ۔ جس کا معنی "بنجر” کے آتا ہے ۔اس پہاڑ پر پکی اینٹوں سے بنایا گیا یہ قلعہ "پکا قلعہ یا پکو قلعو” کے نام سے شہرت رکھتا ہے اور یہ حیدرآباد کے وسط میں واقع ہے ۔سندھ میوزیم کے ساتھ لائبریری ہے ۔

” کلہوڑو خاندان کے حکمران "میاں غلام شاہ” نے حیدرآباد کو اپنا دارالحکومت بنایا اور کنجو گڑ پہاڑ پر یہ قلعہ تعمیر کرایا۔اور ساتھ یہ چند دیگر عمارتیں بھی بنوائی ۔ قلعہ کا کل رقبہ 38 ایکڑ اراضی پہ مشتمل ہے ۔

اس قلعہ کی دیواریں نہایت عمدگی سے پکی اینٹوں سے بنائی گئی ہیں ۔ تاریخ بتاتی ہے کہ اس کی چوٹی پر خوبصورت کنگرے ہوا کرتے تھے لیکن ابھی موجود نہیں ۔ اب تو یہ ایک رہائشی علاقہ بن چکا ہے جس کی تاریخی حیثیت ختم ہونے جارہی ہے ۔ دیواروں پر چاکنگ ہوئی ہے ۔ گھروں پر سیاسی جماعتوں کے جھنڈے آویزاں ہیں ۔ یہ گویا اشارہ ہے کہ یہاں بھی "قبضہ” ہوتا ہے ۔ 1988 میں یہاں ہونے والا آپریشن ، جو پی پی کی حکومت کے خاتمے کا باعث بنا، بھی یہی خبر دیتا ہے ۔

قلعے کا ایک دروازہ ہے جو شمال میں بازار کی طرف کھلتا ہے ۔اسی کے سامنے حیدرآباد کی مشہور ربڑی ملتی ہے ۔

1789ء سندھ پر ٹالپر خاندان کی حکمرانی آئی اور میر فتح علی خان، خدا آباد سے حیدرآباد منتقل ہوئے ۔ میر فتح علی خان نے اس قلعہ کو اپنا مسکن بنایا ۔ 1784ء میں میر فتح علی خان نے یہاں "میر حرم” تعمیر کرایا ۔ جو ایک الگ یادگار ہے ۔ یہ ایک کمرہ ہے جسے چاروں جانب لکڑی کی جالی والے برآمدے سے مزین کیا گیا ہے ۔کمرے کے چار دروازے ہیں جو دیواروں کے وسط میں بنے ہوئے ہیں ۔اب اس کی دوبارہ مرمت ہورہی ہے ۔اسی کے پاس ہر اتوار پرندوں کا میلہ لگتا ہے ۔

1848 میں شائع ہونے والی کتاب Scenes in a Soldier’s Life میں مصنف جے ایچ ڈبلیو ہال قلعے کی منظرکشی ان الفاظ میں کرتے ہیں۔

‘قلعے کی دیواریں اینٹوں اور پتھروں سے بنی ہوئی ہیں، اور بے حد موٹی ہیں۔ یہ تقریباً آدھے اسکوائر میل پر پھیلا ہوا ہے، اور اس میں 1800 کے قریب رہائشی مکانات ہیں، جن میں سے زیادہ تر سندھ کے امرا کے محلات ہیں۔ اس کے اندر ایک بلند و بالا مینار بھی ہے جس میں اوپر تک پہنچنے کے لیے 76 زینے ہیں، جہاں پر فارسی ساخت کی 84 پاؤنڈ والی چار توپیں موجود ہیں’۔ (بشکریہ ڈان نیوز)

یہ قلعہ "شاہی قلعہ” کے نام سے بھی یاد کیا جاتا رہا ہے. 1843ء میں میانی کی جنگ میں انگریز نے اس قلعے پر قبضہ کیا. چند دیگر عمارتوں کے ساتھ قلعے کی کئی حصوں کو بھی مسمار کیا. یہاں سے قلعے کا زوال شروع ہوا ۔

پکا قلعہ حیدرآباد کی تاریخ کا سرمایہ ہے ۔ افسوس کہ حکومت اور محکمہ آثار قدیمہ کی عدم توجہ کے باعث یہ ختم ہوتا جارہا ہے ۔ دیواریں شکوہِ کناں ہیں ۔فصیل سے اینٹیں گر رہی ہیں ۔تہہ میں دکانیں بن گئی ہیں ۔جوانب میں بڑا بازار اور گھر تعمیر ہوئے ہیں ۔دور سے یا اندر جاکر معلوم ہوتا ہے کہ یہ قلعہ ہے وگرنہ رہائشی سوسائٹی لگ رہی ہے ۔ اگر یہی حال رہا تو پکا قلعہ نہیں رہے گا ۔ اس کے ختم ہوتے ہی حیدرآباد کی تاریخ کا ایک باب بھی بند ہوجائے گا۔ جاری ہے ۔

تحریر : فریدون برکی

Comments: 0

Your email address will not be published. Required fields are marked with *